مُحبت کی گِیت (خلیل جبران)
مُحبت کی گِیت (خلیل جبران)
مترجم: اظہار احمد باچہ
کسی شاعر نے ایک بار مُحبت کی گیت لکھی
جسکے بول انتہائی خوبصورت تھے
اور اُس شاعر نے اس گیت کی کئی کاپیاں نکالی
اور اپنے تمام احباب اور جاننے والوں کو بھیج دیں
مَردوں اور عورتوں کو، اور اُس جوان لڑکی کو بھی جو دور پہاڑوں کے پیچھے رہتی تھی اور جس سے وہ صرف ایک بار ملا تھا!
ایک دو دن بعد قاصد آیا اور اُس جوان لڑکی کا خط بھی لایا جسمیں لکھا تھا
"میں تمہیں یقین دلاتی ہوں کہ تمہاری محبت کی گیت میرے دل کو لگی جو تم نے مجھے لکھی تھی! اب تم آجاؤ اور میرے والدین سے مِلو تاکہ ہم اپنی منگنی کی تیاری کریں"
اور شاعر نے جوابی خط لکھا
"جو تم نے پڑھا وہ فقط محبت کی ایک خوبصورت گیت تھی جو ایک شاعر کے دل سے نکلی تھی! فقط ایک گیت، جو ہر محبت کرنے والا اپنے محبوب کے لئے گاتا ہے"
اور پھر اُس جوان لڑکی نے شاعر کو لکھا
"تم؛ لفظوں کے جھوٹے اور مُنافق! اِس دن سے لے کر اپنے لحد تک، میں تمہاری وجہ سے ہر شاعر سے نفرت کرونگی!!!
The love song
By Khalil Jibran.
A poet once wrote a love song,
And it was beautiful,
And he made a lot of copies of it٫
And he sent them to his friends and his acquaintances.
Both men and women, and even to a young woman whom he had met but once,
Who lived beyond the mountains.
And in a day or two, a messenger came from the young woman bringing a letter,
And in the letter she said,
"Let me assure you; I am deeply touched by the love song that you have written to me. Come now; and see my father and my mother and we shall make arrangements for the betrothal"
And the poet answered to the letter, and he said to her
"It was but a song of love, out of a poet's heart. Sung by every man to every woman"
And she wrote again to him saying,
"Hypocrite and liar in words; from this day until my coffin-day, I shall hate all poets for your sake".
Comments
Post a Comment