کھڑکی سے ایک نئی دُنیا کا نظارہ

 کھڑکی سے ایک نئی دُنیا کا نظارہ

تحریر: اولگا توکارچُک (پولینڈ)

ترجمہ: نجم الدّین احمد (بہاولنگر)


میں اپنی کھڑکی میں سے شہتوت کا ایک سفید درخت دیکھ سکتی ہُوں---- ایک ایسا درخت، جس کی میں دِلدادہ ہُوں---- جو میرے وہاں رہنے کے فیصلے کا ایک سبب ہے۔ شہتوت ایک سخی درخت ہے---- بہار اور گرما کے تمام موسم کے دوران میں وہ درجنوں مختلف النوع پنچھیوں کو اپنے شیریں اور صحت بخش پھل سے نوازتا ہے۔ ابھی شہتوت پر پتّے دوبارہ نہیں آئے ہیں، پس میں دُور تک سڑک کو دیکھ سکتی ہُوں، جس پر لوگ پارک کی سمت جاتے ہُوئے شاذونادر ہی نظر آتے ہیں۔ وَرٹس داف (Wroclaw) میں موسم لگ بھگ گرم ہو چلا ہے: خیرہ کُن سُورج، نیلا آسمان، صاف ہَوا۔ آج، جب میں اپنے کُتّے کو ٹہلا رہی تھی، میں نے چِتلے کوّے کے جوڑے کو اپنے گھونسلے سے ایک اُلُّو کا پیچھا کرتے دیکھا۔ محض چند فُٹ کے فاصلے سے، میری اور اُلُّو کی ایک دُوسرے سے نظریں چار ہُوئیں۔ لگتا ہے جیسے جانور بھی متوقع طور پر منتظر ہیں کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے۔

طویل عرصے سے، میں محسوس کر رہی ہُوں کہ دُنیا بہت بڑھ گئی ہے۔ بہت زیادہ، بے حد سریع الرفتار، ازحد پُرشور ہو گئی ہے۔ پس، مجھے ’’صدمۂِ تنہائی‘‘ کا کوئی تجربہ نہیں ہُوا اور میرے لیے لوگوں کو نہ دیکھنا ازبس دُشوار ہے۔ مجھے اِس پر افسوس نہیں کہ سینما بند ہو گئے ہیں؛ مجھے اِس امر کی بھی قطعاً پروا نہیں کہ مراکز خریداری پر تالے پڑ گئے ہیں۔ تاہم، اِس میں شبہ نہیں کہ جب میں سوچتی ہُوں کہ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں تو مجھے پریشانی ہوتی ہے۔ لیکن جب مجھے قرنطینہ کے نازل ہونے کا پتا چلا تو میں نے سکون جیسی شے محسوس کی۔ مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگوں کے جذبات ایسے ہی ہَوں گے، خواہ اُنھیں اِس پر شرمندگی محسوس ہُوئی ہو۔ میری دروں بینی، طویل محبوسی اور مذموم چلبلی بروں بینی ازخود ختم ہو کر اپنے خول سے نکل آئی ہے۔

میں اپنے ہمسائے کو کھڑکی میں سے دیکھتی ہُوں، کام کے بوجھ سے چُور ایک قانون دان جسے ابھی میں نے صبح ہی اپنی عدالتی عبا کو کندھے پر لٹکائے اپنے کام پر جاتے ہُوئے دیکھا تھا۔ اب وہ ایک ڈِھیلے ڈھالے ٹریک سُوٹ میں ہے، وہ صحن میں ایک شاخ کے ساتھ اُلجھتاہے؛ یُوں لگتا ہے جیسے وہ چیزوں کو ترتیب سے رکھ رہا ہو۔ میں ایک نوجوان جوڑے کو ایک بُڈّھے کُتّے کو لے جاتے ہُوئے دیکھتی ہُوں، جو گذشتہ سرما سے بمشکل چلنے کے قابل رہا ہے۔ کُتّا لڑکھڑاتا ہُوا چلتا ہے، جب کہ وہ دونوں نہایت دِھیمی رفتار رکھتے ہُوئے صبروتحمل سے اُس کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایک بڑا سا بیلچہ نکال کر، کُوڑے والا ٹرک کُوڑا اُٹھاتا ہے۔

زندگی کسی نہ کسی طور رَواں رہتی ہے، لیکن کاملاً ایک مختلف ردھم میں۔ میں نے اپنا کمرہ صاف کیا اور وہ اخبارات نکال لیے جنھیں ہم نے پڑھ کر بازگردانی والی ٹوکری میں رکھ دیا تھا۔ میں نے گُل دان کے پُھول بدلے۔ اپنی بائیسیکل اُس دُکان سے لی جہاں اُسے مرمت کرنے کے لیے دیا گیا تھا۔ میں کھانے پکانے میں لطف اُٹھاتی چلی آرہی ہُوں۔

میرے بچپن کے تصوّرات اپنی آمد جاری رکھتے ہیں۔ تب بہت وقت ہُوا کرتا تھا، اور اُسے ’’ضائع‘‘ اور ’’ہلاک‘‘ کرنا ممکن تھا۔ گھنٹوں کھڑکی سے باہر تکتے رہنا، چیونٹیوں کا مشاہدہ کرتے رہنا، یا میز کے نیچے لیٹ کر اُسے سفینہ تصوّر کرنا۔ انسائیکلوپیڈیا کا مطالعہ کرنا۔

کہیں یہ تو نہیں ہُوا کہ ہم زندگی کے نارمل ردھم کی طرف لوٹ آئے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وائرس طرزِ عمل کا خلل بَل کہ یکسر پلٹاؤ ہے---- یعنی وائرس کے مقابل آنے والی خلفشار میں مبتلا دُنیا مَعِیب تھی؟

وائرس نے ہمیں ، آخر کار، وہ شے یاد دِلا دی جس کا ہم نہایت شدّومَد سے انکار کرتے آرہے تھے: یہ کہ ہم بے حد شکستنی مادے سے بنی نازک مخلوق ہیں۔ یہ کہ ہم مر جاتے ہیں---- یعنی ہم فانی ہیں۔ یہ کہ ہم اپنی ’’انسانیت‘‘ کی بِنا پر باقی دُنیا سے الگ نہیں بِل کہ دُنیا عظیم جال کی ایک ایسی نوع ہے جس میں ہم پھنسے ہُوئے ہیں اور دُوسری مخلوقات کے ساتھ انحصار پذیری اور اثراندازی کے نادیدہ دھاگوں سے جُڑے ہُوئے ہیں۔ یہ کہ اِس بات سے قطع نظر کہ ہم ایک دُوسرے سے کتنے بعید واقع ممالک میں بستے ہیں، یا ہم کون سی زبانیں بولتے ہیں، یا ہماری جِلد کا کیا رنگ ہے، ہمیں یکساں بیماریاں لگتی ہیں، ہمارے خوف یکساں ہیں؛ ہماری موت یکساں ہے۔

اِس نے ہمیں احساس دِلایا ہے کہ چاہے خطرے کے سامنے ہم اپنے آپ کو کتنا ہی ناتواں اور ضررپذیر محسوس کیوں نہ کرتے ہَوں، ہمارے اِردگِرد زیادہ ضررپذیر لوگ موجود ہیں جن کی مدد کرنا ہمارے لیے ضروری ہے۔ اِس نے ہمیں یاد دِلایا ہے کہ ہمارے بوڑھے والدین اور اُن کے والدین کس قدر شکستنی ہیں اور اُنھیں ہماری کس قدر دیکھ ریکھ کی ضرورت ہے۔ اِس نے ہمیں دِکھایا ہے کہ ہماری مجنونانہ حرکات دُنیا کے لیے کتنی خطرناک ہیں۔ اور اِس نے ایک ایسا سوال ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے جسے ایک دُوسرے سے پُوچھنے کی ہم میں شاید ہی ہمّت ہے: دراصل وہ کیا چیز ہے جس کی کھوج میں ہم جُتے ہُوئے ہیں؟

بیمار پڑنے کے خوف نے ہمیں وہ آشیانے یاد دِلا دیے ہیں جن کے ہم باسی ہیں اور جن میں ہم اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ ایسی صُورتِ حال میں، حد یہ کہ نہایت مستقل مزاج مسافر بھی ہمیشہ کسی نہ کسی نوع کے گھر پر زور دیں گے۔ باایں ہمہ، افسردہ سچائیاں بھی ہم پر آشکار ہُوئی ہیں---- کہ خطرے کے لمحے میں، ہماری سوچ نے ایک بار پھر محدودیت و اقوام اور سرحدوں کے بِلاشرکت غیرے درجات کی طرف مراجعت کی ہے۔ اِس مشکل وقت میں، ہم نے دیکھا کہ یورپی یونین کایورپی قوم کا تصوّر عملی طور پر کس قدر کم زور ہے۔ یوروپی یونین نے قوموں کی ریاستوں کو اِس پُرخطر وقت کے فیصلے ارسال کر کے میچ کو ضبط کر لیا ہے۔ قدیم شاونیت، ’’ہمارا‘‘ اور ’’بدیسی‘‘ کی تقسیم اپنے ساتھ لیے، لوٹ آئی ہے---- بہ الفاظِ دِیگر، بعینہ وہی جس کے خلاف گذشتہ عشروں میں ہم نے اِس اُمید پر جنگ کی کہ یہ دوبارہ ہمارے ذہنوں کو اُستوار کرے گا۔ وائرس کی دہشت عہدِ قدیم کے مانند مجرم قرار دیے جانے کی جانب عود کا باعث بنی ہے یعنی بدیسیوں کو مؤردِ الزام ٹھیرایا جائے، کہ وہی ہیں جنھوں نے اِس خطرے کو متعارف کروایا ہے۔ یورپ میں وائرس ’’کہیں اَور سے آیا ہے‘‘۔ پولینڈ میں، پردیس سے واپس لوٹنے والا ہر شخص اب مشکوک ہے۔ وائرس ہمیں یاد دِلاتا ہے: سرحدیں قائم ہیں، اور عمدگی سے کام کر رہی ہیں۔

مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ وائرس ہمیں ایک دِیگر سچائی سے بھی خبردار کرے گا: ہم کتنے زیاد غیرمساوی ہیں۔ ہم میں سے کچھ لوگ نجی جہازوں پر سفر کر کے اپنے جزیروں والے گھروں کو ، یا جنگل کی تنہائی میں جا رہے ہیں جب کہ باقی لوگ شہروں ہی میں رہتے ہُوئے بجلی گھروں اور پانی کی ترسیلات چلا رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ، کچھ نے دُکانوں اور ہسپتالوں میں کام کرتے ہُوئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ کچھ لوگ اِس عالمی وبا سے دولت کما لیں گے جب کہ باقی اپنی تمام جمع پُونجی تک گنوا بیٹھیں گے۔ آنے والا مخدوش وقت تمام اُصولوں کو کھوکھلا کر ڈالے گا، جو ہمیں نہایت مضبوط لگ رہے ہیں: بہت سے دیس اِس سے نپٹنے کے اہل نہیں ہَوں گے اور اُن کے زوال کے نتیجے میں نئے ضابطے جنم لیں گے جیسا کہ اکثر پُرخطر اوقات کے بعد ہوتا ہے۔

ہمارا یقین ہے کہ ہم گھر تک محدود ہو کر کتابیں پڑھ اور ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہیں، لیکن درحقیقت، ہم اپنے آپ کو ایک نئی حقیقت کی ایسی جنگ کے لیے دوبارہ تیار کر رہے ہیں جس کا ہم ادراک تک نہیں کر سکتے اور جو دِھیرے دِھیرے سمجھ میں آرہی ہے کہ کچھ بھی ویسا نہیں رہے گا جیسا ہے۔ لازمی قرنطینہ کی شرط، خاندان کا گھر پر پڑاؤ، شاید ہمیں اُن چیزوں سے آگاہ کر دے جن کا ہم اعتراف نہیں کرنا چاہتے: کہ ہمارا خاندان ہمیں تخفیف کرتا ہے، کہ ہمارے بیاہ کے بندھن عرصہ ہُوئے کاہل پڑ چکے ہیں۔ ہمارے بچّے قرنطینہ سے باہر نکلیں گے تو انٹرنیٹ کے منشی ہو چکے ہَوں گے، اور ہم میں سے بہت سے ، جمود کی طاقت کے باعث، حالات کے، جن میں ہم خُود کار طور پر رہتے ہیں، احمقانہ پن اور فضولیت سے آگاہ ہو چکے ہَوں گے۔ اور کیا خبر، قتال، خُود کشیوں اور ذہنی اختلال کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے؟

ہماری آنکھوں کے سامنے سے اُس مثالی تہذیبی نمونے کا دُھواں چھٹ رہا ہے جس نے پچھلی دو صدیوں سے ہماری تشکیل کی ہے: کہ ہم تخلیق کے ماہر ہیں، کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں، کہ دُنیا ہماری مِلک ہے۔ ایک نیا وقت قریب کھنچا چلا آرہا ہے۔


English Title : A New World Through My Window

Written by:

Olga Nawoja Tokarczuk  (born 29 January 1962) is a Polish writer, activist, and public intellectual who has been described in Poland as one of the most critically acclaimed and commercially successful authors of her generation. In 2018, she won the Man Booker International Prize for her novel Flights (translated by Jennifer Croft). In 2019, she was awarded the 2018 Nobel Prize in Literature.

Comments

Popular posts from this blog

تُرکی افسانہ: تپتی دھوپ

شام کے دھندلکے میں ایک ناری نظم

چیخوف افسانہ