خامہ فرسائی یا ریاضت
خامہ فرسائی یا ریاضت__؟؟؟
اسی ہندی-ہندو خطے میں اور اسی کے زیر اثر بعض دیگر ہندو علاقوں کے قلم کار لکھتے نہیں بلکہ کہ ریاضت کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے رہے۔ ہیں-ہندی کے چند بڑے کمیونسٹ قلم کار بھی ادب نہیں لکھتے، ریاضت یا سادھنا کرتے ہیں-انہیں لکھنے کے دوران برہم رشی مہارشی بننے کی سنک ہوجاتی ہے-انہیں لکھنے کا نہیں بلکہ سادھو سنت بننے کا شوق چرانے لگتا ہے-یہی سبب ہے کہ ہندی کا ادیب زندگی میں بس اتنا ہی کرنا چاہتا ہے جنتا اجودھیا یا متھرا کا پنڈا کرلیتا ہے
انہی سمیانتر نامی جریدے میں ہندی کی صورت حال پر کبیدہ خاطر ایک دوست نے اظہار افسوس کرتے لکھا ہے کہ
🔴___"
ہندی میں فٹ پاتھی ادب کی کوئی عزت نہیں ہے (مزکورہ دوست ہندی کی عالمی سطح پر خاصے فٹ پاتھی ہیں )
وہ فٹ پاتھی ادب ہیں_"گاڈ فادر__"جیسی کتابوں کا ذکر کرتے ہیں اس کتاب کا شمار عالمی ادب میں نہیں کیا جاتا، لیکن ہندی میں گلشن نندہ جیسے لوگ اس نوعیت کا ادب تخلیق کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے ہیں
اگاتھا کرسٹی، آین فلمینگ، جیسا ادب ہندی میں کب لکھا گیا__؟؟؟؟؟
بچوں کے لیے انگریزوں نے تو ڈان کہیوٹے سے لے کر ہزاروں تمشیلی کہانیوں تک پوری دنیا کے لیے بڑی دلچسپ چیزیں لکھی ہیں اسپاٹڈرمین، اور فینٹم جیسی انوکھی با تصویر کہانیاں دی ہیں ہندی میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں للو قسم کا چودھری چیونٹی🐜 کا مقابلہ کر نہیں سکتا، لیکن کام جنَ سے لیتا ہے اور یہ کردار بھی عرب کی داستانوں سے لیا گیا ہے
ایسی ہندی، ہندو دنیا سے تعلق ہونے کو میں ایک تاریخی الیمہ مانتا ہوں لیکن کیا کروں باپ ہندی، ہندو بھگت تھے کہ انھوں نے مجھے یہاں پھنسا دیا- اِس بدقسمتی کی ایک مشال یہ بھی ہے کہ ہندی، ہندو جب ٹی وی📺 چینل شروع کرتا ہے تو آسھتا، سننکار بھگتی اور شردھا جیسے چینل دیکھنے کو ملتے ہیں-اُسے ڈسکوری ہسٹری، نیشنل جیوگراف یا اینیمل پلینٹ جیسے سائنسی یا معلوماتی چینل شروع کرنے کی توفیق نہیں ہوتی-اب سوال یہ ہے کہ ہندی، ہندوعلاقے کا دانشور مفت خوروں کی آسھتا اور سنکار کی دنیا سے جڑے یا ڈسکوری والی دنیا سے__؟؟؟؟
مصنف:-🔴مُدراراکش 🔴
ترجمہ:-⚫شاہ نواز قریشی ⚫
نوٹ:-_اس مضبون کا عنوان ہے__"ہندوستانی (نان ) کلچر کی ہندی، ہندو جڑیں
بہ شکریہ دنیا زاد مدیر آصف فرخی
Comments
Post a Comment