غالب اپنے قبر سے منٹو کو داستان سناتے ہوئے

 مرزا اسد اللہ خان غالب اپنے قبر سے منٹو کو داستان سناتے ہوئے 


میری کشتی ایک بحربیکراں میں تیرنے لگی منٹو بھائی, جو کبھی دکھائی نہ دے اس چیز کے پیچھے میری زندگی کی دوڑ شروع ہوگئی بس پھر میرا قلم ہی میرا علم بن گیا. 


آپ جانتے ہیں میرے قلم کس چیز سے بنے ہوتے تھے؟ 

میرے سارے قلم میرے اجداد کے ٹوٹے ہوئے تیروں سے بنے ہوتے تھے جس روز میں نے پہلا شعر کہا مجھے محسوس ہوا جیسے روز اول سے میں اپنے دل میں شاعری کا بیچ لئے چلا آرہا ہوں.

شاعری کوشش کرنے سے نہیں ہوتی 

کہیئے, ہوسکتی ہے کیا؟

شاعری خود آپ کے پاس آئے تبھی آپ شعر کہہ سکتے ہیں لیکن وہ کیوں اور کیسے آتی ہے یہ ہم نہیں جانتے پتہ ہے مجھے کیا لگتا ہے ہزاروں غزلیں لکھنے والا شخص بھی شاعر نہیں کہلا سکتا ہے لیکن اگر کسی نے محض ایک ہی شعر لکھا ہو خون جگر میں ڈوبی کسی درد ناک کراہ جیسا شعر تو ہم اسے شاعر کہہ سکتے ہیں 

شاعری مسجد کے منبر پر کھڑے ہوکر وعظ کرنا نہیں ہے 

موت کے آمنے سامنے کسی گھاٹی کے کنارے کھڑے ہوکر آخری الفاظ ادا کرنے جیسا عمل ہے  

منٹو بھائی! میں ہفتوں تک خون آلود کاغذ پر اپنے عشق کا ماجرا لکھتا رہا میرے ہاتھ شل ہوگئے لیکن میں پھر بھی لکھتا رہا مجھے معلوم تھا کہ میری غزلیں ایک دن بہت سے لوگوں کو سہارا دیں گی. 

یہ تکبر نہیں تھا منٹو بھائی یہ تو میرے زخم تھے میں تو اپنے زخموں کے بارے میں لکھ رہا تھا پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے میری شاعری لوگوں کے دلوں کو نا چھوتی   

کس طرح جگر سے خون رستا ہے یہ میں نے بہت دنوں تک دیکھا تھا اور یہی رستا ہوا خون دل کے اندر جمتے جمتے پتھر بن گیا جس کا بوجھ مجھے نیچے کھینچ لایا 


معلوم ہے میر صاحب نے اپنے ایک شعر میں کیا کہا تھا


شمع اخیر شب ہوں  سن سرگزشت میری 

پھر صبح ہونے تک تو قصہ ہی مختصر ہے


سچ ہے میں آخر شب کا ہی چراغ تھا تصور کیجئے جب میں پیدا ہوا تو ایک سلطنت کا خاتمہ ہورہا تھا کاش میں اکبر اعظم کے دور میں پیدا ہوا ہوتا میں نے یہ خواب کتنی ہی بار دیکھا یا پھر شہنشاہ جہان گیر یا شاہ جہاں کے زمانے میں جنما ہوتا تو مجھے اپنی زندگی سگ آوارہ کی مانند بسر نہ کرنی پڑتی میرے گناہوں کی پاداش ہی خدا نے مجھے ایسے جہنم میں دھکیلا جہاں دربار عالیہ کے نام پر بس بچے کھچے ٹکڑے ہی رہ گئے تھے اور وہ بہادر شاہ ظفر جو ایک مصرعہ بھی موزوں نہ کر پاتا تھا (یہ بات خلاف واقعہ ہے بہادر شاہ ظفر کی شاعرانہ حیثیت مسلم ہے) مجھے اس کی خدمت میں ہاتھ باندھ کر کھڑا رہنا پڑا اس پر کہا جاسکتا ہے کہ خدا رحیم و کریم ہے شاید میرے لئے اس کی یہی منشا رہی ہو


 میں نے اپنے والد کو کبھی نہیں دیکھا بہت سے لوگ کہتے تھے کہ میں ان سے ملتا ہوں جب ذرا بڑا ہوا تو آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے چہرے کے عکس میں عبداللہ بیگ خاں بہادر کو ڈھونڈا کرتا نہ جانے وہ کہاں اور کس لڑائی میں مارے گئے تھے امی جان تو اس کی میت تک کو نہ دیکھ سکیں ایک انسان یکایک غائب ہوگیا اس کا کوئی نشان تک نہ رہا کسی نے اس کی ایک تصویر بھی نہ بنا رکھی جو ان کی یاد دلا سکتی شہنشاہ اورنگزیب کے دور میں تو تصویر کشی حرام سمجھی جاتی تھی ورنہ سوچئے مغل دربار جیسا تصویر خانہ کیا دنیا میں کسی نے دیکھا ہوگا فارسی مصوروں سے بڑھ کر مصور دنیا میں کہیں پیدا ہوئے ہیں آپ نے بہزاد کا نام سنا ہے ہزار سال میں بھی اس جیسا فنکار پیدا نہیں ہوتا 


ہائے میری امی جان... ان کے لئے بھی ابا جان کی کوئی تصویر موجود نہیں تھی منٹو بھائی


دوزخ نامہ

Comments

Popular posts from this blog

تُرکی افسانہ: تپتی دھوپ

شام کے دھندلکے میں ایک ناری نظم

چیخوف افسانہ