بلاعنوان

 بلاعنوان


جب سے میں تم سے ملی ہوں

میں اپنی جیب میں لیپ اسٹک رکھتی ہوں

اپنی جیب میں لیپ اسٹک رکھنا بہت بے وقوفی ہے

جب تم مجھے اتنی سنجیدگی سے دیکھتے ہو

جیسے تم نے میری آنکھوں میں ایک گوتھک چرچ دیکھا ہو

مگر میں کوئی عبادت خانہ نہیں ہوں

بلکہ ایک جنگل اور ایک سبززارہ  ہوں

پتوں کی کپکپاہٹ، جو تمہارے ہاتھوں میں بھنچتی ہے

ہمارے پیچھے، وہاں، ایک چشمہ، شور مچاتا ہے، 

یہ وقت ہے، جو ختم  ہوا جا رہا ہے

اور پھر بھی تم اسے انگلیوں کے درمیان سے گزر جانے دیتے ہو،

اور تم وقت کو جال میں لانا نہیں چاہتے

اور جب میں تمہیں الوداع کہتی ہوں،

میرے بغیر لیپ اسٹک کے ہونٹ بن چھوئے رہتے ہیں،

مگر میں اسی طرح اپنی جیب میں لیپ اسٹک رکھنا جاری رکھتی ہوں،

جب سے میں نے جانا ہے کہ تمہارے ہونٹ  بہت خوبصورت ہے۔۔

••••••••••

شاعرہ : ہالینا پوزویاتوسکا

مترجم : افضل احمد سید

حوالہ : آج رسالہ

انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال 

••••••••••

 
دل بُردہ از من دی روزِ شامے
فتنہ درازِ محشر خرامِے

روئے مبینش صبح تجلیٰ
لوحِ جبینش ماہِ تمامیے 

عارض چہ عارض گیسو چہ گیسو
 صبحِ چہ صبحِ شامِ چہ شامِے

گاہِ بہ مستی طاوسِ رقصاں
گاہِ بہ شوخی آہو خرامِے 

آں تیغِ ابرو وا تیرِ مثرگاں
آمادہ ہر یک بر قتلِ عامیے

از جسمِ لرزاں ، لرزاں تو عالم 
از زلفِ برہم برہم نظامِے 

گفتم چہ جوئی گفتا دل و جاں
گفتم کہ خواہی گفتا غلامیے

ترجمہ؛ 

ایک روز میرے ہاتھ سے میرا دل چھین لیا
انتہائی حسین نے اور محشر ڈھا دینے والے نے

اس کا روشن چہرہ صبح کی طرح تھا
اُس کی پیشانی پورے چاند کی طرح تھی

اس کا چہرہ کیا چہرہ ہے، گیسو کیا گیسو ہیں
صبح کیا صبح ہے اور شام کیا ہی شام ہے 

اس کی مست چال جیسے مور رقص میں ہو
اس شوخ کی چال میں ایک ہرن کا ٹہلنا ہے 

اس کے ابرو کی تلوار اور پھر مژگاں کے تیر
ہر اک ان سے قتل عام ہونے پر آمادہ ہے

اس کے جسم کی لرزش سے تمام عالم لرز جاتا ہے 
اس کی زلفِ برہم سے تمام نظام برہم ہے 

میں نے ہوچھا، کیا حاجت ہے کہا دل اور جان
میں نے پوچھا کس کی تلاش ہے ؟ کہا غلام کی

~نصیر الدین نصیر

Comments

Popular posts from this blog

چیخوف افسانہ

عشق کے چالیس اصول

DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ