تُرکی افسانہ: تپتی دھوپ
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ: تپتی دھوپ تحریر: یشار کمال (تُرکی) مترجم: کرنل (ر) مسعود اختر شیخ (اسلام آباد ، پاکستان) بچہ: "اماں۔ ۔ اماں ! کل صبح سے پہلے مجھے جگا دینا۔" "تم پھر نہیں جاگو گے۔" "ناجاگوں تو میرے جسم میں سوئی چبھونا، میرے بال کھینچنا، میری پٹائی کرنا۔" پیلے چہرے والی پتلی دبلی عورت کی سیاہ آنکھوں میں خوشی سےبھرپور چمک دوڑ گئی۔ "اور اگر تم پھر بھی نہیں جاگے تو؟" "مجھے مار ڈالنا۔" عورت نے اپنی پوری قوت سے بیٹے کو گود میں لے کر سینے سے دباتے ہوئے کہا: "میری جان!" "اگر میں پھر بھی نہ جاگا تو۔۔۔۔۔" یہ کہہ کر بچہ سوچ میں ڈوب گیا۔ پھر اچانک بول اُٹھا؛ "تو پھر میرے منہ میں مرچیں ڈال دینا۔" ماں نے ایک بار پھر اسی مادری شفقت کے ساتھ بچے کو چھاتی سے لگا کربوسہ دیا۔ ماں کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔ بچے نے رُکے بغیر پھر کہا، "دیکھو اماں۔۔ اگر میں نہ جاگا تو میرے منہ میں مرچیں ڈال دینا۔۔ ٹھیک ہے ناں؟" ماں نے پھر کہا ۔ "میری جان!" "مرچیں خوب کڑوی ہونی چاہیں۔...