Posts

Showing posts with the label افسانہ

جنگی قیدی عراقی افسانہ

 جنگی قیدی مصنفہ : مونا فاضل (عراق) مترجم: خلیل الرحمان کتاب: فلیش فکشن انٹرنیشنل 2015 ساحرہ دروازے کے فریم میں کھڑی اپنے بابا کو واضح  ہوتا دیکھ رہی تھی ، جبکہ صبح کا سورج اس کے دودھیا سفید باورچی خانے کو روشن کر رہا تھا۔وہ سنگ مرمر کی میز پر بیٹھا ایک ریڈیو ٹرانزسٹر کی تاروں کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہا تھا۔سورج کی دھوپ براہ راست اس پر سے گزر رہی تھی۔ساحرہ  نے اس کی طرف  ہاتھ بڑھایا مگر صالح شانے جھٹک کر اس سے ایسے غائب ہوا جیسے کہ سفید دیواروں پر سے سراب غائب ہوتا ہے۔ صالح اپنے سامنے پھیلے ہوئے برقی آلات کو حیرت سے تک رہا تھا۔وہ ایسے بالکل بھی نہیں لگ رہے تھے جیسے آج سے بیس برس قبل دکھتے تھے جب اسے پہلی بار ایرانیوں نے پکڑا تھا۔ اب وہ اپنا زیادہ تر وقت ان پر تحقیق میں گزارتا تھا۔قید میں، ہر شے یکسانیت کا شکار تھی۔قیدی ایک دوسرے کو ایک ہی کہانی بیسیوں بار سناتے تھے اور یوں ظاہر کرتے تھے جیسےکہ وہ اس کہانی کو پہلی بار سن رہے تھے۔ساحرہ اس کو دیکھ کر مسکرائی۔وہ اپنے کام میں مگن ایک چھوٹے بچے کے جیسے لگ رہا تھا۔ وہ سنک کی طرف ترکاری دھونے اور اسے خشک کرنے کیلیے بڑھی۔ ساحرہ...

بیگارِ محبت اُوہنری

 عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ  : بیگارِ محبت تحریر: اُوہنری (امریکا) مترجم: رومانیہ نور (ملتان، پاکستان) ''جب کوئی اپنے فن سے محبت کرتا ہے تو کوئی بھی کام مشکل نہیں لگتا۔''یہ ہماری تمہید ہے اور اسی سے ہی نتیجہ اخذ کریں گے۔ اور بیک وقت ظاہر کریں گے کہ ہماری تمہید غلط ہے۔ یہ منطق میں ایک نیا اضافہ اور قصہ گوئی میں جو کہ دیوارِ چین سے بھی پرانا فن ہے ایک کارِ نمایاں ہو گا۔ جو لارا بی وسطی مغرب میں رہتا تھا اور تصویر کشی کے فن میں ماہر تھا۔ چھ سال کی عمر میں اس نے قصبے سے گزرتے ہوئے ایک ممتاز شہری کی تصویر بنائی تھی۔ اس کاوش کو فریم کر کے ایک دواخانے میں غیر ہموار قطار میں لٹکا دیا گیا تھا۔ بیس سال کی عمر میں جب وہ نیو یارک روانہ ہوا تو اس کے گلے میں ایک جھولتی ہوئی نکٹائی اور جیب میں قلیل جمع پونجی تھی۔ ڈیلیا کارتھر بچپن سے ہی چھ درجے بلند آہنگ میں ہونہاری سے سرگم گا سکتی تھی۔ وہ جنوبی علاقے میں صنوبروں والے ایک خستہ حال گاؤں میں رہتی تھی۔ اس کے رشتہ داروں نے مل ملا کر اس کے لئے کچھ رقم اکٹھی کی تھی تاکہ وہ شمال میں جا کر اپنی موسیقی کی تعلیم مکمل کر سکے۔...

تُرکی افسانہ: تپتی دھوپ

 عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ:  تپتی دھوپ تحریر: یشار کمال (تُرکی) مترجم: کرنل (ر) مسعود اختر شیخ  (اسلام آباد ، پاکستان) بچہ: "اماں۔ ۔ اماں ! کل صبح سے پہلے مجھے  جگا دینا۔" "تم پھر نہیں جاگو گے۔" "ناجاگوں تو میرے جسم میں سوئی چبھونا، میرے بال کھینچنا، میری پٹائی کرنا۔" پیلے چہرے والی پتلی دبلی عورت کی سیاہ آنکھوں میں خوشی سےبھرپور چمک دوڑ گئی۔  "اور اگر تم پھر بھی نہیں جاگے تو؟" "مجھے مار ڈالنا۔" عورت نے اپنی پوری قوت سے بیٹے کو  گود میں لے کر سینے سے دباتے ہوئے کہا: "میری جان!" "اگر میں پھر بھی نہ جاگا تو۔۔۔۔۔" یہ کہہ کر بچہ سوچ میں ڈوب گیا۔ پھر اچانک بول اُٹھا؛ "تو پھر میرے منہ میں مرچیں ڈال دینا۔" ماں نے ایک بار پھر اسی مادری شفقت کے ساتھ بچے کو چھاتی سے لگا کربوسہ دیا۔ ماں کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔  بچے نے رُکے بغیر پھر کہا، "دیکھو اماں۔۔ اگر میں نہ جاگا تو میرے منہ میں مرچیں ڈال دینا۔۔ ٹھیک ہے ناں؟" ماں نے پھر کہا ۔ "میری جان!" "مرچیں خوب کڑوی ہونی چاہیں۔...

افسانہ : پیدائشی نشان

 عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ  : پیدائشی نشان تحریر: نیتھینیئل ہاتھورن (امریکہ) ترجمہ و تلخیص: رومانیہ نور (ملتان، پاکستان) گذشتہ صدی کے اخیر حصے کی بات ہے کہ ایک مشہور اور قابل سائنسدان تھا جو فلسفۂِ قدرت کے تمام پہلوؤں پر مہارت رکھتا تھا۔ ہماری کہانی کے آغاز سے قبل اس نے کیمائی ردعمل کی نسبت روحانی ردعمل کا انتہائی دلکش تجربہ کیا۔ ایک روز اس کے جی میں کیا آئی کہ تجربہ گاہ کو اپنے معاون کے حوالے کیا،چہرہ دھو کر حلیے کو بھٹی کے دھوئیں سے نکھارا، انگلیوں سے کیمائی مادوں کے دھبے صاف کئے اور ایک حسین عورت کو شادی کے لئے قائل کرنے چل دیا۔ اس زمانے میں جب نئی سائنسی ایجادات جیسا کہ بجلی اور اسی قبیل کی دیگر دریافتیں معجزوں کی سر زمین کی طرف نئے راستے وا کرتی دکھائی دیتی تھیں، یہ اچنبھے کی بات نہیں تھی کہ سائنس کی محبت گہرائی اور گیرائی میں ایک عورت کی محبت  کے مقابل آ جائے۔ اعلیٰ ذہانت، تخیل، روح حتّٰی کہ دل بھی ایسی ترغیبات میں موزوں اور سازگار قوت پاتے تھے۔ کچھ جو شیلے بھگت یقین رکھتے تھے کہ طاقتور ذہانت کی سیڑھی پر زینہ بہ زینہ چڑھتے ہوئے گیانیوں کو تخلیقی...

پیدائشی قرمزی نشان افسانہ

 پیدائشی قرمزی نشان The Birthmark By (1804-1864) Nathaniel Hawthorne   USA ترجمہ و تالیف: پروفیسرغلام محی الدین انیسویں صدی کے اواخر میں ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ محقق تھا۔  جس کا نام ’ا  یلمر‘ تھا۔  وہ قدرتی مظاہر کے راز جاننے کے لئے تحقیقات کرتا رہتا تھا۔  فطری علوم میں جو اہم معلومات اس نے دنیا کو دیں، وہ نئی اور معتبر تھیں۔  وہ ہر فن مولا تھا۔  ماہرنباتات، طبیعیات، کیمیا گری اور ماورائی علوم میں ماہر تھا۔  اسکے اقوال، تعلیمات اور مطالعات کے نتائج کوتسلیم کیاجاتا تھا۔  اس نے ایک تجربہ گاہ قائم کر رکھی تھی جو کافی وسیع اور سائنسی آلات سے لیس تھی۔  ا سکے مطالعات میں استعمال ہونے والے آلات،کیمیائی محلول، جڑی بوٹیاں اور تحقیقات سے متعلق تمام اشیاء اس میں موجود تھیں۔  اس نے ایک بہت بڑی لائبریری بھی قائم کی ہوئی تھی جس میں علما، مشائخ اور فیلسوف کے نادرنسخے اور اس کی اپنی تصنیف کردہ کتب تھیں۔  اس کی بیوی کا نام ’جولیانا‘تھا جو گاہے بگاہے کتب کا مطالعہ کیا کرتی تھی۔  اس کی سب سے مرغوب کتاب اس کے خاوندکا وہ ضخیم روز...

کھڑکی سے ایک نئی دُنیا کا نظارہ

 کھڑکی سے ایک نئی دُنیا کا نظارہ تحریر: اولگا توکارچُک (پولینڈ) ترجمہ: نجم الدّین احمد (بہاولنگر) میں اپنی کھڑکی میں سے شہتوت کا ایک سفید درخت دیکھ سکتی ہُوں---- ایک ایسا درخت، جس کی میں دِلدادہ ہُوں---- جو میرے وہاں رہنے کے فیصلے کا ایک سبب ہے۔ شہتوت ایک سخی درخت ہے---- بہار اور گرما کے تمام موسم کے دوران میں وہ درجنوں مختلف النوع پنچھیوں کو اپنے شیریں اور صحت بخش پھل سے نوازتا ہے۔ ابھی شہتوت پر پتّے دوبارہ نہیں آئے ہیں، پس میں دُور تک سڑک کو دیکھ سکتی ہُوں، جس پر لوگ پارک کی سمت جاتے ہُوئے شاذونادر ہی نظر آتے ہیں۔ وَرٹس داف (Wroclaw) میں موسم لگ بھگ گرم ہو چلا ہے: خیرہ کُن سُورج، نیلا آسمان، صاف ہَوا۔ آج، جب میں اپنے کُتّے کو ٹہلا رہی تھی، میں نے چِتلے کوّے کے جوڑے کو اپنے گھونسلے سے ایک اُلُّو کا پیچھا کرتے دیکھا۔ محض چند فُٹ کے فاصلے سے، میری اور اُلُّو کی ایک دُوسرے سے نظریں چار ہُوئیں۔ لگتا ہے جیسے جانور بھی متوقع طور پر منتظر ہیں کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے۔ طویل عرصے سے، میں محسوس کر رہی ہُوں کہ دُنیا بہت بڑھ گئی ہے۔ بہت زیادہ، بے حد سریع الرفتار، ازحد پُرشور ہو گئی ہے۔...

One's A Heifer افسانہ

  One's A Heifer Sinclair Ross (1908 - 1996) Canada ترجمہ و تالیف:  پروفیسر غلام محی الدین میرے چچا کولہے کے شدید درد کی بدولت بستر سے لگ گئے تھے۔  شدید سردی میں جب درجہ حرارت نقطہء انجماد سے پینتیس درجے سے بھی نیچے چلا جاتا تھا،  میں کھلے میں کام کرنا تو کجا بیٹھنا بھی محال ہو جاتا تھا۔  چچا فارم ہاؤس کا مالک تھا جس میں درجنوں مویشی اور گھوڑے تھے۔  گھر میں چچا،  چچی اور میں رہتے تھے۔  ہمارے وسیع و عریض کھیت ہیں جن میں وہ دن بدن چرتے رہتے اور شام ڈھلے خود بخود فارم ہاؤس لوٹ آ تے تھے۔  اس  روز سارا دن اور رات برفباری ہوتی رہی۔  جب  اگلی صبح طوفان رکا تو دیکھا کہ  دو بچھٹرے گم تھے۔  ایک نر تھا اور دوسری مادہ۔  ان کی عمر ایک سال کی تھی۔ چچی ایلن نے مجھے کہا کہ فوراً انہیں ڈھونڈ لاؤں۔  موسم کی مناسبت سے میں نے دو موٹی اون سے بنی ہوئی جرابیں،  دو بنیانیں،  اونی قمیض،  اونی جیکٹ،  چمڑے کی جیکٹ،  اونی مفلر،  اونی ٹوپی اور چمڑے کے دستانے پہن لئے۔  اتنی احتیاط کے باوجود بھی سردی محس...