عشق کے چالیس اصول

 عشق کے چالیس اصول

از ایلف شفق

اردو آڈیو بک

میں طورس پہاڑوں کی ایک وادی میں سادہ لوح دہقانوں کے ہاں پیدا ہوئی۔ میں بارہ برس کی تھی جب رومی نے مجھے گود لیا تھا۔ میرے حقیقی والدین ان لوگوں میں سے تھے جو محنت مشقت کرتے اور وقت سے پہلے بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ ہم چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے۔ میری بہن اور میں ایک ہی کمرے میں اپنے مرحوم بہن بھائیوں کے آسیبوں کے ہمراہ رہتے تھے۔ پانچ بچے جو سادہ سی عام بیماریوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ میں گھر میں واحد تھی جو اُن آسیبوں کو دیکھ سکتی تھی۔ ہر بار جب میں ذکر کرتی کہ وہ ننھی روحیں کیا کر رہی تھیں تو میری بہن دہشت زدہ ہوجاتی اور میری ماں رونے لگتی۔ میں نے سمجھانے کی بے کار کوشش نہیں کی کہ انہیں ڈرنے یا فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ میرے مرنے والے بہن بھائیوں میں سے کوئی بھی دہشت انگیز یا ناخوش نہ تھا۔ یہ بات میں اپنے گھر والوں کو کبھی سمجھا نہ پائی۔ ایک روز ایک تارک الدنیا زاہد ہمارے گائوں سے گزرا۔ اُسے بے حد تھکن زدہ دیکھ کر میرے بابا نے دعوت دی کہ وہ ہمارے گھر میں شب بسری کرے۔ اُس شام جب ہم سب آتش دان کے گر د بیٹھے ہوئے تھے بکرے کے پنیر کے کباب بھون رہے تھے تو اُ س زاہد نے ہمیں دُوردراز علاقوں کی مسحور کن کہانیاں سنائیں۔ اُس کی آواز کی بھنبھناہٹ میں،مَیں نے آنکھیں بند کیں اور اُس کے ہمراہ عرب کے صحرائوں، شمالی افریقہ کے بدوئوں کے خیموں اور نیلے ترین پانیوں والے سمندر کا سفر کیا جسے بحرِاوقیانوس کہا جاتا ہے۔ مجھے وہاں ساحل پر ایک سیپی ملی، بڑی سی اور مرغولے دار اور وہ میں نے اپنی جیب میں رکھ لی۔ میں ساحل کے ایک سرے سے دوسرے تک سیر کرنا چاہتی تھی۔ مگر ایک تیز اور کراہت انگیز بو نے مجھے آدھے راستے میں روک دیا۔ اپنی آنکھیں کھولنے پر میں نے خود کو فرش پر لیٹے پایا جب کہ گھر کے سب لوگ میرے گرد جمع تھے اور فکر مند دکھائی دیتے تھے۔ میری ماں ایک ہاتھ سے میرا سر تھامے ہوئی تھیں اور اُن کے دوسرے ہاتھ میں آدھا پیاز تھا جو وہ مجھے سونگھا رہی تھیں۔ " یہ ہوش میں آگئی ہے !" میری بہن نے خوشی سے تالیاں بجائیں۔ " شکر خدا کا !" میری ماں نے گہری سانس لی۔ پھر وہ اُس زاہد کی جانب مڑ کر بتانے لگیں۔ " بچپن سے کِمیا پر بے ہوشی کے دورے پڑتے تھے۔ ایسا ہمیشہ ہوتا رہتا ہے۔" صبح کو زاہد نے ہماری مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا اور الوداع کہا۔ تاہم رخصت ہونے سے قبل اُس نے میرے بابا سے کہا، " تمھاری بیٹی ایک غیرمعمولی بچی ہے۔ اسے خداداصلاحیتوں س نوازا گیا ہے۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہوگی اگر اس انعام کی قدر نہ کی جائے۔ تمھیں اس کو مدرسے بھیجنا چاہیے۔" " کسی لڑکی کو تعلیم کی کیا ضرورت ہے؟" میری ماں نے بے ساختہ کہا،" تم نے ایسی بات کہاں سے سنی؟ جب تک کہ اس کی شادی نہیں ہوجاتی، اسے میرے ساتھ رہنا اور قالین بننے چاہیں۔ قالین بننے میں یہ بڑی ماہر ہے۔" لیکن زاہد اپنی بات پر قائم رہا۔ "اچھا، یہ کسی روز ایک بہتر عالم بن سکتی ہے۔ یقینا خدا نے تمھاری بیٹی کو لڑکی بنا کر نامہربانی نہیں کی اور اس کوبہت سے انعامات سے نوازا ہے۔ کیا تم خداسے بہتر طور پر جاننے کا دعویٰ کرتی ہو؟" اُس نے پوچھا،"اگر کوئی مدرسہ دستیاب نہیں تو اسے کسی عالم کے پاس بھیجو تاکہ یہ وہ تعلیم حاصل کر سکے جس کی یہ مستحق ہے۔" میری ماں نے اپنا سر جھٹک دیا۔ لیکن میں یہ دیکھ سکتی تھی کہ میرے بابا کی سوچ مختلف تھی۔ تعلیم اور علم سے اُن کی محبت اور میری قابلیت پر ان کی قدروتحسین کو جانتے ہوئے مجھے حیرت نہ ہوئی جب میں نے انہیں کہتے سنا،"ہمیں کسی عالم کے بارے میں نہیں معلوم۔ مجھے وہ کہاں ملیں گے؟" تبھی تھا کہ زاہد نے وہ نام اداکیا جو میری زندگی بدل دیتا۔ اُس نے کہا،" میں قونیہ کے ایک حیرت انگیز عالم کو جانتا ہوں جن کانام ہے، مولانا جلال الدین رومی۔ وہ کِمیا جیسی لڑکی کو تعلیم دے کر خوش ہوں گے۔ اسے اُن کے پاس لے جائو۔ تم اس فیصلے پر کبھی نہیں پچھتائوگے۔" زاہد کے جانے کے بعد میری ماں نے واویلا کرنا شروع کر دیا۔ " میں حاملہ ہوں۔ جلد ہی اس گھر میں کھلانے کو ایک اور منہ آجائے گا۔ مجھے مدد کی ضرورت ہے۔ کسی لڑکی کوکتابوں کی نہیں بلکہ گھرکے کام کاج اور بچوں کی دیکھ بھال سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔" مجھے اچھا لگتا اگر میری ماں نے کسی اور وجوہات سے میرے جانے کی مخالفت کی ہوتی۔ اگر انہوں نے کہا ہوتا کہ وہ میری کمی کو محسوس کریں گی اور برداشت نہیں کریں گی کہ مجھے کسی اور خاندان کے حوالے کر دیا جائے، چاہے عارضی طور پر ہی سہی،اس سورت میں میں، مَیں وہیں کرنے کا انتخاب کر سکتی تھی۔ لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہ کہا۔ بہرصورت میرے بابا قائل تھے کہ زاہدکی بات میں وزن تھا اور چندروز میں،مَیں بھی قائل ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد، میرے بابا اور میں نے قونیہ کاسفر کیا۔ ہم اُس مدرسے کے باہر مولانارومی کے منتظر رہے جہاں وہ تعلیم دیتے تھے۔ جب وہ باہر نکلتے تو میں اس قدر سراسیمہ تھی کہ نگاہ اٹھا کر انہیں نہ دیکھ پائی۔ اس کی بجائے میں نے اُن کے ہاتھوں کو دیکھا۔ ان کی انگلیاں لمبی،نازک اور لچک دار تھیں،کسی عالم سے زیادہ کسی صناع یاہنرمند ہاتھوں کی طرح۔ میرے بابا نے مجھے اُن کی طرف دھکیل کر آگے کیا۔ "میری بیٹی میں خدادادقابلیت ہے۔ لیکن میں سادہ سا آدمی ہوں اور میری بیوی بھی۔ ہمیں بتایاگیا ہے کہ آپ علاقے کی سب سے باعلم شخصیت ہیں۔ کیا آپ اسے تعلیم دینے پر رضامند ہونگے؟" اُن کے چہرے کی طرف دیکھے بغیر میں محسوس کرسکتی تھی کہ مولانارومی حیران نہ تھے۔ وہ اس قسم کی درخواستوں کے عادی رہے ہونگے۔ جب میرے بابا اور وہ بات چیت کرنے لگے تو میں صحن کی جانب بڑھی جہاں مجھے کئی لڑکے تو دکھائی دیئے مگر لڑکی کوئی نہیں۔ لیکن واپسی پر مجھے ایک خوشگوار حیرت ہوئی جب میں نے ایک گوشے میں ایک نوجوان عورت کو اکیلے کھڑے پایا،اُس کا چہرہ اتناساکن اور گوراتھاجیسے سنگِ مرمر کو تراش کر بنایا گیا ہو۔ میں نے اس کی جانب ہاتھ ہلایا۔ وہ حیرت زدہ دکھائی دی لیکن ذرا سی ہچکچاہٹ کے بعد اُس نے میری طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔ "سلام،ننھی لڑکی،کیا تم مجھے دیکھ سکتی ہو؟"اُسنے پوچھا۔ میرے اثبات میں سر ہلانے پر وہ عورت مسکراتے ہوئے تالیاں بجانے لگی۔ "حیرت انگیز بات ہے !اور تو کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا !" ہم واپس میرے بابا اور مولانارومی کی طرف آئے۔ میراخیال تھا کہ وہ اُسے دیکھ کر باتیں کرنا بند کر دیں گے لیکن وہٹھیک کہتی تھی۔ وہ اُسے دیکھ نہیں پائے۔ "یہاں آئو،کِمیا۔"مولانارومی نے کہا،"تمھارے بابانے مجھے تعلیم حاصل کرنے کے تمھارے شوق کا بتایاہے۔ مجھے بتائو،کتابوں میں ایسا کیا ہے جوتمھیں سب سے زیادہ پسندہے؟" جواب دینے کے ناقابل،مفلوج، میں نے مشکل سے تھوک نگلی۔ "بتائو،میری پیاری بچی۔" میرے بابا نے مایوس سا ہوکرمجھ سے کہا۔ میں درست طورپر جواب دینا چاہتی تھی، ایساجواب جس پرمیرے بابا کو نازہوتا،ماسوائے اس کے کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ کیا جواب تھا۔ اپنے اضطراب میں میرے منہ سے جو واحدآواز نکلی،وہ تھی ایک نا امیدسی ہچکی۔ اگراُس نوجوان عورت نے مداخلت نہ کی ہوتی تو میں اور باباخالی ہاتھ ہی واپس گائوں جاتے۔ اُس نے میراہاتھ تھاما اور بولی،"بس اپنے بارے میں سچ بتادو۔ سب ٹھیک ہوجائےگا، میں وعدہ کرتی ہوں۔" بہترمحسوس کرتے ہوئے میں مولانارومی کی طرف مڑی اور بولی،"آفندی،آپ کے ساتھ قرآن پاک پڑھنا میرے لیے اعزاز ہوگا۔ میں محنت سے خائف نہیں ہوں۔" مولانارومی کاچہرہ روشن ہوگیا۔ "یہ بہت اچھی بات ہے۔"انہوں نے کہا اور پھر انہوں نے توقف کیا،یوں جیسے انہیں ابھی ابھی ناگوار تفصیل یاد آگئی ہو۔ "لیکن تم ایک لڑکی ہو۔ چاہے ہم خوب محنت سے تعلیم حاصل کریں اور خوب ترقی کریں،جلد ہی تمھاری شادی ہوجائے گیاور تمھارے بچے ہوں گے۔ برسوں کی تعلیم بےکار ہوجائےگی۔" اب مجھے معلوم نہ تھا کہ کیا کہوں اور میں بددل ہوگئی،تقریباقصوروار۔ میرے بابا بھی پریشان دکھائی دئیے۔ اچانک اپنے جوتوں کا جائزہ لینے لگے تھے۔ ایک بار پھر وہی نوجوان عورت میری مدد کو آئی۔ "انہیں بتائو کہ ان کی بیوی ہمیشہ یہی چاہتی تھی کہ اُس کی کوئی بیٹی ہواور اب وہ انہیں کسی بچی کو تعلیم دیتے دیکھ کر خوش ہوگی۔" جب میں نے پیغام مولانارومی کو پہنچایا تو وہ ہنس دئیے۔ "سو لگتاہے کہ تم میرے گھر گئی تھیں اور میری بیوی سے بات کی۔ لیکن میں تمھیں تسلی دے دوں کہ کیرامیری تدریسی ذمہ داریوں میں کبھی دخل نہیں دیتی۔" نوجوان عورت نے آہستگی اور واماندگی سے سر جھٹکا اور میرے کانوں میں سرگوشی کی،"انہیں بتائو کہ تم ان کی دوسری بیوی کیراکے متعلق بات نہیں کررہی۔ تم گوہرکے بارے میں بات کر رہی تھی،ان کے دوبیٹوں کی ماں کے بارے میں۔" " میں گوہرکی بات کر رہی تھی۔" میں نے احتیاط سے دیکھ بھال کر نام کا صحیح تلفظ اداکرتے ہوئے کہا۔ "آپ کے بیٹوں کی ماں۔" مولانارومی کاچہرہ زرد پڑ گیا۔ "گوہر مر چکی ہے، میری بچی۔ "انہوں نے روکھے پن سے کہا،"لیکن تم میری مرحومہ بیوی کے بارے میں کیا جانتی ہو؟کیا یہ کوئی بے لطف لطیفہ ہے؟" میرے بابا آگے بڑھے۔ "مجھے یقین ہے کہ اس کی نیت بری نہیں تھی آفندی۔ میں آپ کو یقین دلاسکتا ہوں کہ کِمیا ایک سنجیدہ بچی ہے۔ وہ اپنے بڑوں سے کبھی بدتمیزی نہیں کرتی۔"  مجھے اداراک ہوا کہ مجھے سچ بتادینا چاہیے تھا۔ " آپ کی مرحومہ بیوی یہاں موجودہیں۔ وہ میرا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں اور بولنے کے لیے میری حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔ ان کی گہری بھوری بادامی آنکھیں ہیں،چہرے پر خوبصورت چھائیاں اور وہ لمبازردلباس پہنے ہوئے ہیں۔" میں نے توقف کیا، جب دیکھا کہ نوجوان عورت نے اپنی چپلوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔ "وہ چاہتی ہیں کہ میں آپ کو اُن کی چپل کے بارے میں بتائوں۔ وہ شوخ نارنجی ریشم کے بنے ہیں اور ان پر چھوٹے چھوٹے سرخ پھولوں کی کشیدہ کاری کی گئی ہے۔ وہ بہت خوبصورت ہیں۔" " میں نے اُسے وہ چپل دمشق سے خرید کر دی تھیں۔"مولانارومی نے کہا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔ "اُسے وہ بہت پسندتھیں۔" یہ کہ کر مولانا رومی اپنی ڈاڑھی کھجاتے ہوئے خاموشی میں غرق ہوگئے۔ اُن کے تاثرات سنجیدہ، متین اور کھوئے ہوئے تھے۔ لیکن جب انہوں نے دوبارہ بات کی تو ان کالہجہ نرم اور دوستانہ تھا، کسی افسردگی کے شائبے سے پاک۔ "اب میں سمجھا کہ کیوں ہر کوئی سمجھتا ہے کہ تمھاری بیٹی خداداد قابلیت رکھتی ہے۔"مولانا رومی نے میرے بابا سے کہا،"آئیے میرے گھر چلیں۔ ہم رات کے کھانے پراس کے مستقبل کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ایک شان دار طالبہ علم بنے گی۔ بہت سے لڑکوں سے بہتر۔" پھر مولانارومی میری جانب مڑے اور پوچھا،"کیا تم گوہر کو یہ بات بتادوگی؟" "اس کی ضرورت نہیں ہے آفندی۔ وہ آپ کی بات سن چکی ہیں۔" میں نے کہا،"وہ کہتی ہیں کہ اُنہیں اب جانا ہوگا۔ لیکن وہ ہمیشہ محبت سے آپ کی نگران ہیں۔" مولانارومی گرم جوشی سے مسکرا دئیے۔ میرے بابابھی۔ فضا میں وہ خوبی اور سہولت تھی جو اس سے پہلے نہ تھی۔ اُس لمحے میں جان گئی کہ مولانارومی سے میری اس ملاقات کے نتائج دُورتک جائیں گے۔ میں اپنی ماں کے قریب نہ رہی تھی لیکن یوں جیسے اس کمی کی تلافی کے لیے خدا مجھے دوباپ دے رہا تھا،میرے حقیقی والد اور میرے لے پالک والد۔ یوں میں آٹھ برس قبل مولانارومی کے گھرآئی تھی۔ اگرچہ میں اپنے باپ اور بہن بھائیوں کی کمی محسوس کرتی تھی مگر کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جب مجھے قونیہ آنے اور مولانارومی کے خاندان میں شامل ہونے پر پچھتاوا محسوس ہوا ہو۔ میں نے اس چھت تلے بہت سے خوشیوں بھرے دن گزارے۔ یعنی،جب تک شمس تبریز نہ آئے۔ اُن کی آمد اور موجودگی نے سب کچھ بدل دیا۔

مکمل تفصیل اس لنک میں

Comments

Popular posts from this blog

چیخوف افسانہ

DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ