میں اور وہ
اسے کسی بھی شیڈ کی لپسٹک پسند تھی ،
اور مجھے صرف لائنر !
وہ چائے اور پراٹھے کا شوقین تھا ،
میں فرینچ ٹوسٹ پہ مرنے والی تھی !
اسے فاسٹ میوزک پسند تھا ،
اور میں نصرت صاحب کے سروں پہ سر دھننے والی تھی !
وہ کیپٹن جیکسپیرو کا فین تھا ،
اور میں نے یہ نام پہلی بار شائد اسی سے سن رکھا تھا جانے کون تھا وہ !
خیر اسے گھنٹوں بولنا پسند تھا ،
اور مجھے فقط اسے سننا !
وہ سگریٹ کے دھوؤں کا شیدائی تھا ،
اور میں ڈارک چاکلیٹ پہ مر مٹنے والی تھی !
اسے چوڑیوں سے بھری کلائیاں اور گالوں کو چھوتی بالیاں بھاتی تھیں ،
اور میں سونے کان لئے بائیں ہاتھ پے رسٹ واچ باندھنے والوں میں سے تھی !
اسے ہتھیلیوں پے حنائی رنگ پسند تھے ،
اور میں مہندی کے اترتے رنگوں سے کوفت زدہ تھی
وہ جون کی وحشتوں کا ساتھی تھا ،
اور میں امرتا کی نظموں میں جیتی تھی !
وہ حقیقت شناس تھا ،
اور میں ناولوں کے خمار میں ڈوبی !
وہ روشنیوں کے شہر کا چمکتا دمکتا ستارا تھا ،
اور میں فرید نگر کی گلیوں کی اداس بنجارن !
وہ ڈوبتے سورج کو سمندر کنارے الوداع کہنے کا عادی تھا ،
اور میں گز بھر کے ٹیرس کے اک کونے میں کھڑی پورے چاند کی دیوانی !
وہ وہ برف زدہ پہاڑوں کا باسی تھا ،
اور میں دھوپ کنارے بیٹھی پاگل لڑکی !
اسے رنگوں سے انسیت تھی ،
اور مجھے فقط سیاہ رنگ بھاتا تھا !
وہ قمیض کی آستینیں چڑھائے رکھتا تھا ،
اور میں لمبے دوپٹوں میں خود کو الجھائے رکھتی تھی !
وہ بولتا تو اسکی بھوری آنکھیں کلام کرتی تھی ،
اور میں اسکے سامنے جیسے بولنا بھول جاتی تھی !
وہ دنیا کے سامنے سر اٹھا کر جینے کا عادی تھا ،
اور مجھے اسکے سامنے سر جھکائے رکھنا اچھا لگتا تھا !
نہ میں نے اسے بدلنا چاہا نہ اس نے مجھے !
ایک عرصہ ہوا دونوں کو رشتے سے آگے بڑھے
مگر کل ایک دوست آئی تھی ملنے
مجھے ناشتے میں چائے اور پراٹھا کھاتے دیکھ کر خوب ہنسی تھی ،
کمرے میں چلتے فاسٹ میوزک پے وہ ایکدم چونکی تھی !
میں کچھ کہتی کہ میرے ہاتھوں میں کھنکھتی سرخ چوڑیاں اور کانوں میں ہلکورے لیتی بالیاں مجھ سے پہلے بول اٹھی تھی ،
اور سامنے کرسی پہ ادھ کھلی پڑی جون کی کتاب " لیکن " جیسے اسکے سارے سوالوں کے جواب دے گئی تھی...!!
Comments
Post a Comment