یہ ساتھ کبھی نہ چھوٹے گ
یہ ساتھ کبھی نہ چھوٹے گا
تحریر: گوینتھ ہیوز
ترجمہ : ایس. نقوی
قسط نمبر : 19
انڈیا میں تعینات ایک انگریز آفیسر کے بچے کی پر اسرار کہانی
یکایک بجلی کے تاروں میں گڑ بڑ شروع ہو گئی۔ بلب جلنے بجھنے لگے۔ خاتون سمیت، سارجنٹ اور Hannah بھی گھبرا گئے۔ باہر کھڑکی کے قریب کھڑا ٹام بھی ہراساں تھا۔
“ باہر کون ہے؟” Dorothea کی بہن Jasmine نے ڈری ہوئی آواز میں سارجنٹ سے پوچھا۔ اچانک وہ سارجنٹ کو تقریباً دھکا دیتے ہوۓ آگے بڑھی، دروازہ کھولا تو کھڑکی کی اوٹ میں ٹام کو کھڑے پایا۔ ٹام پر نظر پڑی تو چلائی، اور مارنے کے لیے دوڑی
“ تم ، قاتل” اس کے پیچھے ہی سارجنٹ اور Hannah نکلے۔ سارجنٹ نے آگے بڑھ کے Jasmine کو پکڑا ۔ ٹام Jasmine سے بچنے کے لیے گاڑی کی طرف الٹے پاؤں بھاگا۔
“Miss. Hutton ٹہرئیے” Hannah بھی Jasmine کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
“اس نے میری بہن Dorothea کو مار دیا۔” Jasmine روتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔ اس ساری افراتفری کے دوران سارجنٹ سہارا دے کر ٹام کو گاڑی میں بیٹھا رہا تھا۔
“ نہیں، نہیں ، اس نے آپ کی بہن کو نہیں مارا۔” Jasmine کو سنبھالتے ہوئے Hannah کہہ رہی تھی۔
“ یہ میری بہن کو خطرے والی جگہ لے گیا اور اسے مرنے دیا۔ یہ اس کی غلطی تھی۔” Jasmine کہہ رہی تھی۔
“ آپ کا خیال ہے کہ یہ اس بات سے واقف نہیں؟” Hannah شکستگی سے Jasmine سے کہہ رہی تھی۔
“تم یہاں کیوں آئیں؟” اب Jasmine اپنا غصہ Hannah پر نکال رہی تھی۔
“ کیونکہ لوگ مر رہے ہیں اور میں ان عجیب و غریب طریقے سے ہونے والی اموات کے سلسلے کو روکنا چاہتی ہوں۔” Hannah رندھی ہوئی آواز میں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے ہوۓ Jasmine سے کہہ رہی تھی۔
“ مرنے والے جو تمہارے قریبی ہیں، جن سے تم پیار کرتی ہو؟” Jasmine نے پوچھا۔ Hannah نے ایک نظر گاڑی میں بیٹھے Sean پر ڈالی اور بولی ،
“نہیں”
“اچھا ابھی تک تمہارا کوئی پیارا نہیں مرا۔” Jasmine نے عجیب طرح کہا۔
اب تک سارجنٹ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا، Hannah بھی Jasmine کی بات پر دلبرداشتہ ہوکر گاڑی میں جا بیٹھی - سارجنٹ نے روتی پیٹتی Jasmine کو وہیں چھوڑا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
اتنی تگ و دو کے بعد بس یہ پتہ چلا تھا کہ Scarborough Fair کے گانے کے آخری مصرے میں کوئی پراسرار قوت موجود تھی۔
——————————————————
گاڑی واپسی کا سفر طے کر رہی تھی ۔ گاڑی میں موجود چاروں افراد فکر مند تھے کہ آگے کیا ہوگا؟ پر اسرار موتوں کا سلسلہ کیسے رکے گا؟
“ ٹھیک ہے” ٹام بالآخر بولا۔
“ ہم سب اب گھر جائیں گے۔” سارجنٹ قطعی لہجے میں بولا تو Hannah نے مایوسی سے اسے دیکھا پھر اپنے بھائی کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔ اسے لگ رہا تھا کہ کسی کو اس کی اور اس کے بھائی کی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ وہ رونے لگی کہ کیسے اپنے بھائی کو بچاۓ؟ اس کی نظروں کے سامنے پھر وہی مناظر گھومنے لگے ، جھیل میں گرتے بارش کے قطرے، جھیل کنارے اس کو خاموشی کا اشارہ کرتی وہیل چئیر پہ بیٹھی مریضہ Nancy, اور وہ خود جھیل میں ڈوبتی ہوئی۔
ٹام نے ایک گہری سانس لی اور خود کلامی کے انداز میں بولا،
“ ساری کہانی Goathland سے شروع ہوئی ، جیسے کہ وہ دنیا کا دوسرا کنارا ہو ، میں ان دنوں Morris Minor میں موسیقی کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ مجھے Scarborough Fair گانے کی بہت ساری دُھنیں آتی تھیں، بہت سارے شعر پتہ تھے ، لیکن Richard Hutton کی طرز بے حد مختلف تھی، اور وہ صرف تین شعر ہی گاتا تھا۔ میں ان دونوں پاگل ہو گیا تھا۔ میں سوچتا کہ وہ کیا چھپا رہا ہے؟ کیا اس کو آخر تک گانا آتا ہے اور وہ گا نہیں رہا۔ پس ایک دن میں نے اس کے گھر گیا دروازے پر دستک دی ،Dorothea نے دروازہ کھولا۔ میں ڈھونڈنے کچھ آیا تھا، مجھے مل گیا کچھ اور۔۔۔
——————————————————
“اب سچ سچ بتا دو Dorothea کے ساتھ کیا ہوا تھا۔” سارجنٹ نے ٹام کو ٹوکا۔
“وہ سارے سال اس گھر میں جیسے ٹہر گئے ہیں، بس ساۓ ہیں ، میں لگا کہ وہ سمجھ جاۓ گی، لیکن ایشا مجھے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھی۔” ٹام بتاتے بتاتے رونے لگا تھا۔
“ ٹام جھیل کے پاس کیا ہوا تھا؟” Hannah نے پوچھا جو پچھلی سیٹ پہ بیٹھی پوری توجہ سے ٹام کی بات سن رہی تھی۔
“ کون سی جھیل؟” ٹام نے حیرانی سے پو چھا۔
“ یہ خواب میں ایک جھیل دیکھتی ہے۔” Hannah کے بجاۓ سارجنٹ نے جواب دیا۔
“ اس خواب میں ایشا ، تم، اور میں ہوتے ہیں۔” Hannah نے اضافہ کیا۔
“ اچھا؟ لیکن اس سارے قصہ میں تو کوئی جھیل نہیں ہے ، ہاں سمندر ضرور ہے۔” ٹام واقعی نہیں سمجھا تھا ۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ گتھی آخر ہے کیا؟ بارش پھر شروع ہو چکی تھی۔ بارش کے ساتھ ہی سردی کی شدت بھی بڑھ گئی تھی ۔ سنسان ، اندھیری سڑک پر گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں تھی۔
سارجنٹ Hannah اور اس کے بھائ Sean کو پہلے ان کے گھر چھوڑنے گیا۔ گاڑی سے سارجنٹ ، Hannah، اور Sean تینوں اتر آۓ، سارجنٹ نے Hannah سے کہا،
“ اب اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ تم Sean کو بھی سلاؤ اور خود بھی سونے کی کوشش کرو، اور ساری پریشانیاں مجھ پہ چھوڑ دو۔”
“ میں بڑی ہوگئی ہوں ، مجھے اب ابا کی ضرورت نہیں، Sean کو ہاں ضرور باپ چاہیے ۔” وہ تلخی سے کہہ کر گھر میں داخل ہو گئی۔ وہ آج کا دن کبھی نہیں بھول سکتی تھی۔ سارجنٹ اس کے گھر میں بحفاظت جانے کے بعد دوبارہ اپنی گاڑی میں آ بیٹھا۔
—————————————————-
Hanna بھائی کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی تو اس کی ماں نے اپنے بیڈ روم سے نکل کر پوچھا،
“ کون ہے؟ تم دونوں کو گھر آنے کی فرصت مل گئی، آج تم دونوں نے میری جان نکال دی تھی۔ تم نے گھڑی دیکھی ہے ، صبح کے پانچ بج رہے ہیں۔ کہاں تھے تم دونوں؟”
“ ساحل سمندر پر، اس کا خیال رکھنا ، مجھے پھر باہر جانا ہے۔” اس نے بے تاثر لہجے میں ماں سے Sean کا خیال رکھنے کا کہا۔
“ پھر جاؤ گی؟ میں تمہارے لیے بہت فکرمند تھی۔” اس کی ماں سینے پہ دونوں ہاتھ باندھے اس پر چلا کر کہہ رہی تھی۔
“ اوہ پلیز، مجھے پتہ ہے آپ کو ہماری کتنی فکر ہے۔” وہ Sean کو کمرے میں چھوڑتے ہوۓ ماں سے کہہ رہی تھی۔ کہتے کہتے رونے لگی اور سیڑھیاں اتر کر نیچے چلی گئی۔
————————————————
“ Hannah اور اس کے بھائی کو چھوڑ کر سارجنٹ اور ٹام پھر چل پڑے تھے۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد ٹام نے سارجنٹ کی دیکھتے ہوۓ خوشگوار موڈ میں کہا،
“ چلو، کسی pub یا نائٹ کلب میں چلتے ہیں، کچھ عورتوں سے چھیڑ چھا کریں گے ۔”
“ میں تم جیسا نہیں ہوں۔” سارجنٹ نے سختی سے کہا۔
“ کیوں؟ ہم دونوں ہی اکیلے ہیں، دونوں ہی کی جوانی جا چکی ہے، میں تو اس٘ی سال سے زیادہ کا ہو چکا ہوں۔” ٹام نے سارجنٹ کے سخت لہجے کی پرواہ نہ کرتے ہوۓ کہا۔
“ کسی کے پاس ملکہ برطانیہ کی طرف سے 105 یا 110 سال ہونے پر سالگرہ کے کارڈ نہیں آتے، تمہیں میرے کچھ سوالوں کے جواب دینے ہوں گے۔” سارجنٹ نے خالص پولیس والوں کے لہجے میں ٹام سے کہا۔ یہ کہتے کہتے ٹام کو پولیس اسٹیشن لے آیا ۔ پولیس اسٹیشن دیکھ کر ٹام گھبرا گیا۔
—————————————————-
ادھر دن بھر کی تھکی ہاری Hannah کچن میں کچھ کھانے کے لیے آئی ، دیکھا تو سارا کچن پھیلا پڑا تھا۔ پیچھے پیچھے اس کی ماں بھی کچن میں چلی آئی۔
“ تم ہمیشہ مجھ سے نا خوش نظر آتی ہو۔” اس کی ماں نے کہا۔ Hannah سنے ہوۓ برتن سنک میں ڈال رہی تھی۔
“ امی میں صرف سات سال کی تھی جب آپ مجھے چھوڑ کر چلی گئیں تھیں ، اور ابو کر میرے لیے ایک آیا رکھنی پڑی تھی۔وہ صرف تین سال کے لیے میری آیا تھی، اور میری عمر کیا تھی؟” وہ بکھر رہی تھی اور شاید ماں سے سارے حساب بے باق کرنا چاہتی تھی۔
“ نو سال کی۔” اس کے سوال کے جواب میں اس کی ماں نے کہا۔
“ آپ نے مسکراتے ہوۓ دروازہ کھولا اور پھر ہماری زندگی میں آ گئیں ، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔” وہ اب بھی تیز تیز ہاتھ چلاتے ہوۓ پھیلا ہو کچن سمیٹ رہی تھی۔ اس کی ماں اب بھی اس کی تھکن، بھوک ، اور پریشانیوں سے لاپرواہ اپنے دکھوں کا اشتہار بنی کھڑی تھی۔
“ اہم بات یہ ہے کہ میں واپس آ گئی تھی۔” اس کی ماں نے جیسے کہ واپس آ کر اس پر احسان کیا ہو۔
“ آپ کو پتہ ہے ، وہ آیا جس نے میرے ساتھ صرف تین سال گذارے تھے جب مجھے چھوڑ کے جا رہی تھی تو مجھ سے لپٹ لپٹ کے روئی تھی۔ آپ جو میری ماں تھیں ، جب آپ مجھے چھوڑ کے جا رہی تھیں ، اپنے ایک دفعہ بھی مجھے گلے بھی نہیں لگایا تھا، مجھے چھوڑ کے جانے کا آپ کو کوئی فسوس نہیں تھا۔ بس آپ تو جیسے غائب ہو گئیں تھیں ۔” اس کے شکوے ختم ہونے میں نہیں آ رہے تھے۔
“جب میری آیا جا رہی تھی نا تو اس نے مجھے سینے سے لگایا تھا ، میرے گالوں پہ بہت پیار کیا تھا، حالانکہ اب تو مجھے اس کا نام بھی یاد نہیں، مگر میں اس کا پیار نہیں بھولی ہوں۔” ممتا سے محرومی نے اس کو زودرنج بنا دیا تھا۔ اس کو بہت جلدی رونا آ جاتا تھا۔ اس وقت تو ماں سامنے کھڑی تھی ، اس کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے تھے۔
“ میرے دل سے تمہارا پیار کبھی کم نہیں ہوا۔” اس کی ماں کہہ کر اس کو گلے لگانے آگے بڑھی مگر وہ اس سے دور ہٹ گئی، وہ ماں کے چہرے کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی۔
“ میرے اور تمہارے باپ میں ایک بات مشترک تھی، اور وہ تھا تم سے ہمارا پیار۔ “ اس کی ماں ناراض بیٹی کو منانے کی کوشش کر رہی تھی جو اب بالکل چھوٹی بچی کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی۔
“ مجھے یاد ہے میں ہر رات سیڑھیوں کے اوپر بیٹھی بس سوچتی رہتی کہ میں کیا کروں کہ آپ اور ابو ایک دوسرے سے پیار کریں، ایک دوسرے کا خیال کریں۔”
“ ان لڑائیوں کا کوئی مطلب نہیں تھا، میاں بیوی میں ایسی لڑائیاں ہوتی ہی رہتی ہیں۔” اس کی ماں نے مدافعتی انداز میں کہا۔
“ مگر یہ سب ایک چھوٹی بچی کو کیا پتہ؟” اس نے پھر شکایت کی۔
“ میں کہہ رہی ہوں نا کہ میاں بیوی میں یہ سب چلتا ہے ، ہماری محبت ایسی ہی تھی۔” اس کی ماں نے کہا۔
“ میرا دل چاہتا تھا کہ کوئی جادو ہو جو آپ کے اور ابو کے درمیان ساری تلخیاں ختم کر دے۔” اس نے اپنے دل کی حسرت بتائی۔
“ جس رات ابو کا انتقال ہوا۔” وہ کہہ ہی رہی تھی کہ اس کی ماں نے افسردگی سے اسے ٹوکا،
“ پلیز یہ سب مت دہراؤ۔” اس کی ماں نے التجا کی۔
“ اس رات بھی آپ لوگ لڑ رہے تھے، میں یہ لڑائی دیکھتے دیکھتے تھک گئی تھی ، میں نے سوچا کہ ٹھیک ہے دونوں اگر ایک دوسرے کو قتل کر دیں ، مجھے کیا؟ یہ سوچ کر میں اپنے کمرے میں آ گئی۔ پھر ابو زور سے دروازہ پٹخ کر باہر نکلے ، میں نے ان کی گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز سنی، مجھے پتہ تھا کہ وہ گاڑی بہت تیز چلائیں گے۔” اب دونوں ماں بیٹی رو رہیں تھیں ۔
“ اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں۔” اس کی ماں نے اس کو دلاسہ دینے کی کوشش کی۔ اتنے میں اس کی ماں کا بواۓ فرینڈ اوپر سے نیچے آیا۔ گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر نکل گیا۔ اس نے حیرت سے پہلے اس جاتے ہوۓ آدمی پھر اپنی ماں کو دیکھا۔ اس کی ماں شرمندہ کھڑی تھی۔
“ امی مجھے آپ کے بواۓ فرینڈز سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر وہ آپ کو خوش رکھ سکیں۔”
“تم نے اپنے بارے میں کیا سوچا ہے میری گڑیا رانی ؟ تم اپنی زندگی کب شروع کرو گی؟” اس کی ماں کے لہجے میں فکرمندی تھی۔
“ ابھی تو میں بھائی کی دیکھ بھال میں مصروف ہوں ۔” اس نے شانے اچکاتے ہوۓ کہا، اور ماں کو روتا چھوڑ کر اوپر چلی گئی۔۔۔
——————————————————
“ اس دن پھر میری سالگرہ تھی، ایک ڈاکیے نے میرے دروازے پر دستک دی، وہ ملکہ برطانیہ کی طرف سے کارڈ لایا تھا۔ میں سمجھا شاید یہ میرے لیے اس گھر سے نکلنے کا موقعہ ہے، 110 سال، ایک لمبی عمر ہے۔” پولیس اسٹیشن میں بیٹھا ٹام ٹہر ٹہر کر سارجنٹ کو اپنی داستان سنا رہا تھا۔
“ تم زیر حراست نہیں ہو، تم کسی بھی وقت گھر جا سکتے ہو، لیکن تمہیں شروع سے سب کچھ بتانا ہو گا ۔” سارجنٹ نے ٹام پر صورتحال واضح کی۔ ٹام تھوڑی دیر سوچتا رہا۔پھر بتانا شروع کیا،
“ ایک نعرہ بن گیا تھا،
Remember Scarborough
جرمنی نے دسمبر 1914 میں Scarborough پر بمباری کی تھی جس میں میرے والدین مر گئے تھے۔ میرے والدین اسی سال انڈیا سے واپس انگلینڈ آۓ تھے۔ اس بمباری کا چرچا لندن تک میں ہوا۔ میرے والدین کا نام بھی مرنے والوں کی فہرست میں شامل تھا جو اخباروں میں چھپا تھا، جن کا ایک بدقسمت بچہ تھا جو اس بمباری میں بچ گیا تھا۔” سارجنٹ ٹیپ ریکارڈر پر ٹام کا یہ بیان ٹیپ کر رہا تھا۔ ٹام نے مزید بتانا شروع کیا۔
“اس وقت ایشا لندن میں تھی جو انتظار کر رہی تھی کہ شاید کوئی اورانڈیا جانے والا انگریز آفیسر اسے ملازمت پہ رکھ لے تاکہ وہ اپنے گھر واپس جا سکے۔دوسرے انگریز آفیسرز کی طرح میرے والدین نے بھی اسے انڈیا سے لا کر لندن میں بے یارو مددگار چھوڑ دیا تھا۔ لیکن میرے والدین نے اسے بہت سارے پیسے دے دئیے تھے۔ اس نے ایک کارگو شپ کو جو انڈیا جا رہا تھا، اس کے عملے کے کسی فرد کو رشوت دے کر راضی کر لیا تھا کہ وہ کسی طرح چھپا کر اسے جہاز میں سوار کرا دے۔ اس کارگو جہاز کا نام تھا، ‘ ہیرا’۔ اس کارگو جہاز نے آدھے میل کا ہی سفر طے کیا تھا کہ Scarborough کے مشرق میں ایک زیر زمین چٹان سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔ وہ 1914 کا کرسمس کا دن تھا۔ اس میں عملے کے دس کے دس افراد مر گئے، اور ایک مسافر بھی۔ عملے کے افراد کے نام تو اخبارات میں چھپے مگر اس مسافر کا نام کہیں نہیں تھا، کیونکہ کسی کو پتہ ہی نہ تھا کہ جہاز پر کوئی مسافر بھی تھا۔ ایشا بھی اپنے گھر نہ جا سکی ، میں بھی اکیلا رہ گیا۔ ہم دونوں Scarborough میں اکیلے رہ گئے ، وہ ساحل پر اور میں اپنے کھنڈر ہو جانے والے گھر میں ۔ مگر پھر اس نے مجھے ڈھونڈ لیا، اب اس کے لیے میں اور میرے لیے وہ ۔ میں زندہ اور وہ بھٹکتی ہوئ ۔۔” ٹام کہتے کہتے خاموش ہو گیا۔
سارجنٹ نے کچھ اٹھا کے ٹام کے سامنے رکھ دیا۔ ٹام نے جیب سے چشمہ نکال کے دیکھا تو وہ ایک فوٹو کے دو پھٹے ہوۓ حصے تھے جن کو ٹیپ لگا کے جوڑ دیا گیا تھا۔ ٹام نے دیکھا وہ اس کا اور ایشا کا فوٹو تھا ۔
“ کیا ان دونوں حصوں کو تم نے جوڑا ہے؟” اس نے سارجنٹ سے پو چھا۔
“ کیا تم نے اس فوٹو کو پھاڑا تھا؟ یا Dorothea نے“ سارجنٹ نے تفتیشی انداز میں پوچھتے ہوۓ ٹام کے سامنے اس کی اور Dorothea کی شادی کا فوٹو رکھ دیا۔
“ جب میں Dorothea سے پہلی دفعہ ملا تو وہ صرف اٹھارہ سال کی تھی۔ بس پہلی نظر میں پیار ہو گیا۔ میں نے اس کو اپنی اصل عمر نہیں بتائی، میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مجھے چھوڑ دے۔” سارجنٹ اس پر نظریں گاڑے توجہ سے سن رہا تھا۔ Dorothea کے ذکر پر ٹام کے لہجے میں خوشی بھر گئی تھی۔
“ لیکن پھر جب میں نے اسے اپنی عمر بتایا تو پھر کچھ بھی نہیں چھپایا، سب کچھ بتا دیا، سب کچھ۔ مجھے اس سے اتنی محبت تھی کہ میں نے کچھ نہیں چھپایا۔ ایشا کے بارے میں بھی کہ کیسے وہ میرے ساتھ رہتی ہے اور میری دیکھ بھال کرتی ہے۔ Dorothea میری مدد کرنا چاہتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ ایشا مجھے چھوڑ دے اور اس کی روح کو سکون مل جاۓ ، اور وہ اپنی دنیا میں چلی جاۓ ، مرنے کے بعد والی دنیا۔” کہتے کہتے ٹام کی آواز گلو گیر ہو گئی۔
“Dorothea نے مجھ سے کہا , چلو میرے نانا کا گانا آخر تک گاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا اس سے واقعی بھٹکتی ہوئی روحوں کو سکون مل جاتا ہے اور وہ اپنی دنیا میں چلی جاتی ہیں۔ ہم کو پتہ نہیں تھا کہ روحوں کو سکون ملنے کی بات ٹھیک تھی یا نہیں۔” ٹام نے مزید بتایا۔
“ Dorothea نے طے کر لیا تھا کہ وہ ہر حال میں گانا آخر تک گاۓ گی، جیسے ہی شادی کے بعد ہم گھر میں داخل ہوۓ وہ سیڑھیوں پر چڑھنے لگی اور ساتھ ساتھ گانا گانے لگی۔” اب بتاتے بتاتے ٹام کی آواز سے خوف جھلکنے لگا اور اس کا سانس پھولنے لگا۔۔۔
——————————————————
جیسے ہی Dorothea نے گانا شروع کیا مجھے برے برے خیالات آنے لگے، میں اس کی منتیں کرنے لگا کہ پلیز یہ گانا مت گاؤ۔” سارجنٹ پورے انہماک سے ٹام کی آپ بیتی سن رہا تھا۔
“میں نے اس سے کہا بھی کہ اگر تمہیں یہ گانا گانا ہے تو اسے آخر تک مت گانا، میں یہ کہہ ہی رہا تھا کہ میں نے ایشا کو سیڑھیوں کے اوپر دیکھا، اور بس پھر Dorothea سیڑھیوں سے گر گئی۔ میں نے اپنی پیاری بیوی کو گرتے ہوۓ دیکھا۔” یہ کہتے ہوۓ ٹام دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا کر رونے لگا۔
“ ٹام ،ایشا نے ایسا کیوں کیا؟” سارجنٹ کے سوال میں تجسس اور استعجاب تھا۔
“مجھے بس یہ پتہ ہے کہ ایشا نے اسے سیڑھیوں سے دھکا دیا تھا۔” ٹام بس یہ ہی کہہ سکا۔
“یہ انٹرویو صبح 6:24 منٹ پر ختم کیا گیا۔” یہ کہہ کر سارجنٹ نے ٹیپ ریکارڈر بند کر دیا۔
ٹام کے خالی گھر میں ایک سیپی سیڑھیوں سے گر رہی تھی، باتھ روم کے نل سے ٹپ ٹپ پانی بہہ رہا تھا، Attic میں کوئی غمزدہ عورت بین کر رہی تھی۔
———————————————————
پولیس اسٹیشن میں تفتیشی کمرے میں موجود میز کے ایک جانب سارجنٹ اور دوسری جانب ٹام خاموش بیٹھے تھے۔ اب کہنے کو رہ ہی کیا گیا تھا؟
“ تمہارا باس جب یہ ٹیپ سنے گا تو میرا مذاق اڑاۓ گا۔” ٹام نے جھکا ہوا سر اٹھا کر سارجنٹ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
“ میں اس ٹیپ کو اس الماری میں رکھ دوں گا جہاں یہ سات سال تک محفوظ رکھے جاتے ہیں اور سات سال کے بعد انھیں کوڑے میں پھینک دیا جاتا ہے۔” سارجنٹ نے ٹام کو اطمینان دلایا۔
“ اب ہم مل کر یعنی میں اور تم اس مسئلہ کا حل ڈھونڈیں گے۔” سارجنٹ نے ٹام پر زور دیتے ہوۓ حتمی لہجے میں کہا ،کیونکہ اس ساری کہانی میں یہ نہیں پتہ چلا تھا کہ اس وقت بپھری ہوئی ایشا کو کیسے قابو کیا جاۓ؟ اس کی بھٹکتی ہوئی روح کو کیسے قرار آۓ ؟ پر اسرار موتوں کے سلسلے کو کیسے روکا جاۓ؟ سارجنٹ کی اس بات پر ٹام نے اسے ایسے دیکھا جیسے اسے سارجنٹ کی بات پسند نہ آئی ہو۔
سارجنٹ کہنیاں میز پر رکھ کر آگے کی طرف جھک آیا اور ٹام نے سر جھکا لیا جیسے اسے اس مسئلے کے حل میں کوئی دلچسپی نہ ہو۔
“ تم ایشا کو لے کر اپنے گھر کیوں نہیں چلے جاتے؟” سارجنٹ نے ٹام سے استفسار کیا۔
“ تم اسے اپنے گھر لے جاؤ ، وہ تمہارے واپس آ جانے سے خوش ہو جاۓ گی، بس تم دونوں اور کوئی نہیں۔ ٹام اور ایشا ہمیشہ کی طرح ساتھ ساتھ ، اور ان دونوں بچوں Hannah اور اس کے بھائی Sean کی جان بچ جاۓ گی۔” سارجنٹ اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ٹام خاموشی سے سنتا رہا پھر بولا،
“ اب بہت دیر ہو چکی ہے، میں اب ایشا کو نہیں روک سکتا۔ میں ہمیشہ ایشا کے قبضہ میں رہا۔ Dorothea کے مرنے سے لے کر آج تک بس میں اور ایشا ہی ساتھ رہے۔ میں نے گھر سے نکلنا، لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا، مجھے لگتا تھا کہ میں اس گھر میں ایسے ہی اکیلا مر جاؤں گا۔ میں ایشا کی قید سے تنگ آ گیا تھا۔روشانہ کی خبر گیری کرنے نے میرے دل میں پھر امید کی کرن جلا دی کہ شاید میں اپنی باقی ماندہ زندگی عام انسانوں کی طرح گذار سکوں۔ اس گھر سے چھٹکارہ پانے کے کئی منصوبے بناۓ مگر سب میں کوئی نہ کوئی خامی تھی۔ اب میں کسی طرح اس کی قید سے بھاگ نکلا ہوں ، میں دوبارہ اس قید میں کیوں جاؤں ؟” ٹام کی بات سن کر سارجنٹ کو غصہ آگیا اور وہ تیزی سے اٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔
سارجنٹ تھوڑی دیر بعد جب کمرے میں آیا تو اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ٹام کا سر توڑ دے۔ ٹام نے اس کے موڈ کی پرواہ کیے بغیر اس کی طرف دیکھ کر کہا،
“ میں ایک اور حقیقت تم کو بتانا چاہتا ہوں۔” سارجنٹ نے برہمی سے پوچھا،
“اب اور کیا ہے تمہارے پاس بتانے کے لیے؟”
“ میں نہ اسّی سال کا ہوں ، نہ 110سال کا۔” سارجنٹ کو حیرت کا جھٹکا لگا۔
“کیا مطلب؟” اس نے پوچھا۔
میرے والدین کے ہاں ایک بچہ ہوا جس کا نام انھوں نے ٹام رکھا۔ سرکاری دستاویزات میں پیدائش کا اندراج کرا دیا گیا۔ مگر کچھ عرصہ بعد اس بچے کا انتقال ہو گیا۔ اس زمانے میں میرے والدین انڈیا ہی میں تھے۔ میری ماں کی حالت پاگلوں والی ہوگئی ، وہ کہتی تھی کہ اس کا بچہ نہیں مرا، اس کو کوئی مردہ نہ کہے۔ میری ماں کی حالت دیکھ کر میرے باپ نے اس بچے کی موت کا اندراج سرکاری دستاویزات میں نہیں کرایا۔ اگر وہ زندہ ہوتا تو وہ اب 110 سال کا ہوتا۔ کافی عرصہ کے بعد میں پیدا ہوا تو انھوں نے میرا نام بھی ٹام رکھا۔ ایشا میرے بھائی ٹام کی نہیں بلکہ مجھ ٹام کی آیا تھی۔ Scarborough پر بمباری کے بعد درست معلومات جمع نہیں کی گئیں اور مجھے میرے بھائی ٹام کے طور پر سمجھا گیا۔ Scarborough کی بمباری میں بچ جانے والوں کی موت جب تک نہیں ہو جاتی انھیں ملکہ کی طرف سے سالگرہ کا کارڈ اور کچھ پیسے بھیجے جاتے ہیں، اسی لیے میرے اکاؤنٹ میں 5,000 پاوئڈ جمع تھے۔” ٹام کہہ کر خاموش ہو گیا۔
“ اس کا مطلب ہے کہ تم بے حس ہونے کے ساتھ ساتھ فراڈ بھی ہو۔” سارجنٹ نے دانت کچکچاتے ہوۓ کہا۔ ٹام کے تعاون سے انکار کے بعد اس کو اب Hannah اور اس کے بھائی کی زندگی کی فکر کھاۓ جا رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے)
قسط نمبر : 1 کا لنک:
https://www.facebook.com/groups/AAKUT/permalink/2830267570537091/
قسط نمبر : 2 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2701564086834275/
قسط نمبر :3 کا لنک:
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2742539696070047/
قسط نمبر : 4 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2742573622733321/
قسط نمبر :5 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2744220639235286/
قسط نمبر 6 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/
2745222095801807/
قسط نمبر 7 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2746113092379374/
قسط نمبر 8 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2747142332276450/
قسط نمبر 9 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2747909515533065/
قسط نمبر 10 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2749737542016929/
قسط نمبر 11 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2750762845247732/
قسط نمبر 12 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2751594205164596/
قسط نمبر 13 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2752518295072187/
قسط نمبر 14 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2753565584967458/
قسط نمبر 15 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2754535751537108/
قسط نمبر 16 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2755597104764306/
قسط نمبر17 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2756606311330052/
قسط نمبر 18 کا لنک
https://www.facebook.com/100009421297207/posts/2757513321239351/
Comments
Post a Comment