A story

جس دن کسی اجنبی نے میرے سینے پر پستول رکھتے ہوئے مجھے ”بزدل“ کہہ کر بلایا تھااور ساتھ ہی گولی مارنے کی دھمکی بھی دی تھی، یہ وہی دن تھا جب ”دودھ والا“مارا گیا تھا۔ وہ حکومتی قاتلوں میں سے کسی ایک کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ گیا تھا، لیکن مجھے اس چیز کی کوئی خاص پرواہ نہیں تھی کہ وہ کس کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔ تاہم، دوسرے لوگ اس بارے میں کافی متفکر تھے، اور اِ ن میں سے بعض وہ لوگ تھے جو مجھے دیکھنے کی حد تک توجانتے تھے لیکن میری کبھی اُن لوگوں سے بات چیت نہیں ہوئی تھی۔ میرے بارے میں اس لئے بھی چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں کیونکہ انہی لوگوں نے میرے بارے میں بہت سی افواہیں پھیلائی تھیں اور ان افواہوں کو پھیلانے میں میرا بہنوئی سب سے آگے تھا۔ ان افواہوں میں یہ افواہ بھی شامل تھی کہ میرا اُس گوالے کیساتھ کوئی معاشقہ چل رہا تھا، جبکہ میری عمر اٹھارہ سال(18) اور اُس کی عمر اکتالیس سال(41) تھی۔میں اُس گوالے کی عمر سے اِس لئے واقف تھی کیونکہ اُس کے قتل ہونے سے کافی مہینوں قبل ہی اِس بارے میں باتیں ہونا شروع ہو گئی تھیں کہ اکتالیس سالہ مرد اور اٹھار ہ سالہ لڑکی کے درمیان معاشقہ قابلِ نفرت ہے۔ ہماری عمروں کے درمیان پائے جانے والا تئیس سال(23) کا فرق نفرت انگیز ہے۔یہ بات بھی زبان زدعام تھی کہ وہ شادی شدہ تھا اور مجھ جیس کم عمر لڑکی سے وہ بیوقوف نہیں بن سکتا تھا۔ میڈیا پر تو کافی عرصے کے بعد جا کر اُس کے قتل کی خبریں عام ہونے لگی تھیں۔مگرنجانے کیوں، کبھی کبھی مجھے یوں بھی لگنے لگتا تھا کہ جیسے دودھ والے کیساتھ معاشقے میں میرا بھی کوئی قصور ہو سکتا ہے...لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ میرا اُس گوالے کیساتھ کسی بھی قسم کا کوئی معاشقہ یا چکر نہیں تھا۔ مجھے تو وہ سرے سے پسند ہی نہیں تھا۔ جب وہ سنسان گلیوں میں میرا پیچھا کرتا تھا تو میں دہشت زدہ ہو جاتی تھی، اور جب وہ ایسی ہی کسی سنسان گلی کے درمیان میں میری کلائی پکڑ کر مجھ سے تعلق رکھنے کا مطالبہ کرتا تھاتو میری کئی راتیں ڈر اور پریشانی میں گزر جاتی تھیں اور نیند میری آنکھوں سے کوسوں دورہوتی تھی۔

مجھے اپنا بہنوئی بھی بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ اپنی گندی فطرت کے ہاتھوں مجبورہو کر، دوسرے لوگوں کی جنسی زندگی کے بارے میں خودساختہ باتیں بناتا رہتا تھا۔ میری جنسی زندگی بھی اُس کے غیر شائستہ جملوں سے محفوظ نہیں تھی۔ جب میں بارہ سال کی چھوٹی بچی تھی، تو وہ ایک دن میری سب سے بڑی بہن کے گھر آ دھمکا۔ اُن دنوں میری بڑی بہن کا اپنے بوائے فرینڈ کیساتھ رشتہ تازہ تازہ ختم ہوا تھا،کیونکہ میری بہن نے اپنے بوائے فرینڈ کو کسی دوسری لڑکی کیساتھ مشغول دیکھا لیا تھا اور خود ہی اُس بدذات سے جان چھڑوا لی تھی۔ میرے بہنوئی کا میری بہن کیساتھ تعلق قائم ہونا شروع ہوا اور آخر کار ایک دن میری بہن حاملہ ہو گئی، جس کے بعد اُن دونوں نے شادی کر لی۔ میرے بہنوئی نے اُسی دن سے میرے بارے میں بیہودہ تبصرے کرنا شروع کر دئیے تھے جس د ن وہ مجھے سے پہلی دفعہ ملا تھا۔ وہ اِن تبصروں میں ایسے جنسی الفاظ استعمال کر تا تھا جن سے میں واقف نہیں تھی۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ میں اِن الفاظ کو نہیں جانتی لیکن اتنی معلومات ضرور رکھتی ہوں کہ یہ جان سکوں کہ یہ شہوانی الفاظ ہیں۔ اُسے بدباطن کو یہ سب کر کے خوشی ملتی تھی۔ تب اُس کی عمر پینتیس سال(35) تھی، اور وہ بارہ سال کی بچی کیساتھ ایسی گفتگوکرتا تھا۔ یہ بھی تئیس سال کا فرق تھا جسے وہ افواہیں پھیلاتے وقت بھول گیا تھا۔

میرے بہنوئی نے میرے بارے میں بیہودہ تبصرے کرنے بند نا کئے، بلکہ وہ تو اس انداز میں ایسے گھٹیا تبصرے کرتا تھا جیسے ایسی گفتگو کرنا اُس کا پیدائشی حق ہے۔ میں نے کبھی پلٹ کر اُسے جواب نہیں دیا تھا کیونکہ تب میں نہیں جانتی تھی کہ ایسی صورتحال میں مجھے کیساردِعمل دینا چاہئے تھا۔ اُس نے کبھی بھی میری بہن کی موجودگی میں میری ساتھ ایسی گفتگو نہیں کی تھی، لیکن جب کبھی میری بہن موجود نا ہوتی تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اُس کے اندر کوئی اور انسان جاگ گیا ہے جو اپنی گندی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایسی واہیات باتیں کرنے لگتا ہے۔ ایک مثبت بات بہرحال تھی، کہ میں اپنے بہنوئی سے جسمانی طور پر خوف زدہ نہیں تھی۔اُن دنوں اِس جگہ، تشدد ہی وہ واحد چیز تھی جسے استعمال کر کے اپنے اِرد گِرد موجود لوگوں کی قابلیتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ اپنے بہنوئی کے بارے میں مجھے یہ اندازہ تو ہو گیا تھا کہ اُس میں تشدد کرنے کا مادہ نہیں ہے اور وہ جسمانی تشدد والی سوچ بھی نہیں رکھتا۔لیکن اِس کے باوجود بھی، میں ہر دفعہ اُس کی شکاری فطرت کے آگے جم کر رہ جاتی تھی۔میرا بہنوئی میرے لئے ایک غلاظت کے ڈھیر سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتا تھا کیونکہ اُس نے میری حاملہ بہن کو بہت برے حال میں رکھا ہوا تھا۔

میری بہن ابھی بھی اپنے پرانے بوائے فرینڈ سے محبت کرتی تھی اور اُسے ابھی تک اس بات کا یقین نہیں آیا تھا کہ وہ اُسے اِس طرح دھوکہ دے سکتا ہے۔ وہ ابھی تک اِس اُمید کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی تھی کہ شاید وہ اُسے یاد کرتا ہو لیکن میں جانتی تھی کہ میری بہن اب اُس کی یاداشت میں بھی نہیں ہو گی اور وہ کسی اور کیساتھ خوش باش رہ رہا ہو گا۔ میری بہن،عمر میں اپنے سے کئی سال بڑے آدمی سے شادی کر کے بالکل بھی خوش نہیں تھی۔ شاید اس لئے کہ وہ خود جوان تھی اور کسی اور انسان سے محبت کرتی تھی۔میں نے اپنی بہن کے گھر جانا چھوڑ دیا تھا۔حالنکہ،میری بہن بہت دکھی رہتی تھی اور میرا دل کرتا تھا کہ میں اُس کے پاس رہ کر اُس کی دلجوئی کروں۔مگر، میں چاہ کر بھی اپنی بہن کے گھر نہیں جا پاتی تھی کیونکہ میرے اندراب اتنی ہمت اور برداشت نہیں تھی کہ میں اپنے بہنوئی کے الفاظ اور چہرے کے تاثرات برداشت کر سکوں۔یوں چھ سال کا عرصہ گزرگیا، اور میرا بہنوئی میرے اور میری دوسری بڑی بہنوں تک رسائی حاصل کرنی کی کوشش کرتا رہا۔ کبھی وہ ہم تینوں کے سامنے آ کھڑا ہوتا تو کبھی بلاواسطہ طور پر ہم تک پہنچے کی کوشش کرتا۔ کبھی ہمیں اپنی خوش اخلاقی سے متاثر کرنے کی کوشش کرتا تو کبھی ڈرا دھمکا کر ہمیں رام کرنے کی جستجو میں لگا رہتا۔ہم متواتر مزاحمت کرتے رہے، لیکن وہ کبھی باز نہیں آیا۔

اسی ساری کشمکش کے دوران نجانے کہاں سے وہ گوالا بھی ہماری زندگیوں میں آ وارد ہوا۔ وہ میرے بہنوئی کی نسبت بہت زیادہ خوفناک اور خطرناک شخصیت کا مالک تھا۔میں نہیں جانتی تھی کہ وہ کس کا دودھ والا ہے۔ کم سے کم وہ ہمارا دودھ والا نہیں تھا۔بلکہ مجھے تو لگتا تھا کہ وہ کسی کا بھی گوالا نہیں ہے کیونکہ اُس میں گوالوں والی کوئی بھی بات نظر نہیں آتی تھی اور نا ہی کبھی میں نے اُسے گھروں میں دودھ دیتے ہوئے دیکھا تھا۔وہ ہمیشہ مختلف قسم کی خوش نماگاڑیاں چلاتا ہوانظر آتا تھا...نہیں نظر آیا،تو وہ کبھی بھی دودھ والی گاڑی چلاتا ہوا نظر نہیں آیا۔ہر چند کہ، وہ گوالا اور اُس کی بھڑکدار گاڑیاں تب ہی میرے مشاہدے میں آنا شروع ہوئی تھیں جب اُس نے وہ گاڑیاں میرے سامنے لا کر کھڑی کرنا شروع کی تھیں۔پھر ایک دن میری نظر ایک وین پر پڑی...چھوٹی، عجیب اور سفید رنگ کی وین۔اب کبھی کبھار وہ گوالا اُس وین کے اسٹیرنگ ویل پر براجمان نظر آ جاتا تھا۔

ایک دن میں کتاب پڑھتے ہوئے باہر سڑک پر چہل قدمی کر رہی تھی، جب وہ گوالا ایسی ہی ایک چمکدار گاڑی چلاتا ہوا نمودار ہوا۔ یہ میری اُس سے پہلی ملاقات تھی اور اِس سے پہلے میں نے کبھی بھی اِس انسان کو نہیں دیکھا تھا۔ یہ میری عادت تھی کہ میں چہل قدمی کرتے ہوئے کسی نا کسی کتاب کا مطالعہ کرتی رہتی تھی اور میرے مطابق یہ ایسی کوئی نازیبا حرکت بھی نہیں تھی۔لیکن تب میں نہیں جانتی تھی کہ ایک دن میری یہی عادت میری بدکرداری کے خلاف ثبوت بن جائے گی۔

_”تم اُن لڑکیوں میں سے ہو نا جن کو کتابیں پڑھنے کا شوق ہوتا ہے؟ تمہارے باپ کو بھی مطالعے کا شوق تھا، ہے نا؟ اور تمہارے بھائی ہر لی ٹیم (hurley) میں کھیلا کرتے تھے نا؟ گاڑی میں آ جاو میں تمہیں لِفٹ دے دیتا ہوں“۔

یہ الفاظ میرے کانوں میں پڑے تو میں چونک گئی اورمیں نے مطالعہ روک کر بے اختیار پیچھے مڑ کر دیکھا۔ وہ گوالا میرے پیچھے ایک گاڑی میں موجود تھا اور ڈرائیونگ سیٹ والی کھڑکی سے سر باہر نکالے، دوستانہ انداز میں مسکراتے ہوئے میری جانب دیکھ رہا تھا۔ میں حیران تھی کہ میں نے گاڑی کی آواز کیوں نہیں سنی۔ وہ لِفٹ دینے کیلئے سنجیدہ نظر آ رہا تھا کیونکہ اُس نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول رکھا تھا۔ لیکن، اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچتے تک میں جہاں بھی ایسی دوستانہ اور مہربان مسکر اہٹ دیکھتی تھی توفوراً میرے اندر خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو جاتی تھیں۔یہاں پر لِفٹ دینا کوئی اتنی اچھنبے کی بات نہیں تھی۔ اِس علاقے میں جن لوگوں کے پاس گاڑیاں تھیں وہ اکثر پیدل چلنے والوں کو لِفٹ کی پیشکش کیا کرتے تھے کیونکہ جب سے بم دھماکوں کی دھمکیاں آنی شروع ہوئی تھیں اور گاڑیوں کی چوریوں کا آغاز ہوا تھا تب سے اِس علاقے میں عوامی نقل و حمل والی گاڑیاں (پبلک ٹرانسپورٹ) مفقود ہو گئی تھیں۔

اگرچہ، یہاں پر کبھی کبھار ایسے عیاش بھی نظر آ جاتے تھے جو سڑک کے کنارے آہستہ آہستہ گاڑی چلاتے ہوئے کسی طوائف کی تلاش میں نظریں اِدھراُدھر گھماتے رہتے تھے لیکن ایسا بہت کم ہوتا تھا۔ کم سے کم میرے ساتھ ایسا کبھی کوئی اتفاق نہیں ہوا تھا جب کسی نے ایسے گاڑی روک کر مجھے مخاطب کیا ہو۔بحرحال، مجھے لِفٹ نہیں چاہئے تھی کیونکہ مجھے چہل قدمی پسند تھی۔ چلتے ہوئے کتاب پڑھنا اور سوچنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ ویسے بھی میں اس اجنبی انسان کیساتھ، جس کو میں دیکھ ہی پہلی بار رہی تھی، گاڑی میں بالکل بھی سفر کرنا نہیں چاہتی تھی۔ لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں اسے انکار کیسے کروں کیونکہ وہ بداخلاقی سے پیش نہیں آ رہا تھا اور وہ میرے گھر کے مردوں سے بھی واقف تھا۔

آخرکار، بڑی مشکل سے میں صرف اتنا کہہ پائی کہ...”میں چہل قدمی کر رہی ہوں اور مطالعہ کر رہی ہوں“...اور یہ کہتے ساتھ ہی میں نے اپنی کتاب ایسے اُس کے سامنے کر دی جیسے یہ کتاب اُسے باقی کی وضاحت کر دے گی۔

_”تم گاڑی میں بیٹھ کر بھی کتاب پڑھ سکتی ہے“...فورا ً سے اُس کا متوقع جواب آیا۔

اب مجھے یاد نہیں کہ تب میں نے اِس بات کا کیا جواب دیا تھا۔ آخر کار، وہ ہنستے ہوئے بولا:  ”کوئی بات نہیں، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ تم اپنی کتاب سے لطف اندوز ہو“...اتنا کہہ کر اُس نے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور ڈرائیو کرتا ہوا دور نکل گیا۔

جب پہلی دفعہ یہ واقعہ ہوا تواِس کے فوراً بعد ہی ایک افواہ پھیل گئی، یا پھیلائی گئی۔ ایک دن میری سب سے بڑی بہن میرے گھر آئی کیونکہ میرے بہنوئی نے اُنہیں میرے پاس بھیجا تھا۔ وہ مجھے خبردار کرنے اور ہوشیار رہنے کا کہنے آئیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے گوالے کیساتھ باتیں کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

_”کیا؟ کیا مطلب ہے آپ کا کہ ’دیکھا گیا ہے‘؟ کون دیکھ رہا ہے مجھے؟آپ کا شوہر؟“...میں تو جیسے اُن کی یہ بات سن کر ہتھے سے ہی اُکھڑ گئی تھی۔

وہ مجھے کہتی رہیں کہ میں اُن کی بات تو سنوں، لیکن میں نے اُن کی ایک نا سنی۔ صرف اور صرف اپنے بہنوئی کی وجہ سے میں نے اُن کی کوئی بات نہیں سنی۔ نجانے کیوں میں اپنے بہنوئی کے دوہرے معیارات کا الزام بھی اپنی بہن کو دینے لگی تھی۔معلوم نہیں کب سے اپنے بہنوئی کے بیہودہ تبصروں کا الزام بھی لاشعوری طور پر میں اپنی بہن کو دیتی آئی تھی۔ اور اب جب وہ اپنے شوہر کا دفاع کر رہی تھیں تو میں کیسے اُن کی بات سن سکتی تھی۔ پتا نہیں کب سے میں اُنہیں ایسے گھٹیا انسان کیساتھ شادی کرنے پر بھی مجرم سمجھنے لگی تھی۔ جب انہیں اِس انسان سے نا ہی محبت تھی اور نا ہو وہ اُس کی عزت کرتی تھیں تو انہوں نے اِس سے شادی ہی کیوں کی تھی؟

اُنہوں نے مجھے نصیحت کرنے کی کوشش کی کہ میں تھوڑی تمیزکیساتھ بات کروں اور ساتھ میں تنبیہ بھی کی کہ میں سارے مردوں کو چھوڑ کراُس گوالے کیساتھ کسی بھی قسم کا کوئی بھی تعلق رکھ کر اپنے حق میں کوئی اچھا فیصلہ نہیں کر رہی۔ اُن کی یہ بات سننے کی دیر تھی کہ میرے اندر جیسے کوئی آتش فشاں پھٹ پڑا ہو اور میرے منہ میں جو آیا میں نے مغالظات بولنی شروع کر دیں۔ میں جانتی تھی کہ میری بہن کو اِس طرح منہ پھٹ انداز میں بدتمیزی کرنا اور اول فول بولتے جانا شدید نا پسند تھا، لیکن میں بھی کیا کرتی، تب میرے پاس یہی ایک واحد راستہ تھا جسے اپنا کر میں اُنہیں اپنے کمرے سے نکال سکتی تھی۔ جب وہ گھر سے باہر جا رہی تھیں تو میں نے کھڑکی سے سر باہر نکال کر چلانا شروع کر دیا کہ اُس نامرد (میرے بہنوئی) کو بولو کہ اگر اُسے کوئی بات کرنی ہے تو میرے منہ پر آ کر کرے۔ لیکن، اِس طرح جذباتی ہو جانا اور غصے میں آ کر گلی میں موجود لوگوں کے سامنے کھڑکی سے سر باہر نکال کر چلانااور اپنا تماشا بنوانامیری ایک بہت بڑی غلطی تھی۔ عام حالات میں میں ایسا بالکل بھی نا کرتی، مگر اُس وقت میں شدید غصے میں تھی۔ مجھے اپنی بہن پر بہت شدید غصہ تھا...ایسے گھٹیا انسان کی بیوی ہونے پراور ہر وقت اُس انسان کے حکم ماننے پر۔ میں اپنے اندر کی ضدی فطرت کو پھر سے اُبھرتا ہوا محسوس کرنے لگی تھی۔ جہاں تک بات ہے گوالے اور میرے متعلق افواہ کا، تو میں نے اِس پر کوئی کان نہیں دھرا۔ اِس علاقے میں ہر کسی کے متعلق کوئی نا کوئی افواہ ہمیشہ گرد ش میں رہتی ہی تھی،یہاں یہ معمول کی بات تھی۔اسی لئے میں نے دودھ والے کیساتھ معاشقے والی افواہ پر کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ پھر۔۔۔ ایک دن وہ دوبارہ نمودار ہوا، اور اِس بار وہ پیدل آیا تھا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

چیخوف افسانہ

عشق کے چالیس اصول

DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ