DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ

 [10:44 AM, 8/12/2020] +92 344 1386040: HE DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ


By William Wordsworth...


I wandered lonely as a cloud

That floats on high o'er vales and hills,

When all at once I saw a crowd,

A host, of golden daffodils;

Beside the lake, beneath the trees,

Fluttering and dancing in the breeze.

Continuous as the stars that shine

And twinkle on the milky way,

They stretched in never-ending line

Along the margin of a bay:

Ten thousand saw I at a glance,

Tossing their heads in sprightly dance.


The waves beside them danced; but they

Out-did the sparkling waves in glee:

A poet could not but be gay,

In such a jocund company:

I gazed—and gazed—but little thought

What wealth the show to me had brought:


For oft, when on my couch I lie

In vacant or in pensive mood,

They flash upon that inward eye

Which is the bliss of solitude;

And then my heart with pleasure fills,

And dances with the daffodils.


سیرِکہسار میں تنہا صفتِ ابرِ رواں

محوِ نظارہ میں اک روز چلا جاتا تھا

ناگہاں جھیل کنارے نظر آیا وہ سماں

لہلہاتا ہوا اک منظرِرنگیں ایسا

جیسے پھولوں کی برات، ایک گلوں کا لشکر

دامنِ کوہ میں اترا ہوا تا حدِ نگاہ


پھول ہی پھول تھے اس طرح وہاں پھول ہی پھول

کہکشاں بچھ گئی تھی گویا سجا کر تارے

رنگ و بو تھے جو وہاں رقص میں باہم مشغول

پھول پھولے نہ سماتے تھے خوشی کے مارے

اک مرقع تھا عجب چاک گریبانوں کا

شکل معشوق کی انداز وہ دیوانوں کا


رقص میں پھول ادھر تھے تو ادھر تھیں امواج

یہاں پریاں سی تھرکتی تھیں وہاں جل پریاں

شوخیاں ناز سے کرتے ہوئے وہ شوخ مزاج

گدگداتی جو صبا، چھوٹتی تھیں پھلجڑیاں

تھی عجب بزمِ حسینانِ مرنجانِ مرنج

کہ مجھے بخش دیا ایک گراں مایہ گنج


کیونکہ جب شومیء قسمت سے میں ہوتا ہوں ملول

اور تنہائی میں ہوتا ہے ہجومِ افکار

تب میرے ذہنِ فسردہ میں کھل اٹھتے ہیں وہ پھول

یک بیک میری خزاں میں چلی آتی ہے بہار

پھر سے آراستہ ہوتی ہے گلوں کی محفل

اور پھر ناچنے لگتا ہے خوشی سے مرا دل

سید شاکر علی جعفری۔انگریزی شاعری کی ایک جھلک

[10:45 AM, 8/12/2020] +92 344 1386040: #RIP_Rahat_Indori

تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے 

دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے

 

آتے جاتے ہیں کئی رنگ مرے چہرے پر 

لوگ لیتے ہیں مزا ذکر تمہارا کر کے 


ایک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اسے 

وہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اشارہ کر کے 


آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہے میں نے 

چند مٹی کے چراغوں کو ستارہ کر کے 


میں وہ دریا ہوں کہ ہر بوند بھنور ہے جس کی 

تم نے اچھا ہی کیا مجھ سے کنارہ کر کے

 

منتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا آنکھ لگے 

چاند کو چھت پر بلا لوں گا اشارہ کر کے


راحت_اندوری

Comments

Popular posts from this blog

چیخوف افسانہ

عشق کے چالیس اصول