افسانہ : پیدائشی نشان
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ : پیدائشی نشان
تحریر: نیتھینیئل ہاتھورن (امریکہ)
ترجمہ و تلخیص: رومانیہ نور (ملتان، پاکستان)
گذشتہ صدی کے اخیر حصے کی بات ہے کہ ایک مشہور اور قابل سائنسدان تھا جو فلسفۂِ قدرت کے تمام پہلوؤں پر مہارت رکھتا تھا۔ ہماری کہانی کے آغاز سے قبل اس نے کیمائی ردعمل کی نسبت روحانی ردعمل کا انتہائی دلکش تجربہ کیا۔ ایک روز اس کے جی میں کیا آئی کہ تجربہ گاہ کو اپنے معاون کے حوالے کیا،چہرہ دھو کر حلیے کو بھٹی کے دھوئیں سے نکھارا، انگلیوں سے کیمائی مادوں کے دھبے صاف کئے اور ایک حسین عورت کو شادی کے لئے قائل کرنے چل دیا۔
اس زمانے میں جب نئی سائنسی ایجادات جیسا کہ بجلی اور اسی قبیل کی دیگر دریافتیں معجزوں کی سر زمین کی طرف نئے راستے وا کرتی دکھائی دیتی تھیں، یہ اچنبھے کی بات نہیں تھی کہ سائنس کی محبت گہرائی اور گیرائی میں ایک عورت کی محبت کے مقابل آ جائے۔ اعلیٰ ذہانت، تخیل، روح حتّٰی کہ دل بھی ایسی ترغیبات میں موزوں اور سازگار قوت پاتے تھے۔ کچھ جو شیلے بھگت یقین رکھتے تھے کہ طاقتور ذہانت کی سیڑھی پر زینہ بہ زینہ چڑھتے ہوئے گیانیوں کو تخلیقی قوتوں کے راز پر ہاتھ ڈالنا چاہئے اور اپنے لئے نئے جہان بنانے چاہئیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ایلمر فطرت پر حتمی انسانی اختیار کے عقیدے پر کس درجہ ایمان لاتا تھا۔
سائنسدان کا نام ایلمر تھا۔ اس نے مکمل طور پر خود کو سائنسی علوم کے حوالے کر دیا تھا سو دوسری محبت کے جذبےنے اسے کمزور نہیں کیا تھا۔ اس کی نوجوان بیوی کی محبت اگر سائنس کی محبت کے ساتھ منطبق ہو جاتی تو وہ دونوں محبتوں کو مضبوط کر سکتی تھی۔
یوں تو ایسا ملاپ قابلِ ذکر نتائج کا حامل ہوتا ہے مگر شادی کے ابتدائی دنوں میں ایک روز ایلمر نے مضطرب نظروں سے اپنی بیوی کی جانب دیکھا۔
''جارجیانا!'' وہ بولا'' کیا تم نے کبھی سوچا کہ تمہارے چہرے پر جو نشان ہے وہ مٹ جاتا؟''
''نہیں'' اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ لیکن شوہر کے سوال کی سنجیدگی کو مدّ نظر رکھتے ہوئے بولی'' اس نشان کو اکثر دلکش کہا جاتا ہے سو میں بھی اسے یونہی تصور کرتی ہوں۔ ''
'' نہیں جانِ من! یہ کسی بھی اور صورت پر ہو سکتا تھا مگر تمہارے چہرے پر نہیں۔ '' اس کے شوہر نے جواب دیا۔
'' قدرت نے تمھیں مکمل بنایا ہے لیکن تمہارے چہرے پر یہ ہلکا سا نشان مجھے ارضی غیر کاملیت کا احساس دلاتا ہے، رنج پہنچاتا ہے ''
''تمھیں اس بات سے رنج پہنچا ہے؟'' جارجیانا کراہی۔
اسے گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ لمحاتی غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
'' پھر تم نے مجھ سے شادی کیوں کی؟''
''جس بات سے تمھیں رنج پہنچے تم اس سے محبت کیسے کر سکتے ہو؟''
ہمیں تھوڑی سی وضاحت کر دینی چاہئے کہ جارجیانا کے بائیں گال کے وسط میں ایک چھو ٹا سا نشان تھا جو جلد کے اندر نقش ہو گیا تھا۔ یہ گہرے سرخ رنگ کا نشان تھا۔ جب جارجیانا شرماتی تو گالوں کی سرخی میں یہ نشان غیر نمایاں ہو جاتا۔ لیکن جب کبھی وہ پریشانی سے پیلی پڑ جاتی تو یہ نشان برف پر جمےسرخ دھبے کی مانند دکھائی دیتا۔ پیدائشی نشان اس کے دلی جذبات کے ساتھ تغیر پذیر ہوتا رہتا تھا۔
نشان بہت چھوٹے انسانی ہاتھ سے مشابہ تھا۔ جارجیانا کے سابقہ پریمیوں کا کہنا تھا کہ جب وہ پیدا ہوئی تھی تو کسی جادوئی پری کے ہاتھ نے اسے چھوا تھا۔ بہت سے معززین نے اس پر اسرار ہاتھ کا بوسہ لینے کے لئے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہو گا۔
مگر دوسرے لوگوں کی رائے مختلف تھی۔ کچھ خواتین کی رائے تھی کہ یدِ سرخ جارجیانا کی خوبصورتی کے لئے تباہ کن اثرات رکھتا ہے۔
کچھ مرد مبصرین جو نشان کی تعریف نہیں کرتے تھے ،ان کا کہنا تھا کہ یہ معدوم ہو جائے اور نظر نہ آئےتو اچھا ہے۔ ایلمر پر شادی کے بعد عیاں ہوا کہ اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔
اگر جارجیانا کم حسین ہوتی تو ننھے سے ہاتھ کی دلکشی شاید ایلمر کی محبت میں اضافہ کر دیتی۔ مگر جارجیانا کے درجۂ کمال کو پہنچے ہوئے حسن و جمال کے لئے یہ نشان ناقابلِ برداشت تھا۔
ایلمر اس نشان کو اپنی بیوی کی رفتہ رفتہ اداسی ، کمزوری اور موت کی علامت کے طور پر تعبیر کرنے لگا۔ جلد ہی نشان اس کے لئے باعثِ آزار بننے لگا۔ زندگی کے خوشگوار ترین لمحات میں بھی جب جارجیانا کا حسن اسے جوتسکین دیتا تھا وہ اس کی نسبت اس تباہ کُن موضوع پر زیادہ سوچتا رہتا تھا۔ صبح کی کرنوں میں وہ اپنی نظریں بیوی کے چہرے پر جماتا تو اسے غیر کاملیت کا نشان نظر آتا۔ جب رات کو آتشدان کی روشنی میں بیٹھتا تب بھی یہی نشان اس کی نگاہوں میں گھومتا۔
جارجیانا اب اس کی نگاہوں کی تپش سے گھبرانے لگی تھی۔ ایلمر کے تاثرات اس کے چہرے پر زردی پھیلا دیتے۔ اور پیدائشی نشان کسی پتھر میں جڑے موتی کی طرح برقرار رہتا۔
'' پیارے ایلمر کیا تمھیں وہ خواب یاد ہے جو کل رات تم نے اس قابلِ نفرت نشان کے متعلق دیکھا تھا'' جارجیانا نے کمزور مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔
'' نہیں تو۔۔۔۔۔ کیا تھا بھلا وہ؟''
ایلمر نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا۔
'' سوتے وقت دماغ افسردہ حالت میں ہو تو یہ نیند میں در آنے والے بھوتوں کواپنے راز افشاء کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا اور ان کو اجازت دے دیتا ہے۔''
اب ایلمر کو اپنا خواب یاد آیا۔ اس نے دیکھا تھا کہ وہ اپنے معاون امینداب کے ساتھ ایک آپریشن کر کے اس نشان کو رفع کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر جتنا وہ نشتر کو جلد میں گہرا اتار رہا تھا اتنا ہی وہ نشان جلد کے اندر گہرائی میں اترتا چلا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ نشتر جارجیانا کے دل میں پیوست ہو گیا۔
اُس خواب کو یاد کر کے ایلمر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ ''ایلمر!'' جارجیانا گویا ہوئی۔ '' میں نے اس معاملے پر بہت غور و فکر کیا ہے۔میں نہیں جانتی اس پیدائشی نشان کو رفع کرنے کے لئے ہم دونوں کو کیا قیمت چکانی پڑے گی۔ اس کا مٹنا میری شکل بگاڑ دے گا یا میری صحت۔
'' میری جان جارجیانا! میں نے بھی اس معاملہ پر بہت سوچ بچار کی ہے'' ایلمر نے کہا'' مجھے یقین ہے کہ نشان رفع یو سکتا ہے۔''
''تب کوئی بھی خطرہ مول لے کر یہ کوشش کر ڈالو۔'' جارجیانا بولی'' ایسی زندگی جینے کے قابل نہیں جس میں یہ قابلِ نفرین نشان مجھے تمہارے لئے کوئی ڈراؤنی چیز بنا دے۔ تم بہت زیادہ سائنس کا علم رکھتے ہو اور تم نےعظیم دریافتیں کی ہیں۔ سو اپنے اور میرے ذہنی سکون کی خاطر اس نشان کو مٹا ڈالو۔''
'' میری پیاری بیگم!''ایلمر جذباتی انداز میں بولا۔'' میری قوتوں پر شک مت کرو۔ میں اس گال کو تمہارے دوسرے گال کی مانند بے عیب اور کامل بنانے کے لئے تیار ہوں۔'' اور ایلمر نے نرمی سے دائیں گال کو چوم لیا جس پر سرخ ہاتھ کا نشان نہیں تھا۔
آئندہ روز جوڑا ایلمر کی تجربہ گاہ پہنچا جہاں اس نے مشہور ایجادات کی تھی۔ جونہی جارجیانا نے تجربہ گاہ کی دہلیز پار کی اس کا وجود لرزنے لگا۔ ایلمر نے اسے یقین دہانی کروانے کے لئے اس کے چہرے کی جانب خوشدلی سے دیکھا مگر اس کے گورے گال پر نشان کی غیر معمولی چمک دیکھ کر چونک گیا اور خود کو اپنے اندر خوف کی ایک لہر اٹھنے سے باز نہ رکھ سکا۔ اس کی بیوی بے ہوش ہو گئی تھی۔
'' امینداب! امینداب! ایلمر چلایا۔
وہ دوڑتا چلا آیا۔
'' خلوت گاہ کی کھڑکی کھولو۔۔۔۔کمرے کی ہوا صاف کرنے کے لئے خوشبو جلاؤ۔'' ایلمر نے ہدایات جاری کیں۔
'' جی میرے آقا'' امینداب نے جواب دیا۔ بے ہوش پڑی جارجیانا کو اختیاری طور پر دیکھتے ہوئے وہ اپنے آپ میں بڑبڑایا'' اگر یہ عورت میری بیوی ہوتی تو میں کبھی بھی اس نشان کو دور کرنے کی کوشش نہ کرتا-''
جب جارجیانا ہوش میں آئی تو خود کو خوشبو سے رچے ماحول میں سانس لیتے پایا۔ اسے اپنی موت کی سی بے ہوشی یاد آئی ۔اس کے ارد گرد کا ماحول بہت دلکش تھا۔ ایلمر نے اس تنگ و تاریک دھوئیں اور گندگی سے اٹی کوٹھری کو جہاں اس نے زندگی کے سنہرے دن پیچیدہ تجربات کرنے میں گزار دئیے تھے ایک خوبصورت رہائش گاہ میں بدل دیا تھا۔ جو ایک دوشیزہ کے ٹھہرنے کے لئے کسی بھی لحاظ سے نا موزوں نہیں تھی۔ جارجیانا کو محسوس ہوا کہ وہ بادلوں کے اوپر خیمہ زن ہے۔ ایلمر محویت سے بیوی کو دیکھتے ہوئے خاموشی سے گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اسے اپنی سائنس پر اعتماد تھا اور یہ احساس تھا کہ وہ اپنی بیوی کے گرد کوئی جادوئی حلقہ کھینچ سکتا ہے جس میں کوئی برائی مداخلت نہیں کرے گی۔
جارجیانا کو اب اس سجے ہوئے کمرے میں رہنا تھاجبکہ ایلمر کو تجربہ گاہ میں انتھک محنت کرنی تھی۔ یکے بعد دیگرے اس نے طاقتور تجربات کا سلسلہ اپنی بیوی پر آزمایا۔ لیکن نشان بد ستور قائم رہا۔ جارجیانا اپنے کمرے میں انتظار کرتی رہتی۔ اس نے ایلمر کی سائنسی مشاہدات کی یادداشتیں پڑھیں۔ وہ یہ جانے بنا نہیں رہ سکی کہ ایلمر کے بہت سے تجربات ناکامی سے دوچار ہوئے تھے۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود سائنسدان کو مصروفِ کار دیکھے گی۔
تجربہ گاہ میں داخل ہوتے ہی جارجیانا کا واسطہ جس چیز سے پڑا وہ گرم بھٹی تھی۔ اس کے اوپر کثیر مقدار میں دھواں موجود تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ بھٹی مدتوں سے جلتی رہی تھی۔ اس نے کیمیائی تجربات کے لئے مشینیں، ٹیوبیں سلنڈر اور کنٹینر دیکھے۔ جس چیز نے سب سے زیادہ اس کی توجہ کھینچی وہ بذاتِ خود ایلمر تھا۔ ایک سیال مادہ تیار کرتے ہوئے اس پر موت کی سی زردی چھائی ہوئی تھی۔
جارجیانا نے محسوس کیا کہ اس کا شوہر اپنی پریشانی، ذہنی تناؤ اور خوف اس سے چھپاتا رہا ہے۔ '' تم میرے بارے میں ذرا بھی نہ سوچو۔ ورنہ ہم جو خطرہ مول لے رہے ہیں تم اس کے بارے میں غیر جانبدار نہیں رہ سکتے۔'' جارجیانا نے یقین دہانی کروائی'' جو کچھ تم میرے لئے بناؤ گے میں پی لوں گی چاہے وہ زہر ہی کیوں نہ ہو۔''
''میری جان کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے'' ایلمر نے تسلی دی۔ '' میں پہلے ہی تمہارے جسمانی نظام کو بدلنے کے لئے طاقتور کیمیکل دے چکا ہوں۔ صرف ایک چیز کی آزمائش باقی ہے۔ اور اگر وہ ناکام ہو گئی تو ہم برباد ہو جائیں گے''
وہ جارجیانا کو اپنے کمرے میں لے گیا جہاں اپنے خیالات کے ہمراہ ایک بار پھر اسے تنہا انتظار کرنا تھا۔ اس نے خواہش کی کہ کاش چند لمحوں کو ہی سہی وہ اپنے شوہر کے بلند ترین تخیلات کی تسکین کر سکتی۔ لیکن تبھی اسے احساس ہوا کہ اس کے شوہر کا دماغ کسی بھی نئی چیز کی طلب میں ہمیشہ آگے سے آگے ہی بڑھتا رہے گا۔۔۔۔۔زیادہ بہتر اور زیادہ کامل چیزوں کے تعاقب میں۔۔۔۔۔
گھنٹوں بعد ایلمر ایک بلوری جام لےکر لوٹا۔ اس میں ایک بے رنگ سیال مادہ مادہ تھا۔ کیمیائی مراحل بخیرو خوبی پایۂ تکمیل کو پہنچے۔'' ایلمر نے آگاہ کیا۔'' جب تک میری سائنس مجھے دھوکہ نہ دے یہ ناکام نہیں ہو سکتا۔ سیال کو پرکھنے کے لئے اس نے ایک قطرہ مرجھائے ہوئے پھول کی مٹی پر گرایا جو کہ کمرے کے اندر ایک گملے میں اگا ہوا تھا۔ چند ہی لمحوں میں پودا پھر سے صحت مند اور ہرا ہو گیا۔
'' مجھے کوئی ثبوت درکار نہیں۔'' جارجیانا آہستگی سے بولی۔ '' مجھے گلاس تھماؤ!
اپنی زندگی تمہارے ہاتھوں میں دیتے ہوئے مجھے خوشی محسوس ہو گی۔''
سیال مادہ پیتے ہی وہ فوری طور پر سو گئی۔ ایلمر اس کے پاس بیٹھ کر مشاہدہ کرنے اور اہم نکات لکھنے لگا۔ اس نے ہر چیز کو نوٹ کیا۔۔۔۔اسکی سانس۔۔۔پپوٹوں کی حرکت۔۔۔۔پھر وہ نشان کی طرف متوجہ ہوا۔ دھیرے دھیرے سانس کی ہر جنبش کے ساتھ یہ ابھرتا اور غائب ہوتا۔ اس کی چمک معدوم ہو گئی تھی۔ خوش قسمتی سے یہ بالکل ختم ہونے والا تھا۔ ایلمر چلایا'' کامیابی۔۔۔۔کامیابی۔۔۔۔''
ایلمر نے دن کی روشنی میں جارجیانا کا چہرہ دیکھنے کے لئے کھڑکی کھولی۔ وہ کچھ زرد پڑ گئی تھی۔ جارجیانا نے آنکھیں کھولیں اور آئینے میں دیکھا جو اس کا شوہر تھامے کھڑا تھا۔ وہ برائے نام نظر آنے والے نشان کو دیکھ کر مسکرائی۔
''میرے پیارے ایلمر!' وہ نرمی سے بولی۔'' تمہارے عزائم بہت بلند ہیں۔ اتنے بلند اور خالص کہ قدرت نے تمھیں جو بہترین عطا کیا تم نے اسے مسترد کر دیا۔ جانِ من! میں مر رہی ہوں۔۔۔''
افسوس یہ ایک سچی حقیقت تھی۔ اس کے چہرے پر بنا ہوا ہاتھ اس کی زندگی کی ڈور سے منسلک تھا وہ ایک ایسا ربط تھا جس کے ذریعے ایک ملکوتی روح خود کو فانی جسم کےساتھ ملاپ کی کڑی سےجوڑے رکھتی ہے۔۔ جونہی اس کے چہرے سے سرخ رنگ کی آخری جھلک جو انسانی عدم اطمینان کی واحد علامت تھا غائب ہوا تو کامل عورت کی سانسیں کہیں فضاؤں میں کھو گئیں۔ اور اس کی روح جو ایک لمحے کے لئے اپنے شوہر کے پاس ٹھہر گئی تھی سوئے گردوں پرواز کر گئی۔
تاہم ایلمر ایک گہری حکمت جان گیا تھا کہ انسان کو اس خوشی سے دور بھاگنے کی ضرورت نہیں جو اس کی فانی زندگی میں ہو بہو ساخت میں گندھی ہوتی ہے۔ وقتی حالات اس کے لئے بہت سازگار تھے مگر وہ وقت کے تِیرہ دائرے سے باہر دائمی طور پر زندہ رہنے اور لمحۂ موجود میں کامل مستقبل تلاش کرنے میں ناکام رہا۔
Original Title: The Birthmark
Written by:
Nathaniel Hawthorne (July 4, 1804 – May 19, 1864) was an American novelist, dark romantic, and short story writer.
Comments
Post a Comment