کہانی کو کہنے والے کی تلاش رہتی ہے

 کہانی کو کہنے والے کی تلاش رہتی ہے اور کہنے والے کو کہانی کی ۔۔۔!

اور جب وہ کہی جا چکے ۔۔۔تو اپنے پڑھنے والے تک خود پہنچ جاتی ہے ۔۔

تکون صرف محبت کی تھوڑی ہوا کرتی ہے! 

کیا ہے جو کہانی نہیں ہے؟ 

ہر فرد گزشتہ سے پیوستہ ۔۔ایک کہانی ہی تو ہے ۔۔

زمانے کی ہر راہ گزر ۔۔جس پر قدموں کے نشان ہیں ۔۔کہانی ہے ۔

لیکن ہر کہانی کو کہنے والا ملے۔۔یہ ضروری نہیں ۔۔

اور جس کہانی کو کہنے والا مل جائے ۔۔اور ماہ و سال کی قید سے آزاد ۔۔وہ سرحدیں پار کرتی ۔۔دوسری زبانوں کے پیرہن اوڑھتی ۔۔پڑھنے والوں کے فہم تک رسائی حاصل کرتی رہے ۔۔ایسی کہانیاں امر ہو جانے کی سند رکھتی ہیں ۔۔۔

کہانی اور بچپن کا گہرا تعلق ہے ۔۔جب ۔۔تصور کی سرزمین پر تحیر کی پھوار برستی ہے ۔۔اور یہ لطف کو زرخیز کرنے کے ہنر سے آراستہ کرتی ہے اور یہی وہ لطف ہے جو شعور کے مدارج طے کرتے رہنے کے باوجود ۔۔بچپن کے تحیر کو فراموش نہیں کرتا ۔۔

کہانی کے طلسماتی سفر پر تخیل کے خیرہ کن پنکھ قاری کو حیرت، شوق اور گداز کی وادیوں میں لئے اڑتے ہیں ۔۔جہاں کی خوش نمائی اس کی روح کو لطافت عطا کرتی ہے ۔۔تو کبھی درد کے دریا میں بہہ جانے کی آرزو اسے بے قرار رکھتی ہے ۔

ڈاکٹر صہبا جمال شازلی صاحبہ نے اپنے ادبی ذوق کا لطف دوبالا کرنے کے لیے ایسی ہی کچھ عمدہ کہانیوں کا انتخاب اور ترجمہ اردو کے پڑھنے والوں کے لیے پیش کیا ہے ۔۔جو عالمی ادب کے گلستاں سے چنے گئے خوبصورت گلابوں پر مشتمل ہے ۔۔کہ جن کی خوشبو آج بھی پڑھنے والوں کے تخیل کو مہکا رہی ہے ۔۔

ادب میں ماورائی حیثیت اختیار کرنے والی تخلیق کا سرچشمہ عمیق مشاہدہ، حساس شعور اور تدبر تھا ۔۔جس نے فنکار کو بے بدل مقام عطا کیا ۔۔وہ پھر قدرت کے مظاہر کی توصیف ہو یا لازوال رومانوی شاعری ۔۔یا دنیا کو سٹیج کہنے والے ڈرامہ نگار ۔۔۔یا پھر سلیقے سے معاشرے کے منافقانہ رویوں سے نقاب اتارنے والے کہانی نگار ۔۔۔

فرانس سے اس کی ایک نمائندہ مثال موپساں کا نام ہے جن کی کہانی "مصنوعی زیورات "اس گلدستے کی پہلی کلی ہے ۔

آب رواں کی مثال موپساں کے کے قلم کی روانی پر صادق آتی ہے ۔۔

کہانی کا جادوئی قالین ہمیں فرانس لئے چلتا ہے ۔۔جہاں گلیوں اور بازاروں کی ایک جھلک ہمیں ٹائم مشین کے سفر جیسا تحیر عطا کرتی ہے ۔۔

سادہ سی محبت اور ملن  (جس کا نا ممکن ہونا ہی کہانیوں کا دکھ بنتا ہے )کی کہانی ۔۔

خوش باش ازدواجی زندگی کے خمار میں ایسا کیا ہو گیا کہ کسی فریق نے دوسرے کو برا بھلا نہیں کہا دشنام طرازی اور بدنامی کی نوبت بھی نہیں آئی اور قاری کو معلوم ہو گیا کہ کس نے کس کے ساتھ بے وفائی کی ۔۔۔

فنکار کو امر کرنے والی کہانیاں دراصل سطح پر موجود بیانئے کی بجائے ایک ان کہی سے لپٹی ہوتی ہیں ۔۔اور یہی ان کہی اس فنکار کے فن کی معراج ہوا کرتی ہے ۔

ٹی بی کے عارضے مبتلا ہو کر ۔۔1923 ء میں اس جہان رنگ و بو کو محض چونتیس سال کی عمر میں الوداع کہنے والی کیتھرین مینسفیلڈ کی حیات تو مختصر رہی ۔۔مگر ان کی کہانیاں جاوداں ہو گئیں ۔۔۔

جزئیات نگاری ۔۔انگریزی ادب کے کینوس پر منی ایچر کا تصور ابھارتی ہے ۔کیتھرین کی کہانیوں میں اس مہارت کا عروج اور بہاو کی لطافت اپنے حسین امتزاج کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے ۔۔جہاں منظر نگاری ۔۔پر سکون بہاو کی نرمی اور دھیرے سے روشن ہوتے کرداروں کو دیکھنا ۔۔سننا اور ان کے محسوسات میں خود کو شریک سمجھنا ۔۔۔ایک جادوئی تجربہ ہے ۔۔۔!

کہانی ۔۔اگر پڑھنے والے کے لطیف ذوق کی تسکین کا سامان کرتی ہے ۔۔تو آبیاری بھی اسی کا وصف ہے ۔۔

کیتھرین کی کہانیوں میں طبقاتی تقسیم اور اس بنیاد پر روا رکھے گئے امتیازی اور متعصب رویے کو جس سادگی اور سلیقے سے بیان کیا گیا ہے ،وہ اپنی مثال آپ ہے ۔زمانے گزر گئے، مگر اس تقسیم اور تعصب نے آج بھی فرد کی دنیا کو گھیرا ہوا ہے ۔لیکن آج اس کا ظہور بھی پر تشدد ہے اور اظہار بھی! 

"گڑیا گھر "ایسی ہی ایک کہانی ہے ۔۔جہاں زندگی کے حساس ترین دور سے گزرتے ،معصوم ذہنوں کو در پیش سنگین معاشرتی اونچ نیچ سے گزرتے دکھایا گیا ہے ۔بچے ہی آنے والے دنوں کی بنیاد ہوا کرتے ہیں ۔۔ماحول اور تربیت مل کر ان کی شخصیت کی پرداخت کرتے ہیں ۔۔جس کا عکس مستقبل کے معاشرے کی صورت گری میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔۔تو ایسے نازک وقت میں ان شفاف سطحوں پر کیا درج کیا جاتا ہے ۔۔۔یہی چیز معاشرے کی تصویر دیکھنے کے لئے جام جم کا کام کرتی ہے ۔۔

"گڑیا گھر "ہمارے نصاب میں شامل تھی ۔۔اور عمر کے اولین دور کی کہانیوں سے وابستگی کبھی فراموش نہیں ہوتی ۔۔ان کہانیوں کے دیے ہوئے دکھ ۔۔۔زندگی کے دکھوں سے سوا ۔۔مختلف اور عزیز ہوتے ہیں ۔۔۔یہ ہمارے نہیں ہوتے ۔۔لیکن ہمیں احساس کی شراکت سکھا دیتے ہیں اور شاید یہی ان کا بلند ترین ہدف ہوتا ہے ۔۔!

"چائے کی پیالی "بھی کیتھرین کے ذہن رسا کا موثر اظہار ہے ۔جہاں آپ چند ہی لمحوں میں معاشرے کو تقسیم کرتی حد فاصل کا نظارہ کرنے والے ہیں ۔۔جس کی ایک جانب امارت کی دلکش رنگینی، نزاکت اور لطافت ہے تو دوسری جانب بھوک سے نڈھال ہو کر ۔۔بے ہوش ہونے کے قریب، چائے کی ایک پیالی کی درخواست ۔۔۔

کہانی میں موجود معاشرے کی دو انتہائیں دریا کے دو کناروں کی طرح بہتی ہیں ۔۔اس کہانی میں دولت مندوں کی ہمدردی پر لطیف سا طنز بھی موجود ہے ۔۔۔جو وہ شہرت یا تفریح طبع کی خاطر،  ظاہر کرتے ہیں ۔

"کیوں نہ میں اس لڑکی کو اپنے گھر لے جاوں؟ کیا یہ سنسنی خیز نہ ہو گا؟ اپنے دوستوں کو حیران کر سکتی ہوں کہ،میں بس ایسے ہی اس لڑکی کو گھر لے آئی"۔پس روز میری بے لڑکی سے کہا، میرے گھر چل کر ساتھ میں چائے پیتے ہیں "

اس دعوت کی بے یقینی سے یقین تک کا سفر دو انتہاؤں کے بیچوں بیچ طے ہوا ۔۔۔

"لڑکی نے رونا بند کیا اور روز میری نے میز برابر کی اور ڈھیر سارے کھانے سجا دیے ۔سینڈوچز،بریڈ اور بٹر اور جیسے ہی لڑکی کا کپ خالی ہوتا تو روز میری پھر سے اسے چائے، کریم اور شکر سے بھر دیتی "

لیکن امیروں کے دکھ ہمیشہ عجیب ہوتے ہیں ۔۔کیونکہ وہ غریب نہیں ہوتے! 

کہانی ۔۔دولت مند خاتون کی خود کو خوبصورت سننے کی نا آسودہ خواہش پر تمام ہوتی ہے  ۔جو کہ اس کا شوہر ۔۔چائے کی میز پر موجود لڑکی کے لئے کہہ چکتا ہے ۔۔رات کے کھانے کی پیشکش کو روز میری اپنے لئے خطرہ جان کر جس سرعت سے سد باب کرتی ہے ۔۔وہ بھی شاید دولت کی عطا کردہ فہم کا نتیجہ ہو ۔۔۔!

"گارڈن پارٹی "اس مجموعے میں شامل ایک اور خوبصورت کہانی ہے ۔روز مرہ کے معمولات میں سے معاشرے کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھنا ۔۔کسی عام ذہن کے بس کی بات نہیں ۔۔۔اور یہی وہ باریک بینی ہے جو ادیب کو دوسرے فرد سے ممتاز کرتی ہے ۔۔

اس کہانی میں خوش وقتی کی خاطر دعوت کے اہتمام کی تیاریاں ۔۔۔نفاست اور ذوق و شوق دکھایا گیا ہے، جہاں موسیقی، کھانے پینے کی عمدہ چیزیں ۔۔سجاوٹ کے لئے پھولوں کا انتخاب اور بیٹھنے کے لئے بہترین جگہ جیسے انتظامات ہو رہے ہیں ۔۔۔ان مرحلوں سے کہانی ۔۔۔لکھنے والا اور پڑھنے والا سبک روی سے گزرتے ہیں کہ اچانک رونما ہونے والا حادثہ ایک موت کی خبر لاتا ہے ۔۔۔مرنے والا ایک عام آدمی ہے ۔۔جو اس دعوت والے گھر کے باہر حادثے کا شکار ہوا ۔۔لارا اس گھر کا حساس فرد اور کہانی کا مرکزی کردار ہے ۔۔۔دعوت کو روکنے کے لیے اس کی ہر استدعا اچنبھے اور جوابی استدلال کے ساتھ رد کر دی جاتی ہے ۔۔اور ایسے دلائل وضع کئے جاتے ہیں کہ نا چاہتے ہوئے ۔۔۔لارا بھی پارٹی کو نا صرف جاری رکھنے بلکہ شرکت پر بھی آمادہ ہو جاتی ہے ۔۔

طبقاتی دیواروں کو گرانا ۔۔۔دیوانے کا خواب ہو سکتا ہے ۔۔مگر کچھ زندگیاں اس خواب کو سینچتے گزر جانے میں ذرا بھی ہرج نہیں سمجھتیں ۔۔اور یہ لڑائی ہر دور میں مختلف طریقوں سے لڑی گئی ہے ۔۔اس کہانی میں امیر اور غریب کا فرق تو دکھایا گیا ہے ۔۔مگر نفرت کی بجائے ہمدردی کا واضح احساس بھی موجود ہے ۔ جیسا کہ پارٹی اور کہانی کے اختتام پر لارا اپنے گھر سے ٹوکری بھر کر کھانے پینے کی اشیا لے کر موت والے گھر لے کر جاتی ہے ۔۔جو کہ ایک مختلف تہذیب اور تربیت کا علمبردار رویہ ہے! 

وہاں موجود بے جان لاشے کو دیکھ کر لارا کا حساس دل زندگی کی بے ثباتی اور موت کو آزادی کے پروانے جیسا خیال کر کے مغموم رہتا ہے ۔۔

اور اگلی خوبصورت کہانی "ما پارکر کی زندگی "ہے ۔دکھ بھری زندگی کے مصائب جھیلتی ایک گھریلو ملازمہ کی زندگی پر اتنی تفصیل سے روشنی ڈالنے کا وقت ہر ایک کے پاس کہاں تھا؟ 

یہ لکھنے والے کی زود حسی کا کمال فن ہے کہ آج تک پڑھنے والا اس کرب میں لمحاتی طور پر ہی سہی ۔۔خود کو شریک سمجھتا ہے ۔ماپارکر کی زندگی کی آخری خوشی بھی بیماری اور موت کے ہاتھوں چھن گئی ۔۔

کام پر واپس پہنچ کر ۔۔اس کے قلب و ذہن میں چلنے والی یادوں کی ریل ہم بھی دیکھ پاتے ہیں ۔۔

کیتھرین کی کہانیاں ۔۔امارت کی نقشہ کشی ۔۔۔غربت اور مصائب کے تعلق ۔۔۔زندگی اور موت کے تذکروں سے پر ہیں ۔۔۔بنیادی کلید ایک ہونے کے باوجود ۔۔زندگی کی ہمہ رنگی کی طرح کہانی بھی ۔۔ہر دوسری سے مختلف ہے ۔۔لگاتار صدمات سے ہار نا ماننے والی ماپارکر ۔۔۔اس دھچکے پر رونا اور چلانا چاہتی ہے ۔۔مگر نا کندھا میسر اور نا کوئی گوشہ ۔۔۔۔۔۔

"سرمئی گھوڑا "جسے کہانی میں گرے گینگر کہا جاتا ہے۔۔ایک خوبصورت گھوڑے کی محبت میں مبتلا کسان کی کہانی ہے ۔۔

انسان کا انسان ہونا، اسے جس ہمہ گیریت میں داخل ہونے کا وصف عطا کرتا ہے ۔۔مقام حیرت ہے کہ انسان اس سے محروم رہ جانے کے سبب سے بھی آگاہ نہیں ہو پاتا ۔۔!

اس کہانی میں ایسے ہی ایک انسان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے جو ایک خوبصورت سرمئی گھوڑے کا مالک ہے ۔مگر اپنی تنگ نظری اور کم حوصلگی کے باعث گھوڑے پر صرف حق ملکیت جتاتے اور دوسروں کو اپنے گھوڑے کی طرف دیکھ کر ملنے والی خوشی سے حسد کرتے ہوئے ہی نظر آتا ہے ۔

اس مختصر مگر تہہ دار کہانی میں عمروں کے تفاوت کے باعث در  آنے والے باہمی تعصبات، فطری خواہشات پر قدغن لگانے کی آمرانہ منطق ۔۔نوجوانی کی مسرت اور امنگ ۔۔کھیتی باڑی اور موسموں کے مزاج ۔۔خراب فصلوں کی زد میں آئے کسانوں کے خراب معاشی حالات اور ان سے جڑے جذباتی مسائل کا تفصیلی ذکر ہے ۔۔۔

سرمئی گھوڑے کی محبت میں مبتلا ۔۔بل موری یارٹی کو، صرف اس محبت کی سزا دینے کے لیے ۔۔گورلے نے گھوڑا کسی اور کے ہاتھ بیچ کر، اس کی نظروں سے دور کر دیا ۔

مصنفہ نے ایک ہی وقت میں ۔۔انسان ۔۔معاش ۔۔موسم ۔۔جانور ۔جبلت اور جذبات کا باریک بینی سے کیا گیا مشاہدہ ۔۔نہایت فنکارانہ مہارت سے ہم تک پہنچایا ہے  ۔

"گرے گینگر پہلے جتنا خوبصورت تھا، اب مزید خوبصورت ہو چکا تھا ۔اب وہ پہلے جیسا شوخ اور چنچل نہیں تھا بلکہ کافی شاہانہ ہو چکا تھا ۔اس کا عقبی حصہ پختہ دکھائی دے رہا تھا ۔اس کی سرمئی اور ملائم جلد چمکنے لگتی جب وہ اپنے جسم کو حرکت دیتا ۔بل اس کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا ۔اس کی گردن سہلانے لگا۔۔۔غیر مطمئن زندگی کی کوفت کے ساتھ ۔"کاش وہ شخص میں ہوتا، بوڑھے، "بل نے کراہتے ہوئے کہا ۔کاش وہ میں ہوتا ۔دراصل میں ہی اس کے لیے مناسب تھا ۔"

کہانی کا جادوئی قالین تھوڑی دیر کے لیے ہمارے خطے میں بھی پہنچتا ہے ۔۔جہاں ادب کی دنیا کا ایک بڑا نام "خشونت سنگھ "دو خوبصورت کہانیوں کے ساتھ موجود ہے ۔

دونوں کہانیوں کا موضوع اور ماحول یکسر مختلف ہے ۔۔لیکن خیال کی چابکدستی اور قلم کی روانی کے کیا کہنے ۔۔!

"ایک خاتون کی تصویر"  میں دادی ہی کہانی کا مرکز ہیں ۔۔اور اپنے بوڑھے اور ضعیف ہو چکے لوگوں کو دیکھ کر جو خیال کہانی کی پہلی سطروں میں ظاہر کیا گیا ہے، وہ شاید ایک آفاقی حقیقت کی طرح ہے ۔جو نوجوانوں، بچوں کے ذہن سے لپٹا رہتا ہے ۔۔ایک دھندلی حقیقت کی طرح ۔۔۔جو بہت بعد میں واضح ہوتی ہے ۔۔تب ۔۔زمانے کا پھیر بدل چکا ہوتا ہے۔

"میری دادی ماں، کسی اور دادی کی طرح، ایک ضعیف خاتون تھیں ۔بیس سال سے میں نے انہیں ضعیف اور جھریوں سے بھری ہوئی ہی جانا ۔لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ کبھی جوان اور خوبصورت تھیں، اور شوہر بھی رکھتی تھیں ۔لیکن میرے لئے یقین کرنا مشکل تھا "۔

دادی کا تقدس کہانی کے ماحول کو عجیب سا سکون عطا کرتا ہے ۔۔مناجات میں مصروف، چرخہ چلاتی ہوئی ۔۔۔چڑیوں کو دانہ ڈالتی ۔۔سکول چھوڑنے جاتی ۔۔۔کتوں کو روٹیاں ڈالتی ہوئی دادی کے کردار سے انس لازم ہے ۔۔۔مگر اسی چلتی ہوئی ناو میں عصری مسائل کے کنکر پھینکنا ۔۔ایک ادبی شاہ پارے کا ہی وصف ہے ۔

کہانی کا آخری پیرا گراف آپ کا دل جیت لیتا ہے ۔۔آپ اس خوبصورتی کو محسوس کرتے ہیں ۔۔جس کا تعلق عالی اوصاف سے ہے ۔!

خشونت سنگھ کے چست قلم کا دوسرا شاہکار "فلسفہ عمل "ہے۔

کہانی کے آغاز سے کہانی کی سمت اور انجام کا اندازہ نہ ہو سکنا ۔۔فنکار کی فنکاری ہے ۔۔اور تعارفی سطروں میں آئینے سے خود کلامی در اصل نرگسیت کی علامت تھی ۔۔اس کی خبر بھی جلد ہو جاتی ہے ۔۔

عام طور پر کہانیوں کے اختتام پر پڑھنے والا سوچتا ہے کہ کاش ایسا نہ ہوتا ۔۔۔ایسا کیوں ہوا ۔۔اس کو کیسے روکا جا سکتا ہے ۔۔۔ایسا کب تک ہو گا ۔۔لیکن ایسی کتنی کہانیاں آپ کو یاد ہیں ۔۔جن کے انجام پر "اچھا ہوا اس کے ساتھ ۔۔ایسا ہی ہونا چاہیے تھا "ہوا ہو؟ 

سو، فلسفہ عمل بھی ایک ایسے شخص کی کہانی ہے ۔۔جس کی نرگسیت پر مصنف کو مکمل عبور حاصل تھا ۔۔آئینے سے داد وصول کرتے ہی ٹرین کے فسٹ کلاس ڈبے میں ۔۔۔ہم بھی سر موہن کے ساتھ ہی بیٹھ جاتے ہیں ۔۔جہاں وہ خود کو نادر زمانہ خیال کرنے کی ذہنی لذت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔۔۔

نرگسیت پسندی کے دو مونہہ نہ ہوں تو نرگسیت کا عنوان کیسے ملے؟ خبط عظمت میں مبتلا ۔۔یہ لوگ دوسروں کو کم تر خیال کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے ۔۔۔سو ان صاحب کو خود کو انگریزوں کے ہم پلہ سمجھنے کی خود فریبی  (اور دوسروں کو بھی باور کرانے کی )لاحق تھی ۔اور ہم وطنوں کو نالائق، نا اہل اور آلودہ خیال کرتے تھے۔

انگریز ساتھی مسافروں کی ہم سفری کا خیال انہیں سرشار کئے ہوئے تھا ۔۔اور اسی سرشاری میں وہ مختلف چیزوں کے استعمال سے انہیں متاثر کرنے کی بھرپور منصوبہ بندی میں مصروف تھے ۔۔۔

لیکن ۔۔وائے قسمت ۔۔ان کے ساتھ ہونے والا اتفاق ۔۔۔حسن اتفاق کی بجائے ۔۔سوئے اتفاق ٹھہرا ۔۔اور سیٹی کی آواز کے ساتھ ۔۔ڈبے میں داخل ہونے والے انگریز فوجیوں نے اپنی غاصبانہ حکمت عملی سے کام لیا اور سر موہن ۔۔۔۔ان کا منہ دیکھتے رہ گئے ۔۔۔!

ہر ادیب اپنے فن کے ساتھ مخصوص ہنر آزمائی کا اظہار کرتا ہے اور وہی اس کی پہچان ہوتی ہے ۔۔

اس کہانی کا آخری پیرا گراف بھی حیران کن حد تک موثر ہے ۔۔یوں کہ ۔۔ساری داستان سمٹ کر آخری سطروں میں بس جاتی ہے ۔۔

پڑھنے والا چونکہ سر موہن کے ساتھ ہی ٹرین کے ڈبے میں سوار ہوا تھا ۔۔تو پیش آنے والے سانحے کی صورت گری پر ۔ ۔۔جہاں سر موہن صدماتی سکتے کا شکار ہوئے ۔۔پڑھنے والا بھی منہ میں انگلی داب کر رہ گیا ۔۔ 

اور ٹرین گزر جانے کے بعد قہقہہ مار کر ہنس پڑا ۔۔۔!

مجموعے میں شامل سبھی کہانیاں ۔۔۔جہان دیگر سے لائی گئی ہیں اور اردو کے پڑھنے والوں کے لیے اس جہاں تک رسائی، مترجم کی بدولت ہے ۔۔جن کی محنت اور کاوش اس انتخاب کے ذریعے سامنے آئی ہے ۔

مختلف ہونے کی چاہ سے زیادہ دلنشیں ہے مختلف جاننے کی چاہ رکھنا ۔۔

یہ خود بخود ہمیں مختلف بنا دیتی ہے ۔۔۔اس وجود سے ۔۔جو جاننے سے قبل تھا ۔۔۔!

(

تبصرہ :آمنہ زریں

Comments

Popular posts from this blog

چیخوف افسانہ

عشق کے چالیس اصول

DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ