Posts

Showing posts with the label خلیل جبران

لبنان کاایک چرواہا خلیل جبران

 مصنف:خلیل جبران  بحوالہ کتاب:کلیات خلیل جبران  مرتب : حیدر جاوید سید                      (#لبنانکاایک_چرواہا)  موسم گرما اپنے آخری سانس لے رہا تھا کہ میں نے یسوع  کو شام کے وقت تین آدمیوں کے ہمراہ اس سڑک پر جاتےدیکھا۔وہ چراگاہ کے اس کونے پر جا کر ٹھر گیا۔ میری بانسری کے #نغمے فضا میں بکھر رہے تھے اور میرا گلہ میرے اردگرد چررہا تھا۔جب وہ ٹھر گیا تو میں اپنی   جگہ سے اُٹھا اور اس کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا "ایلیا"کی قبر کہاں ہے؟کیا یہ اُس جگہ کے نزدیک ہی کہیں پر ہے؟میں نے اسے جواب  دیا وہ دیکھئے وہاں پھتروں کے ڈھیر کے نیچے ہے،کیونکہ آج کے دن تک ہر ایک راہ گیر گزرتے ہوئے اس ڈھیر  پر ایک  پتھر رکھ دیتا ہے۔اُس نے میرا شکریہ ادا کیا اور اپنے  ساتھیوں کے ہمراہ چلا گیا۔تین دن کے بعد "گملی ایل" چرواہے نے مجھے بتایا کہ وہ شخص جو اس راہ سے گزرا تھا،یہودیہ میں نبی ہے لیکن میں نے اس کا یقین نہ۔ کیا تاہم کئی دنوں میں  اُس شخص کے متلعق سوچتا رہا۔ بہار کا موسم تھا کہ ی...

مُحبت کی گِیت (خلیل جبران)

 مُحبت کی گِیت (خلیل جبران) مترجم: اظہار احمد باچہ کسی شاعر نے ایک بار مُحبت کی گیت لکھی جسکے بول انتہائی خوبصورت تھے اور اُس شاعر نے اس گیت کی کئی کاپیاں نکالی اور اپنے تمام احباب اور جاننے والوں کو بھیج دیں مَردوں اور عورتوں کو، اور اُس جوان لڑکی کو بھی جو دور پہاڑوں کے پیچھے رہتی تھی اور جس سے وہ صرف ایک بار ملا تھا! ایک دو دن بعد قاصد آیا اور اُس جوان لڑکی کا خط بھی لایا جسمیں لکھا تھا "میں تمہیں یقین دلاتی ہوں کہ تمہاری محبت کی گیت میرے دل کو لگی جو تم نے مجھے لکھی تھی! اب تم آجاؤ اور میرے والدین سے مِلو تاکہ ہم اپنی منگنی کی تیاری کریں"  اور شاعر نے جوابی خط لکھا  "جو تم نے پڑھا وہ فقط محبت کی ایک خوبصورت گیت تھی جو ایک شاعر کے دل سے نکلی تھی! فقط ایک گیت، جو ہر محبت کرنے والا اپنے محبوب کے لئے گاتا ہے"  اور پھر اُس جوان لڑکی نے شاعر کو لکھا "تم؛ لفظوں کے جھوٹے اور مُنافق!  اِس دن سے لے کر اپنے لحد تک، میں تمہاری وجہ سے ہر شاعر سے نفرت کرونگی!!! The love song  By Khalil Jibran.  A poet once wrote a love song, And it was beautiful, And he made a l...

گورکن عربی افسانہ: خلیل جبران

 گورکن عربی افسانہ: خلیل جبران اردو ترجمہ: ابو الحسین آزادؔ سایۂ زیست کی وادی میں جہاں ہر طرف کھوپڑیوں اور ہڈیوں کے ڈھیر لگے تھے میں میلوں تنہا چلتا رہا۔ ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ دھند کے بادلوں نے ستاروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور رات کے پر اسرا سکوت میں خوف اور دہشت کے عفریتوں کا خاموش اور بے آواز رقص جاری تھا۔ میں دریائے اشک و لہو کے کنارے پر جا کر کھڑا ہو گیا۔ جس کی لہریں چتکبرے سانپ کی طرح بل کھا رہی تھیں اور سرکش مجرموں کی طرح جوش مار رہی تھیں۔ میں وہاں کھڑا کان لگا کر بدروحوں کی سرگوشیاں سن رہا تھا اور خلاؤں کو تاک رہا تھا۔ آدھی رات کا وقت ہوا اور بدروحوں کے ڈار کے ڈار اپنی غاروں سے نکل کر ہلڑ مچاتے جنگل کی طرف چل پڑے۔ ایسے میں مجھے اپنے عقب سے بھاری بھاری قدموں کی آہٹ قریب آتی محسوس ہوئی۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک دیوہیکل ڈراؤنی سی پرچھائی میرے سامنے کھڑی تھی۔ میرے پورے بدن میں خوف کی لہڑ دوڑ گئی۔ میں نے کپکپاتی ہوئی آواز سے چیخ کر کہا: "کون ہو تم؟ مجھ سے کیا چاہتے ہو؟" اس نے اپنی چراغ جیسی بھڑکتی آنکھوں سے میری طرف دیکھا پھر دھیرے سے کہا: ...

خلیل جبران کی نظم

 میں بھاگ رہا تھا۔ مرد و زن کے قہقہے مجھ پر برس رہے تھے۔ وہ سب کہہ رہے تھے "میں پاگل ہو چکا ہوں"۔   میں بھاگ رہا تھا اور مردو زن مجھ سے خوفزدہ تھے۔ وہ اپنے گھروں کی اونچی دیواروں کی اوٹ میں چھپ رہے تھے۔ وہ چیخ رہے تھے کہ "میں پاگل ہو چکا ہوں"۔ میں بھاگتا ہانپتا بڑے چوک میں جا پہنچا۔ میں نے دیکھا میرا ایک محبوب چہرہ اپنے گھر کی چھت پر کھڑا بری طرح روتے ہوئے میری طرف دیکھ رہا ہے اور چلا رہا ہے کہ "میں پاگل ہو چکا ہوں"۔ میں نے اس کیطرف نظر اٹھائی تو سورج کی روشن کرنوں نے میرے برہنہ چہرے کا پہلی مرتبہ بوسہ لیا۔ اچانک مجھے احساس ہوا میرا چہرہ تو برہنہ ہے۔ مجھے یاد آیا کہ بہت سارے خداؤں کی پیدائش سے قبل میں ایک گہری نیند سے بیدار ہوا تھا۔ اور پتہ چلا کہ میرے چہرے کے لبادے تو چوری ہو چکے۔ وہ سات لبادے جو میرے چہرے کی برہنگی چھپاتے تھے۔ وہ میرے سات روپ وہ میرے سات بہروپ میں تب باہر بھاگا تھا اور چیخنے لگا ۔۔۔ چور چور چور مگر میرا اصل چہرہ سب نے دیکھ لیا اور وہ سبھی کہہ رہے تھے کہ "میں پاگل ہو چکا ہوں" روشن کرنوں کے بوسے سے میرے دل میں روشنی ہوئی۔ مجھے رو...