جنگی قیدی عراقی افسانہ
جنگی قیدی مصنفہ : مونا فاضل (عراق) مترجم: خلیل الرحمان کتاب: فلیش فکشن انٹرنیشنل 2015 ساحرہ دروازے کے فریم میں کھڑی اپنے بابا کو واضح ہوتا دیکھ رہی تھی ، جبکہ صبح کا سورج اس کے دودھیا سفید باورچی خانے کو روشن کر رہا تھا۔وہ سنگ مرمر کی میز پر بیٹھا ایک ریڈیو ٹرانزسٹر کی تاروں کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہا تھا۔سورج کی دھوپ براہ راست اس پر سے گزر رہی تھی۔ساحرہ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر صالح شانے جھٹک کر اس سے ایسے غائب ہوا جیسے کہ سفید دیواروں پر سے سراب غائب ہوتا ہے۔ صالح اپنے سامنے پھیلے ہوئے برقی آلات کو حیرت سے تک رہا تھا۔وہ ایسے بالکل بھی نہیں لگ رہے تھے جیسے آج سے بیس برس قبل دکھتے تھے جب اسے پہلی بار ایرانیوں نے پکڑا تھا۔ اب وہ اپنا زیادہ تر وقت ان پر تحقیق میں گزارتا تھا۔قید میں، ہر شے یکسانیت کا شکار تھی۔قیدی ایک دوسرے کو ایک ہی کہانی بیسیوں بار سناتے تھے اور یوں ظاہر کرتے تھے جیسےکہ وہ اس کہانی کو پہلی بار سن رہے تھے۔ساحرہ اس کو دیکھ کر مسکرائی۔وہ اپنے کام میں مگن ایک چھوٹے بچے کے جیسے لگ رہا تھا۔ وہ سنک کی طرف ترکاری دھونے اور اسے خشک کرنے کیلیے بڑھی۔ ساحرہ...