رومی اور شمس تبریز کی کہانی
مذہب عشق کے 40 اصول
رومی اور شمس تبریز کی کہانی
از ایلف شفق
بھرپور زندگی میں نعمتوں سے سرفراز،ایک مکمل زندگی آپ گزارتے ہیں۔ یا آپ ایسا ہی سمجھتے ہیں،یہاں تک کہ کوئی آتا ہے اور آپ کو یہ ادراک کرواتا ہے کہ اس سارے وقت میں آپ کے پاس کس چیز کی کمی رہی ہے۔ کسی ایسے آئینے کی طرح موجود نہیں بلکہ غیر موجود کو بھی منعکس کرتا ہو،وہ آپ پر آپ کی روح کا خالی پن عیاں کرتا ہے۔۔۔ وہ خالی پن جسے دیکھنے سے آپ نے مزاحمت کی تھی،اجتناب کیا تھا۔ وہ شخص کوئی محبوب ہوسکتا ہے،کوئی دوست یا روحانی مرشد۔ بعض اوقات وہ کوئی بچہ ہوسکتا ہے جس کی دیکھ بھال کرنی ہو۔ اہم بات اُس روح کی تلاش ہے جو آپ کی روح کو مکمل کر دے۔ تمام پیغمبروں نے یہی نصیحت کی: کسی ایسے شخص کو تلاش کرو جو تمھارا آئینہ ہو! میرے لیے وہ آئینہ شمس تبریزہیں۔ یہاں تک کہ وہ آئے اور مجھے مجبور کیا کہ میں اپنی روح کے شگافوں اور درزوں میں جھانکوں،تب تک میں نے اپنے متعلق بنیادی سچائی کا سامنا نہ کیا تھا:یہ کہ چاہے باہر سے کامیاب،اقبال منداور آسودہ حال سہی،اندر سے میں تنہا،اداس اور بے تسکین تھا۔ یوں تھا جیسے آپ برسوں میں ایک ذاتی لغت مرتب کرتے ہیں۔ اُ س میں آپ ہر اُس خیال یا تصور کی تعریف بیان کر تے ہیں جو آپ کے لیے اہم ہوتا ہے،جیسا کہ "سچ"،"خوشی"یا"حسن"۔ زندگی کے ہر اہم اور فیصلہ کن موڑ پر آپ اس لغت سے استفادہ کرتے ہیں اور اس کے سرنامہ یا تمہید پر سوال اٹھانے کی ضرورت بہ مشکل ہی کبھی محسوس کرتے ہیں۔ پھر کسی روز کوئی اجنبی آتا ہے اور آپ کی قیمتی لغت چھین کر پھینک دیتا ہے۔ "تمھاری تعریفوں کی نئے سرے سے وضاحت کی ضرورت ہے۔"وہ کہتا ہے،"اب وقت ہے کہ تم وہ سب کچھ فراموش کر دو جو تم پہلے سے جانتے ہو۔" اور آپ،کسی ایسے سبب سے جو آپ کے دماغ کے لیے ناقابل فہم اور دل کے لیے واضح ہے،کوئی اعتراض اٹھانے یا پھر اُس کے ساتھ بحث کی بجائے خوشی سے تعمیل کرتے ہیں۔ شمس تبریز نے میرے ساتھ یہی کیا ہے۔ ہماری دوستی نے مجھے بہت کچھ سکھایاہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر انہوں نے مجھے وہ سب فراموش کر نا سکھایا،جو میں پہلے سے جانتا تھا۔ جب آپ کسی سے اس قدر محبت کرتے ہیں تو اردگرد موجود تمام لوگوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی اُس سے محبت کریں، آپ کی مسرت اور راحت کو بانٹیں۔ اور جب ایسا نہیں ہوتا تو آپ حیرت محسوس کرتے ہیں،پھر اشتعال اور پھر جیسے اُن کی بے وفائی۔ میں اپنے خاندان اور دوستوں کو ممکنہ طور پر وہ سب کیسے دکھا سکتا ہوں جو میں دیکھتا ہوں؟ میں ناقابل بیان کو کیسے بیا ن کر سکتا ہوں؟ شمس تبریز میرے لیے بحر رحمت وعنایت ہیں۔ وہ میرے لیے سچائی اور ایمان کے شمس ہیں۔ میں انہیں روح کا شاہِ شاہاں کہتا ہوں۔ وہ میرے لیے سرچشمہ حیات ہیں اور میرے بلند قامت سرو کے درخت،پُرشکوہ اور سدا بہار۔ اُ ن کی رفاقت قرآن پاک کی چوتھی بار قرات جیسی ہے۔۔۔ ایک سفر جس کا تجربہ صرف باطن سے کیا جاسکتا ہے لیکن اسے باہر سے یا ظاہرا کبھی نہیں سمجھا جاسکتا۔ بدقسمتی سے بیشتر لوگ عموما تاثر یا سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر اپنے جائزے اور اندازے بناتے ہیں۔ ان کے نزدیک شمس ایک سنکی درویش ہیں۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ شمس تبریز عجیب وغریب برتائو رکھتے ہیں اور کفریہ باتیں کہتے ہیں، اور یہ کہ وہ بالکل ناقابل پیش گوئی اور ناقابلِ بھروسہ ہیں۔ تاہم میرے نزدیک وہ اُس محبت کالب لباب یا نچوڑ ہیں جو پوری کائنات کو حرکت دیتی ہے،کبھی کبھار پس منظر میں پسپا ہوکر اور ہر شے یا ٹکڑے کو باہم جوڑکر،کبھی کبھار پھٹ کر پرزے پرزے ہوکر۔ اس قسم کا اتفاق زندگی بھر میں ایک ہی مرتبہ ہوتاہے۔ اڑتیس برس میں ایک بار۔ جب سے شمس تبریز ہماری زندگیوں میں آئے ہیں،لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان میں مجھے ایسا کیا خاص نظر آتاہے۔ لیکن کوئی صورت نہیں کہ میں انہیں جواب دے سکوں۔ انجام کار وہ لوگ جو سوال پوچھتے ہیں،وہی جو اس بات کو سمجھ نہیں سکتے اور جہاں تک اُن لوگوں کی بات ہے جو سمجھ سکتے ہیں،وہ ایسی باتیں پوچھتے ہی نہیں۔ میں خود کو جس گومگو کے عالم میں پاتا ہوں،وہ مجھے لیلیٰ اور مشہور عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی یاددلاتا ہے۔ ہارون الرشید نے جب یہ سنا کہ قیس نامی ایک بدوی شاعر لیلیٰ کی محبت میں گرفتار ہوکر اپنے عقل وہوش کھوبیٹھا تھا اور اس لیے اُسے مجنوں کہاجاتا تھا،یعنی دیوانہ۔۔۔ خلیفہ اُس عورت کے بارے میں متجسس ہوا جو اس کی غم زدگی اور بدحالی کا سبب بنی تھی۔ "یہ لیلیٰ ضرور کوئی خاص مخلوق ہوگی۔"اس نے سوچا،"دوسری تمام عورتوں سے کہیں برتر عورت۔ شاید وہ لاثانی حسن اور دل فریبی مالک کوئی ساحرہ ہے۔" پُرجوش،متجسس خلیفہ نے لیلیٰ کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے ہر چال چلی۔ آخر ایک روز اُس کے لوگ لیلیٰ کو محل میں لے آئے۔ جب ہارون الرشید نے لیلیٰ کا نقاب اٹھایا تو اُس کا طلسم ٹوٹ گیا،ازالہ سحر ہوگیا۔ یہ نہ تھا کہ لیلیٰ کوئی بدصورت،معذور یا بوڑھی عورت تھی لیکن وہ پُرکشش بھی نہ تھی۔ وہ عام انسانی ضرورتوں اور کئی خامیوں والی عام انسان تھی،ایک سادہ سی عورت،لاتعداد اور دوسری عورتوں جیسی۔ خلیفہ نے اپنی مایوسی چھپائی نہیں۔ "کیا تم وہی ہوجس کے لیے مجنوں دیوانہ ہوا پھرتا ہے؟کیوں؟تم اس قدر معمولی دکھائی دیتی ہو۔ تم میں ایسی کیا خاص بات ہے؟" لیلیٰ مسکرادی۔ "ہاں، میں لیلیٰ ہی ہوں۔ لیکن آپ مجنوں نہیں ہیں۔"اُس نے جواب دیا،"آپ کو مجھے مجنوں کی آنکھوں سے دیکھنا پڑے گا۔ دوسری صورت میں آپ محبت نامی اس معمے کو کبھی حل نہیں کر پائیں گے۔"میں اس طرح کے معمے کو اپنے خاندان،دوستوں یا طالب علموں کے سامنے کیسے بیا ن کر سکتا ہوں؟ میں انہیں یہ کیسے سمجھا سکتا ہوں کہ یہ جاننے کے لیے کہ شمس تبریز میں ایسی کیا خاص بات ہے،انہیں شمس تبریز کو مجنوں کی آنکھوں سے دیکھنا پڑے گا؟کیا پہلے خود محبت بنے بغیر کوئی صورت ہے کہ سمجھا جا سکے کہ محبت سے کیا مرادہے؟ محبت بیان نہیں کی جاسکتی۔ اس کو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ محبت کی وضاحت نہیں کی جاسکتی۔ تاہم،خود محبت ہر شے کی وضاحت کرتی ہے۔
مکمل تفصیل
Comments
Post a Comment