الوداع ڈیلیا
الوداع ڈیلیا۔۔!! کسی گھڑی، ڈیلیا، ہم تم پھر بہم ہوں گئے۔۔ کون جانے کس دریا کے کنارے، اور اس غیر یقینی مکالمے کو جاری رکھیں گئے۔۔ اور ایک دوسرے سے پوچھیں گئے کہ کسی میدان میں گم ہوتے ہوئے شہر میں ہم کیا کبھی بورخیس اور ڈیلیا تھے۔۔ گیارہویں شاہراہ کے موڑ پر ہم نے الوداع کہا تھا۔۔ سڑک پار کر کے میں ایک بار اور دیکھنے کے لئے مڑا تھا تم بھی اس طرح مڑی تھیں اور تم نے مجھے ہاتھ ہلاکر الوداع کہا تھا۔۔۔ ہمارے درمیان گاڑیوں اور لوگوں کا دریا بہہ رہا تھا۔۔ یہ ایک عام سی سہہ پہر میں پانچ بجے کا وقت تھا، مجھے بھلا کیا معلوم تھا کہ یہ دیومالا کا دریا، اکبرون، ہے، حسرت ناک اور ناقابل عبور۔۔ ہم نے ایک دوسرے کو پھر کبھی نہیں دیکھا، ایک سال بعد تم مر چکی تھیں۔۔ اور اب میں اس یاد کی جستجو کرتا ہوں۔۔ اسے نظروں کے سامنے لاتا ہوں اور جانتا ہوں کہ یہ سب فریب تھا اور اس معمولی سے الوداع کے پیچھے لا انتہا جدائی تھیں۔۔۔ کل رات میں کھانے کے بعد ٹھہر گیا اور ان چیزوں کو سمجھنے کے لئے وہ آخری تعلیمات دوبارہ پڑھنے لگا جو افلاطون نے اپنے استاد سے منسوب کی ہے۔۔ میں نے پڑھا کہ جب جسم مرنے لگے تو...