کہانی کو کہنے والے کی تلاش رہتی ہے
کہانی کو کہنے والے کی تلاش رہتی ہے اور کہنے والے کو کہانی کی ۔۔۔! اور جب وہ کہی جا چکے ۔۔۔تو اپنے پڑھنے والے تک خود پہنچ جاتی ہے ۔۔ تکون صرف محبت کی تھوڑی ہوا کرتی ہے! کیا ہے جو کہانی نہیں ہے؟ ہر فرد گزشتہ سے پیوستہ ۔۔ایک کہانی ہی تو ہے ۔۔ زمانے کی ہر راہ گزر ۔۔جس پر قدموں کے نشان ہیں ۔۔کہانی ہے ۔ لیکن ہر کہانی کو کہنے والا ملے۔۔یہ ضروری نہیں ۔۔ اور جس کہانی کو کہنے والا مل جائے ۔۔اور ماہ و سال کی قید سے آزاد ۔۔وہ سرحدیں پار کرتی ۔۔دوسری زبانوں کے پیرہن اوڑھتی ۔۔پڑھنے والوں کے فہم تک رسائی حاصل کرتی رہے ۔۔ایسی کہانیاں امر ہو جانے کی سند رکھتی ہیں ۔۔۔ کہانی اور بچپن کا گہرا تعلق ہے ۔۔جب ۔۔تصور کی سرزمین پر تحیر کی پھوار برستی ہے ۔۔اور یہ لطف کو زرخیز کرنے کے ہنر سے آراستہ کرتی ہے اور یہی وہ لطف ہے جو شعور کے مدارج طے کرتے رہنے کے باوجود ۔۔بچپن کے تحیر کو فراموش نہیں کرتا ۔۔ کہانی کے طلسماتی سفر پر تخیل کے خیرہ کن پنکھ قاری کو حیرت، شوق اور گداز کی وادیوں میں لئے اڑتے ہیں ۔۔جہاں کی خوش نمائی اس کی روح کو لطافت عطا کرتی ہے ۔۔تو کبھی درد کے دریا میں بہہ جانے کی آرزو اسے بے...