Posts

Showing posts with the label شاعری

اگر میں شاعر ہوتی

 ~ اگر میں شاعر ہوتی ~ اگر میں شاعر ہوتی اُن کے بارے میں لکھتی جو نیم شب کام کرتے ہیں ٹرینوں میں ساماں بھرتے مزدوری کرتے آدمیوں پر دستِ شفقت سے لیس ایمرجنسی روم کی نرسوں پر شب گُزاری ہوٹلوں میں  استقبال کرتے کلرکوں پر قبرستانوں کے باہر مُنتظر  ٹیکسی ڈرائیوروں پر شب بھر کُھلے قہوہ خانوں میں چائے پیش کرتی میزبانوں پر ان کو دُنیا کی حقیقت پتا ہے کتنا خوبصورت لمحہ ہوتا ہے جب کوئی آپ کا نام یاد رکھے بناوٹی لیکن مانوس انداز سے پوچھے " کیسے چل رہا ہے؟ بچے کیسے ہیں؟ " انُھیں خبر ہے رات کتنی طویل ہوتی ہے اُنھیں خبر ہے  زندگی کی اُس آواز کی  جب وہ گُزر چُکی ہوتی ہے چھناتے ہوئے،  ہواوں میں جیسے  کوئی کانچ کا دروازہ دے مارے رات کے مزدور  بنا کسی فریب کے رہتے ہوئے تختوں سے خواب پونچھتے ہوئے ساماں بھرتے ہوئے ائیرپورٹ کو مُڑتے ہوئے  آخری سواری کو لیتے ہوئے آئے ہیں۔۔ اقتباس : جینیٹ فیچ ( Book : White Oleander )  مُترجم  :  نودخان ~ If I Were A Poet ~ If I were a poet, I would write about people  who worked in the middle of the night....

نیلسن منڈیلا کی پسندیدہ نظم

 نیلسن منڈیلا کی پسندیدہ نظ م رانا محمد آصف جب اس کی عمر چودہ برس ہوئی تو معالجوں نے بتایا کہ اسے ہڈیوں کی ٹی بی ہے اور زندگی بچانے کے لیے اس کی ٹانگ کاٹنا ضروری ہے۔ سترہ برس کی عمر میں اس کی ٹانگ کاٹ دی گئی۔ کرب و ملال کی اس کیفیت میں اس نے ایک نظم کہی جو آج برسوں بعد بھی زندہ ہے۔ یہ تذکرہ ہے، انگریز شاعر ولیم ارنسٹ ہینلے (William Ernest Henley)  اور ان کی مشہور زمانہ نظم Invictus کا! لیکن اس نظم کا ایک اور حوالہ بھی ہے۔ اپنی کرب ناک بیماری سے لڑتے ہوئے مایوسی میں گھرے ہینلے نے خود کو حوصلہ دینے کے لیے یہ اشعار کہے تھے اور افریقا کے ایک سپوت نے، جو انسانیت کے جسم میں زہر کی طرح سرائیت کرنے والے "نسلی تعصب" کے خلاف لڑرہا تھا، اسی نظم کو اپنی جدوجہد کا ترانہ بنا لیا۔ یہ باہمت نیلسن منڈیلا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے دورِ اسیری میں وہ یہ نظم اپنے جیل کے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ ان کی زندگی میں لندن کے ایک اوپیرا گروپ نے ان کی آواز میں یہ نظم ریکارڈ کرکے اس کی باقاعدہ دُھن تیار کی اور منڈیلا کی زندگی پر بننے والی ہالی ووڈ کی ایک فلم کا نام بھی اسی نظم کے عنوان پر رکھا گ...

بلاعنوان

 بلاعنوان جب سے میں تم سے ملی ہوں میں اپنی جیب میں لیپ اسٹک رکھتی ہوں اپنی جیب میں لیپ اسٹک رکھنا بہت بے وقوفی ہے جب تم مجھے اتنی سنجیدگی سے دیکھتے ہو جیسے تم نے میری آنکھوں میں ایک گوتھک چرچ دیکھا ہو مگر میں کوئی عبادت خانہ نہیں ہوں بلکہ ایک جنگل اور ایک سبززارہ  ہوں پتوں کی کپکپاہٹ، جو تمہارے ہاتھوں میں بھنچتی ہے ہمارے پیچھے، وہاں، ایک چشمہ، شور مچاتا ہے،  یہ وقت ہے، جو ختم  ہوا جا رہا ہے اور پھر بھی تم اسے انگلیوں کے درمیان سے گزر جانے دیتے ہو، اور تم وقت کو جال میں لانا نہیں چاہتے اور جب میں تمہیں الوداع کہتی ہوں، میرے بغیر لیپ اسٹک کے ہونٹ بن چھوئے رہتے ہیں، مگر میں اسی طرح اپنی جیب میں لیپ اسٹک رکھنا جاری رکھتی ہوں، جب سے میں نے جانا ہے کہ تمہارے ہونٹ  بہت خوبصورت ہے۔۔ •••••••••• شاعرہ : ہالینا پوزویاتوسکا مترجم : افضل احمد سید حوالہ : آج رسالہ انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال  ••••••••••   دل بُردہ از من دی روزِ شامے فتنہ درازِ محشر خرامِے روئے مبینش صبح تجلیٰ لوحِ جبینش ماہِ تمامیے  عارض چہ عارض گیسو چہ گیسو  صبحِ چہ صبحِ شامِ چہ شامِے گاہ...

نقاب - شاعری

  نقاب ------------ میری مسکراہٹ  میرے آنسو چھپا لیتی ہے اور قہقہے میری چیخوں کو۔ کچھ سالوں سے یہی سلسلہ ہے جو آتا ہے نظر اصل میں وہ اک دھوکا  ہے۔ یوں تو میں  خوش نظر آتی ہوں  سدا اور ہر رنج و غم سے ماورا لیکن تم کو خبر ہے کیا؟ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو دل میں ہی رہ جاتی ہیں۔ کوئی ذات میری کو جانتا کب ہے۔ کوئی اندر میرے جھانکتا کب ہے۔ کاش میں خوف کی  سب دیواریں  گرا سکتی دل کے راز  سبھی تم کو  بتا سکتی۔ لیکن بس میں  آئینے کے سامنے مسکرا لیتی ہوں۔ سب دکھ  ہنسی میں اڑا دیتی ہوں۔ مجھ کو معلوم ہے۔ یوں دیکھ کر مجھ کو سب یہی کہیں گے۔ کیوں پریشاں ہو۔؟ اداس ہو کیوں؟  بہتر ہے  اپنا علاج کراؤ۔ بس اسی لئے میں نے ذات پہ اپنی اوڑھ لیا  ہے اک نقاب۔ مترجم: یونس فرانس My Mask by Briana M My smile hides my tears. My laugh hides my screams. It's been this way for years. Things aren't as they seem. I always seem so happy. With not a care in the world. But you should know, sadly Many things go untold. Nobody really knows me. They only kno...