اُس پار نظم
~ اُس پار ~
میں دن کا صفحہ پلٹتے ہوئے
وہی لکھنے لگتا ہوں
تمُھارے ابُرو کی جنُبش
جو مُجھے بتائے جاتی ہے
تاریکی کی حقیقتیں لئے
تُجُھ میں سمائے جاتا ہوں
مُجھے تاریکی کے ثبوت چاہئیں
سیاہ وائن پینے کی طلب ہے
میری یہ آنکھیں لے لو
اور انھیں کُچل ڈالو
رات کا اک قطرہ
تُمھارے پستان کی نوک پر
گلُناری کا راز رکھے ہوئے ہے
اپنی آنکھوں کو بند کرتے ہوئے
تمُھاری آنکھوں میں انھیں کھولوں
تو یاقوتی بستر پہ ہمیشہ جاگتے ہوئے
تُمھاری مرطوب زُبان ملتی ہے
تُمھاری شریانوں کے باغیچے میں
چشمے بہتے دیکھتا ہوں
لہو کا نقاب پہنے
میں تُمھاری سوچوں سے
خالی خول گُزرے جاتا ہوں
اور زندگی کی اگلی سمت جانے کو،
نسیان مری رہنمائی کئے جاتا ہے۔۔
ترجُمہ : نودخان
شاعر : اکتاویو پاز
~ Across ~
I turn the page of the day,
writing what I'm told
by the motion of your eyelashes.
I enter you,
the truthfulness of the dark.
I want proofs of darkness, want
to drink the black wine:
take my eyes and crush them.
A drop of night
on your breast's tip:
mysteries of the carnation.
Closing my eyes
I open them inside your eyes.
Always awake
on its garnet bed:
your wet tongue.
There are fountains
in the garden of your veins.
With a mask of blood
I cross your thoughts blankly:
amnesia guides me
to the other side of life.
by Octavio Paz
Comments
Post a Comment