آبی سفر جرمن نظم
آبی سفر
(جرمن شاعر ہائنرش ہائنے کی ایک نظم)
میں جہاز کے مستول سے ٹیک لگائے کھڑا
پانی میں ہر لہر گنتا جا رہا تھا
“الوداع! میرے پیارے وطن،
میرے بادبانی جہاز کی رفتار تیز ہو چکی”
میں اپنے محبوب کے گھر کے سامنے سے گذرا
کھڑکیوں کے شیشے دھوپ میں چمک رہے تھے
میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتا رہا
میرے لیے کوئی الوداعی ہاتھ ہوا میں نہ اٹھا
آنسوؤ! میری آنکھوں سے دور ہی رہو
میں کچھ بھی دھندلایا ہوا دیکھنا نہیں چاہتا
اے دلِ ناتواں! اس درد کی شدت سے
تم کہیں ٹوٹ نہ جانا
(جرمن سے اردو ترجمہ: مقبول ملک)
Comments
Post a Comment