A view on Russian Literature

 " مارکسزم اپنے بین الاقوامی ہونے کی بناء پر قوموں اور ان کی ثقافتوں کو کھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ "

الکساندر سولزنیٹسن ( Aleksandr Solzhenietsyn )

(11 دسمبر 1918ء ۔ 3 ، اگست 2008 ء )

قیصر نذیر خاورؔ


بیسویں صدی کے قد آورروسی ادیبوں کو دیکھا جائے تو تین نام ایسے ہیں جو نوبل انعام برائے ادب کے حق دار ٹھہرے ۔ تینوں اپنی جگہ بہت قدآور بھی ہیں اور متنازع بھی ۔ بورس پیسٹرنک (Boris Pasterinic 1890- 1960) جو بنیادی طور پر شاعر تھا لیکن اس کا ناول ” ڈاکٹرژواگو“ اور اس کا بہت سا دوسرا کام سوویت یونین میں ممنوع مگر دنیا بھر میں شہرت کا حامل رہا۔ ” ڈاکٹرژواگو “ نامی اسی ناول پر بننے والی فلم بھی سوویت یونین کے ٹوٹنے تک وہاں ممنوع رہی ۔ بورس پیسٹرنک کو 1958ء میں نوبل انعام برائے ادب دیا گیا ۔

میخائل شولوخوف (Mikhail Sholokhov 1905-1984) نے یوں تو بہت سے ناول لکھے لیکن اس کی وجہ شہرت ناول ” اور ڈان بہتا رہا “ (And Quiet Flows the Dawn) بنا ۔ شولوخوف کو 1965ء میں نوبل انعام برائے ادب دیا گیا ۔ اسے سٹالن انعام کے علاوہ لینن انعام سے بھی نوازا گیا کیونکہ وہ تاحیات اشتراکی نظام کا کٹر داعی اور سوویت یونین ریاست کا حامی و معاون رہا تھا ۔ البتہ اس پر یہ الزام عائد ہوا کہ اس نے ” اور ڈان بہتا رہا “ خود نہیں لکھا تھا بلکہ اس کے ہاتھ 1920ء میں لکھے گئے ایک ناول کا مسودہ لگ گیا تھا جس کا مصنف فیوڈور کرائینوف (Fyodor Krynkov) تھا ۔ شولوخوف نے اس مسودے کو اپنے نام سے شائع کروا کر نام کمایا ۔ بعد ازاں ادیبوں کی ایک بین الاقوامی کمیٹی نے طویل چھان بین کے بعد شولوخوف پر لگائے گئے اس الزام کو بے بنیاد قرار دے دیا ۔

تیسرا بڑا نام الکساندر سولزنیٹسن (Aleksandr Solzhenietsyn 1918-2008) کا ہے جسے نوبل انعام کا حقدار 1970ء میں ٹھہرایا گیا اور یہ انعام اس نے سوویت یونین سے 1974ء میں جلاوطن ہونے کے بعد وصول کیا ۔

بورس پیسٹرنک اور الکساندر سولزنیٹسن اشتراکی سوویت یونین میں کسی انعام و مقام کے حقدار نہیں ٹھہرائے گئے کیونکہ ایک عرصہ سوویت یونین کی کمیونسٹ ریاست کا ساتھ دینے کے بعد وہ اس کے نقاد ہو گئے تھے اور کسی نہ کسی سطح پر کمیونسٹ پارٹی آف سوویت یونین کی بالادستی تسلیم نہ کرتے تھے ۔

بورس پیسٹرنک نے اس جہان کو70 برس کی عمر میں1960ء میں خیرباد کہا ۔ شولوخو ف 79 برس کی عمر میں 1984ء میں فوت ہوا جبکہ الکساندر سولز نیٹسن نے کچھ روز قبل ہی ، اگست 2008ء کو 89 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہو جانے کے باعث وفات پائی ۔

سولزنیٹسن 11 دسمبر 1918ء کو جب پیدا ہوا تو اکتوبر انقلاب آچکا تھا اور روس میں سفید اور سرخ فوجوں کے درمیان خانہ جنگی جاری تھی ۔ سولزنیٹسن کی والدہ نے اس کی اور اس کے بہن بھائیوں کی تربیت قدامت پرست (Orthodox) روسی چرچ کے نظریات کے تحت کی ۔ اس نے ریاضی کا علم حاصل کرنے کے علاوہ فلسفے کی بھی تعلیم حاصل کی ۔ 1945ء تک وہ اشتراکی نظرئیے کا مخالف نہ تھا اور نہ ہی اس نے سوویت یونین کے ریاستی نظام پر کوئی تنقید کی بلکہ دوسری جنگ عظیم میں وہ سرخ فوج کے ایک یونٹ کا کمانڈر رہا تھا اور اپنی دلیری اور بہادری کی بنا پر دو بار تمغے بھی حاصل کر چکا تھا ۔

فروری 1945ء میں اسے ،جب وہ مشرقی روس میں تعینات تھا ، اس الزام میں گرفتار کر لیا گیا کہ اس نے اپنے دوست این ڈی یوکیوچ (N.D.Utkevich ) کو جو خط لکھا تھا اس میں اس نے سٹالن کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کئے تھے ۔ اس پر سوویت مخالف پراپیگنڈہ کرنے کی فرد جرم عائد کی گئی اور 7 جولائی 1945ء کو آٹھ سال لیبر کیمپ میں کاٹنے اور اس کے بعد کی زندگی اپنے ہی ملک میں بطور جلاوطن گزارنے کی سزا سنائی گئی ۔ سٹالن کے دور میں یہ ایک عمومی سزا تھی جو کئی طرح کے جرائم خواہ وہ سیاسی تھے یا نہیں ، میں دی جاتی تھی ۔

سولزنیٹسن نے لگ بھگ ایک دہائی مختلف لیبر کیمپوں میں گزاری ۔ اس دوران اسے ایک ہسپتال کی کینسر وارڈ میں رہنے کا بھی موقع ملا جہاں وہ ایک پھوڑے (Tumor) کا آپریشن کرانے کے لیے داخل کیا گیا تھا ۔ یوں بعد میں اس نے ” کینسر وارڈ “ نامی ناول تخلیق کیا جس میں وہ کینسر کو بطور سوویت نظام کے استعارے اور وارڈ کو بطور سوویت یونین کی حیثیت میں استعمال کرتا ہے ۔ اس ناول کی ایک کردار ' Asya ' کے حوالے سے سولزنیٹسن نے اس کی چھاتیوں کو بھی علامت کے طور پر برتا ہے جس سے آپریشن کے بعد ' Asya ' نے ان سے محروم ہوجانا تھا ۔ یہاں سرجن سٹالنسٹ نظام اور Asya کی چھاتیاں زندگی کا دھارا یا پھلنے پھولنے کے استعارے ہیں ۔

لیبر کیمپوں میں گزارے سالوں نے سولز نیٹسن کو مارکسزم سے دور اور قدیم فلسفوں کے نزدیک کر دیا ۔

بعد کی ، ملک میں ہی جلاوطنی کی زندگی گزارتے ہوئے ، جب وہ ایک سکینڈری سکول میں استاد تھا تووہ اس بات پر یقین کر بیٹھا تھا کہ اس کا لکھا اس کی زندگی میں کبھی شائع نہ ہونے پائے گا ۔ پر بھلا ہو خروشوف کا جس نے سٹالن کے مرنے کے بعد اس کی جگہ سنبھالی تھی اور وہ سٹالنسٹ (Stalinist) خیالات کو سٹالنسٹ انداز میں ہی نظام سے نکال باہر کر رہا تھا ۔ اس کی کتاب ” ایوان وینیسووچ کی زندگی کا ایک دن“ 1962ء میں قطع و برید کے بعد خروشوف ہی کی مہربانی سے سوویت یونین میں شائع ہوئی ۔

خروشوف نے اس کتاب کا دفاع کرتے ہوئے پولٹ بیورو کے ممبران کے سامنے کچھ یوں بولا تھا : ” ۔ ۔ ۔ تم سب میں کہیں نہ کہیں سٹالنسٹ گھسا ہوا ہے ۔ میرے اپنے اندر بھی ایک سٹالنسٹ ہے ۔ ہمیں مل کر اس شیطان کو نکال باہر کرنا چاہیے۔ ۔ ۔ ''

شائع ہونے پر یہ کتاب ہاتھوں ہاتھ لی گئی ۔ اگلے برس سولز نیٹسن کے تین اور ناول سوویت یونین میں شائع ہوئے پر اب قسمت اس کے ساتھ نہ تھی ۔ خروشوف کو 1964ء میں سٹالن مخالف خیالات کی وجہ سے اس کے منصب سے ہٹا دیا گیا اور سوویت یونین کی باگ ڈور برزنیف کے ہاتھ میں آ گئی اور سولزنیٹسن پھر زیرعتاب آ گیا ۔ کے جی بی ( KGB ) نے اس کے تمام مسودات قبضے میں لے لیے اور اس پر کڑی نظر رکھنا شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ سولز نیٹسن کواپنا ماسٹر پیس ناول ” گولاگ اور خاردارتار‘‘ (The Gulag Archpelago ) انتہائی خفیہ طریقے سے لکھنا اور سمگل کرنا پڑا ۔ اس نے ” گولاگ “ کا لفظ جبری مشقتی کے معانی میں استعمال کیا جو دنیا بھر میں مستعل ٹہرا ۔

1970ء میں اسے نوبل انعام برائے ادب کا حقدار ٹھہرایا گیا ۔ اس کی کتابیں بشمول” کینسر وارڈ “ ،” دی فرسٹ سرکل “ ، ” The Gulag Archipelago “ جس میں اس نے سٹالن کی قائم کردہ پولیس سٹیٹ کی میکانیات (Dynamics) کا بھانڈا پھوڑا تھا ، مغربی دنیا میں تہلکہ مچا چکی تھیں اور سوویت یونین سخت تنقید کا نشانہ بنا ہوا تھا ۔ ان حالات کے پیش نظر برزنیف نے 1974ء میں اس کی سوویت شہریت منسوخ کرتے ہوئے اسے پابند سلاسل مغربی جرمنی جلا وطن کر دیا گیا ۔

وہ کچھ دیر جرمنی میں رہنے کے بعد سوئیزرلینڈ چلا گیا جہاں سے وہ 1976ء میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کی دعوت پر امریکہ جا آباد ہوا ۔ امریکہ میں اس کا قیام لگ بھگ 18 برس رہا ۔ یورپ اور امریکہ میں رہنے کے دوران جب اس نے وہاں کی لبرل جمہوریت میں وقت گزارا تو اسے احساس ہوا کہ یہ ریاستی نظام بھی درست نہیں ۔ یوں اب اس کی تنقید ' مغربی لبرل جمہوریت ' پر بھی ہونے لگی ۔ جبکہ اس باراس نے خود پناہ قدامت پرست (Orthodox) روسی چرچ کے نظریات میں لی ۔

1990ء میں اس کی شہریت روس میں بحال کر دی گئی اور اس کی کتابوں اور تحریروں پر لگائی گئی پابندی بھی اٹھا لی گئی ۔ وہ 1994ء میں اپنی بیوی نتالیہ کے ہمراہ ماسکو واپس آیا اور وہیں بس گیا ۔ خود کو روس سے دوبارہ آشنا کرانے کے لیے اس نے سارے روس کا دورہ بذریعہ ٹرین کیا ۔ اب وہ روسی ریاستی نظام میں مغربی جمہوریت کی حامل تبدیلیوں کا بھی نقاد ہو گیا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ الکساندر سولز نیٹسن کے خیالات نے کئی رخ اختیار کئے ۔ سوویت یونین میں رہنے کے دوران وہ پہلے مارکسزم کا حامی اور سوویت نظام کا کَل پرزہ تھا ۔ پھر وہ سٹالن ازم کا مخالف ہوا اور سٹالن کا مخالف ہوتے ہوئے لینن اور ٹراٹسکی کو سچے کمیونسٹ قرار دیتا تھا ۔ خیالات مزید بدلے اور وہ مارکسزم کا بھی مخالف ہو گیا اور یہ کہنے لگا کہ مارکسزم اپنے بین الاقوامی ہونے کی بناء پر قوموں اور ان کی ثقافتوں کو کھا جاتا ہے اور انسانوں کو کارکنوں میں بدل دیتا ہے جن کی کوئی قومی اہمیت اور اپنی کوئی ثقافت نہیں ہوتی ۔ پر اسے سرمایہ داری نظام کی تازہ ترین شکل Globalization نظر نہ آئی ، جو قوموں کی شناخت اور ان کی ثقافتوں کو اسی طرح ختم کر دے گی جس طرح اسے مارکسزم میں نظر آتا تھا ۔

مارکسزم کی مخالفت کر تے ہوئے وہ خود قدیم فلسفیوں میں پناہ لیتا رہا ۔ بعد ازاں اس نے یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ 1905ء اور 1917ء کے روسی انقلاب یہودی سازش تھے ۔ اس حوالے سے اس نے دو جلدوں پر مبنی کتاب”Two Hundred Years Together “ بھی لکھی ۔ اس حوالے سے کئی ناقدین سولزنیٹسن سے اتفاق کرتے ہیں جبکہ کئی معترض بھی ہیں ۔

مغرب میں رہنے کے دوران وہ مغربی جمہوریت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے لیے جائے پناہ قدامت پرست (Orthodox) روسی چرچ میں لیتا رہا ۔ روس واپس آنے اور ماسکو میں بسنے کے بعد وہ روس میں ہونے والی مغربی جمہوریت کی حامل تبدیلیوں کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بناتا رہا ۔ اس کا کہنا تھا کہ روسی ایک بڑی قوم ہیں جس کا تاریخی ورثہ ہزاروں سالوں پر محیط ہے ۔ اس کی اپنی پہچان اور ثقافت ہے۔ روسی کبھی بھی مغرب کا حصہ نہیں رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں نہ تو سوشلزم کامیاب ہوا اور نہ ہی مغربی لبرل جمہوریت کامیاب ہو گی ۔ اس کا کہنا تھا کہ روسی دانشوروں کو سوچنا ہو گا کہ وہ کس طرح اپنے تاریخی ورثے اور قدامت پرست (Orthodox) روسی چرچ سے سبق سیکھتے ہوئے روسی معاشرے کو آگے لے جا سکتے ہیں ۔

الکساندر سولزنیٹسن نے جو کچھ بھی لکھا وہ ادبی بھی ہے اور سیاسی بھی، بلکہ اس کا ، بعد کا کام ، ادبی کم اور سیاسی و صحافتی زیادہ ہے ۔ اسے 30 جلدوں پر مشتمل کلیات کے طور پر ماسکو میں سرکاری سرپرستی میں چھاپا جا رہا ہے ۔ پہلی تین جلدیں اس وقت چھپائی کے مرحلے میں ہیں ۔ 5 جون 2007ء کو روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے سولزنیٹسن کو انسانی خدمات کے اعتراف میں روسی فیڈریشن کے ریاستی انعام سے نوازا اور 12 جون 2007ء کو خود اس کی رہائش گاہ پر جا کر اسے یہ ایوارڈ دیا ۔ وفات کے بعد سولزنیٹسن کو اس کی وصیت کے مطابق ماسکو کے Donskoye قبرستان میں دفن کیا گیا ۔

اس نے اپنے پیچھے اپنی بیوی نتالیہ ، تین بیٹے پرمولائی ، سٹیفن اور اگنت چھوڑے ہیں ۔ مولائی باپ کی طرح ادیب ہے ، سٹیفن شہروں کی منصوبہ بندی (Urban Planning) کرتا ہے جبکہ اگنت موسیقار ہے ۔


( یہ مضمون اگست 2008ء میں سولزنیٹسن کی وفات کے بعد لکھا گیا تھا اور یہ جریدے ' عوامی جمہوری فورم ' کے شمارہ نمبر 45 میں شائع ہوا تھا ۔ ' شخصیات ' پر اپنی کتاب میں شامل کرنے سے پہلے مجھے اس مضمون میں سولزنیٹسن کے کام پر مزید بات کرنا ہو گی ۔ )

Comments

Popular posts from this blog

چیخوف افسانہ

عشق کے چالیس اصول

DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ