اگر میں شاعر ہوتی

 ~ اگر میں شاعر ہوتی ~


اگر میں شاعر ہوتی

اُن کے بارے میں لکھتی

جو نیم شب کام کرتے ہیں


ٹرینوں میں ساماں بھرتے

مزدوری کرتے آدمیوں پر

دستِ شفقت سے لیس

ایمرجنسی روم کی نرسوں پر

شب گُزاری ہوٹلوں میں 

استقبال کرتے کلرکوں پر

قبرستانوں کے باہر مُنتظر 

ٹیکسی ڈرائیوروں پر

شب بھر کُھلے قہوہ خانوں میں

چائے پیش کرتی میزبانوں پر

ان کو دُنیا کی حقیقت پتا ہے


کتنا خوبصورت لمحہ ہوتا ہے

جب کوئی آپ کا نام یاد رکھے

بناوٹی لیکن مانوس انداز سے پوچھے

" کیسے چل رہا ہے؟ بچے کیسے ہیں؟ "

انُھیں خبر ہے

رات کتنی طویل ہوتی ہے

اُنھیں خبر ہے 

زندگی کی اُس آواز کی 

جب وہ گُزر چُکی ہوتی ہے

چھناتے ہوئے، 

ہواوں میں جیسے

 کوئی کانچ کا دروازہ دے مارے


رات کے مزدور 

بنا کسی فریب کے رہتے ہوئے

تختوں سے خواب پونچھتے ہوئے

ساماں بھرتے ہوئے

ائیرپورٹ کو مُڑتے ہوئے 

آخری سواری کو لیتے ہوئے آئے ہیں۔۔


اقتباس : جینیٹ فیچ ( Book : White Oleander )

 مُترجم  :  نودخان


~ If I Were A Poet ~


If I were a poet,

I would write about people 

who worked in the middle of the night. 

Men who loaded trains, 

emergency room nurses with their gentle hands. 

Night clerks in hotels, 

cabdrivers on graveyard, 

waitresses in all-night coffee shops. 

They knew the world, 

how precious it was

 when a person remembered your name, 

the comfort of a rhetorical question, 

'How’s it going, how’s the kids?'. 

They knew how long the night was.

They knew the sound life made as it left. 

It rattled, like a slamming screen door in the wind. 

Night workers lived without illusions, 

they wiped dreams off counters, 

they loaded freight. 

They headed back to the airport for one last fare.


-  Janet Fitch

Comments

Popular posts from this blog

چیخوف افسانہ

عشق کے چالیس اصول

DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ