Albert Camus The Stranger Review

 The Stranger اجنبی 

مصنف:

البرٹ کامیو Albert Camus 

تبصرہ

کچھ منصف کے بارے میں:


البرٹ کامیو 1913 میں فرانس کے کالونی الجیریا میں پیدا ہوئے ۔ اس اعظیم فلسفی کا نام  یقینا ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے غیر معروف نہیں ہے ۔ پہلی جنگ اعظیم کے دوران والد کی وفات  اور پھر حالات کی تنگی و سختی نے البرٹ کی والدہ کو دوسروں کے گھروں میں صفائی کرنے پر مجبور کیا۔ سترہ سال کی عمر میں ٹی بی مرض کا شکار ہوا کامیو جو کہ اس وقت  الجیریا یورنیورسٹی میں پڑھ رہا تھا ٹی بی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اسے یورنیورسٹی سے  نکلا گیا کیونکہ اس وقت ٹی بی  ایک مہلک مرض سمجھا جاتا تھا ۔ البرٹ نے صحافت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ البرٹ جو کہ بعد میں پیرس منتقل ہو اور وہاں اس نے  فلسفہ Absurdism "لغو" اپنایا۔ جس کو اس نے اپنی Philosophical essays میں The Myth of Sisyphus میں بہتر انداز میں بیان کیا ہے ۔

لغو کیا ہے اس کے لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جس نے اس کی کتاب The Myth Of Sisyphus نہیں پڑھی ہو تو نہیں سمجھا سکتا اور ساتھ میں تاریخ کا مطالعہ بھی ناگزیر ہے ۔ جہاں پہلی جنگ اعظیم کے دوران ہر طرف بردبادی، مایوسی اور ناامیدی پھیل گئی تھی  اور انسانی  زندگی کی کوئی خاص معنی نہیں رہ گئی تھی تو ادب بھی پہلے کی طرح نہیں رہی۔ 

البرٹ کامیو کو 1957 میں ادب میں نوبل انعام دیا گیا، اور 1961 میں کار حادثے میں وفات ہوئے۔


دیگر مشہور کتابیں ۔ 

ان کی ہر کتاب منفرد ہے اور کئی زبانوں میں ان کے ترجمے ہوچکےہیں ۔ جو کتابیں میں نے پڑھی ہیں وہ آپ لوگوں کو بھی تجویز کرنا چاہتا ہوں ۔

The Myth of Sisyphus 

جس کا اردو ترجمہ "خودکشی" کے نام سے موجود ہے ۔

The Fall 

The Stranger 

اردو ترجمہ "اجنبی " نام سے ۔ 

The Plague 

اردو ترجمہ موجود ہے ۔ 

ان میں سے چند کے پی ڈی ایف میرے پاس دستیاب ہیں ۔

 

اب کچھ ناول کے بارے میں:

 اجنبی 1942 میں پبلش ہوا۔ یہ ناول دو حصوں پر مشتمل ہیں ۔جس کا پہلا حصہ چھ باب پر اور دوسرا پانچ باب پر مشتمل ہیں ۔ ناول کا مرکزی کردار Meursault ہے۔ البرٹ نے اس کو Existential کا لیبل دینے سے انکار کیا ۔


میرا تبصرہ:

"Mother died today. Or may be it was yesterday, I don't know." 

"آج ماں کا  انتقال ہو گیا ۔ شاید کل - یقین سے نہیں کہہ سکتا ۔"

یہ ناول اجنبی The Stranger کے پہلے ابتدائی فقرے ہیں ۔

Meursault 

جس کی ماں کا انتقال بورڈنگ میں ہوگیا ہے بورڈنگ جو کہ 60،70 میل فاصلہ پر واقع ہے اور Meursault آفس کے ہیڈ سے چھٹی کا درخواست کرتا ہے یہ غالبا جمعہ کا دن ہوتا ہے ۔

Meursault

 وہاں سے چھٹی لے کر مردہ خانہ چلا جاتا ہے جہاں اس کی ماں کی میت رکھی گئی ہے ۔ وہاں پہنچنے پر  مردہ خانہ کا  ڈائریکٹر ان سے کہتا ہے کہ کیا وہ اپنی ماں کی میت کو دیکھنا چاہیے گا تو Meursault بالکل الٹ جواب دیتا ہے کہ 'نہیں وہ نہیں دیکھنا چاہتا ۔


عموما جس طرح لوگ اپنی والدہ کی وفات پر رنجیدہ یا غم و سوگ مناتے ہیں لیکن Meursault اس کے بالکل برعکس تھا۔ اس کو فکر ہی نہیں کہ اس کی ماں کب اور کس وقت مری ۔

اور یہاں تک کہ وہ اپنے آفس کی دوست Marrie کے ساتھ شام کو کامیڈی مووی دیکھنے چلے جاتے ہیں اور اس کے بعد ساحل سمندر پر موج مستی کے لئے ۔ اس سے پہلے وہ مردہ خانہ جب پہنچا تھا تو اس نے سگریٹ بھی پی لی تھی اور ساتھ میں ڈائریکٹر کو بھی پیشکش کی تھی۔ اور بعد میں یہی ڈائریکٹر کورٹ میں Meursault کی پاگل پن کا تصدیق کرتا ہے ۔

Meursault 

کبھی کبھی Celeste سلیست کے ہوٹل کھانا کھانے کیلئے بھی جایا کرتا تھا۔ وہ تیز روشنی، سورج اور شور کو پسند نہیں کرتا تھا وہ مذہبی بھی نہیں تھا یہی وجہ کہ جب مجسٹریٹ نے ان سے پوچھا " کیا تم خدا پر ایمان رکھتے ہو ؟" تو اس نے کہہ کہ "نہیں۔"  Meursault کے لئے یہ دنیا ہی سب کچھ تھی ۔


اس کے علاوہ اس کے سامنے اخلاقی اقدار کی بھی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی اور جب اس کی ماں مر گئی تھی تو اس نے صدمے کو نارمل اور بالکل عام لیا کہ جیسے  کچھ ہوا ہی نہیں ہو۔ بہرحال پہلے حصے میں اور بھی کچھ دلچسپ واقعات ہیں جیسے Raymond sintes یہ بندہ Meursault کا ہمسایہ ہے۔ اور Salamona جو کہ ایک بوڑھا ہے اور اس کے پاس ایک کتا بھی ہے۔

 

خیر ناول کے دوسرے حصے کا ذکر کرتا چلوں  کہ یہ حصہ ناول کا سب سے زیادہ دلچسپ ہے جب Meursault  ایک عرب بندے کو قتل کرتا ہے اور اس کو گرفتار کر کے  جیل لے جایا جاتا ہے ۔شروع میں اس کے لئے جیل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے  کہ وقت کیسے گزارا جائے کیونکہ وہ باہر کی دنیا کا عادی تھا۔ اس کوفت کو دور کرنے کے لئے یہ پرانی یادوں کو دہرانے لگا، اور جتنا زیادہ یہ سوچتا اتنی ہی زیادہ تفصیلات یاد آتی جاتیں ۔

اور اسے اب یقین ہوگیا کہ

That "A man who had lived only one day could Easily live for a hundred years in prison. Because he would have enough memories to recount to keep from getting bored."

اس کے لئے کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا سوائے اس کے ۔

بہرحال، آخر کار اس کے آخری فیصلے کا دن نزدیک آتا ہے ۔جہاں سب گواہان جن میں(Celeste, Raymond, Salamona )اور اس کا سرکاری وکیل اور دوسرا وکیل  جیوری کا صدر اس کی دوست Marie سب وہاں تھے۔ 

اس سے پہلے Marrie اس کو کہتی ہے کہ امید قائم رکھنا ۔ 

جب مقدمہ کی سماعت شروع ہوتی ہے  ۔جب گواہوں کے نام پکارے جاتے ہیں  تو وہ حیران ہوجاتا ہے  اور وہ ان کو پہچان نہیں سکا۔


آغاز غیر ضروری سوالات سے شروع ہوتا ہے اور  Meursault سمجھ جاتا ہے کہ وہ ان سے ان کی والدہ کے بارے میں پوچھ گچھ کرے گا اور ایسا ہی ہوا۔ پھر جب اس پوچھا گیا کہ تم نے عرب کو کیوں مار دیا تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو محض اتفاق سے ہوا۔ اور سورج کی روشنی جو میری آنکھوں پر پڑی اور مجھےکچھ نظر نہیں آیا تو میں نے فائر کردی ۔

لیکن اس کے باوجود وکیل نے وہی سوالات کو نہیں چھوڑا جس کا قتل کے واقعہ سے بالکل کوئی تعلق نہیں تھا ۔ اس کو قصور وار اس لئے ٹھہرایا گیا کہ وہ والدہ کی وفات پر "پرسکون کیوں تھا؟" اس نے کامیڈی مووی کیوں دیکھی، اس نے کافی اور سگریٹ کیوں پی؟ اور جو گواہ تھے انہوں نے بھی یہی کہا۔ Celetes نے کسی حد تک اس کی حمایت کی کہ وہ اچھا بندہ ہے لیکن کام نہ آئی ۔ اور اس سب کچھ ہوجانے کہ بعد Maursault کہتا ہے کہ 

For the first time I realized that I was guilty. 


اس کے بعد وہ کچھ نہیں کرتا کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب بے معنی ہیں ۔ اور جب آخر میں جیوری کا صدر کہتا ہے کہ کیا آپ کچھ کہنا چاہتے ہے کیونکہ اسے سزا موت سنا دی جاتی ہے  اور یہ کہتا ہے نہیں ۔ وہ بس یہ چاہتا ہے کہ اسے جیل کے کوٹھڑی میں لے جائے تاکہ وہ وہاں دیر تک سو سکے۔ 

آخر میں اس کے پاس جیل کے کوٹھڑی میں پادری اس کے پاس آتا ہے تاکہ وہ Maursault کو نصیحت کرسکے اور ان کو توبہ کے لئے راغب کریں تو جب پادری کہتا ہے کہ آپ خدا کی رحمت سے مایوس کیوں ہیں؟  تو Maursault کہتا ہے کہ 

"I had only a little time left and I didn't want to waste it on God."

وہ پادری سے تنگ آجاتا ہے اور اس کو گالیاں دینا شروع کر دیتا ہے پادری اس کو کہتا ہے کہ میں آپ کو دعا کروں گا تو یہ جواب میں کہتا ہے کہ مجھے آپ کی دعاؤں کی ضرورت نہیں ۔ فنا ہوجانے سے تو جنم میں جلنا بہتر ہے ۔ 

It's better to burn than to disappear. 

پادری پھر سے کہتا ہے کہ 

“Have you no hope at all? And do you really live with the thought that when you die, you die, and nothing remains?” “Yes”, I said.”

اور آخر زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے دل کو کائنات کی شفق بے اعتنائی کے سپرد کر دیا۔

اور اب بس اس کی زندگی کی آخری خواہش رہ گئی تھی کہ جس دن وہ تختہ دار پر چھڑے تو اس روز بہت بڑا ہجوم ہو اور لوگ میرا استقبال لعنت و ملامت اور گالیوں سے کریں ۔

I opened myself to the gentle indifference of the world. 

He would just for his execution to be watched by crowd making "Cries of hate."


Comments

Popular posts from this blog

چیخوف افسانہ

عشق کے چالیس اصول

DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ