نیوزی لینڈ کی ماؤری تاریخ و ثقافت
نیوزی لینڈ کی ماؤری تاریخ و ثقافت
================================
تحریر۔ : صہبا جمال شاذلی (نیوزی لینڈ)
نیوزیلینڈ میں بسنے والے پہلے باشندے ماؤری(Maori) مشرقی پولینیشیا (Polynesia) سے واکا( کشتیوں ) کے ذریعہ ، ایک اندازہ کے مطابق ۱۳۲۰ سے ۱۳۵۰ کے درمیان ، نیوزیلینڈ میں داخل ہوے۔دراصل قبیلہ کے سردار کوپے(Kupe) اور اس کے لوگوں کے لیے ان کے وطن میں مچھلی کا شکار کرنا مشکل ہو چلا تھا ، لہذا وہ سمندر کی لہروں ، ہواؤں ، ستاروں اور پرندوں کی مدد سے راستہ بناتے ہوے نئی زمین کی تلاش میں نکل پڑے ۔ دور سے انھیں بہت بڑا سفید بادل دکھائی دیا۔ کہا جاتا ھیکہ کوپے کی بیوی کورا ماروتینی (Kuramarotini) یا ہینے ۔ٹی ۔ اپارنگی (Hine-te-aparangi) چیخ اٹھی “بادل ، بادل ، سفید بادل! ایک طویل سفید بادل !”اسی لیے اس زمین کو آوٹیروا (Aotearoa) کہا جس کے معنی ہیں “ طویل سفید بادل کی زمین “ ۔ ماؤری وہ پہلے قبائلی تھے جنھوں نے نیوزیلینڈ (Aotearoa) میں مستقل رہائش اختیار کی۔
کوپے نے اپنے سارے جہاز رانی اور سمت شناسی کے گر اپنے قبیلے کے لوگوں میں منتقل کردیے۔ پھر وہ دریافت کرتے ہوے نیوزیلینڈ کے شمالی اور جنوبی دونوں جزیروں پر پھیل گیے۔انھیں ہر جگہ جنگل ، پرندے اور جانور دکھائی دیے سواے انسانوں کے۔کھانے کے لیے انھوں نے موا(Moa) ، مقامی ، تقریباً ۱۲ فٹ اونچا ، نہ اڑنے والے پرندہ کا شکار کیا۔ لیکن جب وسائل کم ہونے لگے ، جیسے موا پرندہ کی معدومیت ، چھوٹے چھوٹے قبیلوں میں ان وسائل کے لیے لڑائیاں ہونے لگیں۔لیکن باہر والے دشمن کے لیے سارے قبائل یکجا ہو جاتے۔ان کی ایسی پہلی مدبھڑ ایبل تسمان (Abel Tasman) ، ایک سمندری ملاح سے ہوئی جس نے انڈونیشیا سے ۱۶۴۲ میں آتے ہوے جنوبی جزیرے میں گولڈن بے(Golden Bay) پر اپنی کشتیوں کو روکا۔ماوری قبائلی اپنی کشتیوں میں وہاں پہنچے اور انھیں للکارا “ دوست یا دشمن ؟” ایبل تسمان نے بگل بجایا اور اپنے لوگوں کے ساتھ ماوری قبیلوں سے ملنے کے لیے آگے بڑھا۔ لیکن ایک طرح کی غلط فہمی کے تحت ماوریوں نے اس کے چار ساتھیوں کو مار ڈالا۔اور ان کی کشتیوں کو توڑ ڈالا۔ تسمان بہت ناراض ہوا اور تعلقات کو آگے بڑھانے کا خیال ترک کردیا۔اور اس ملک کو نام دیا “ نییو زی لینڈ (Nieuw Zeeland) “ معنی۔ “ new sea-land” ۔ اور گولڈن بے کو “ Murderers Bay” ، لیکن یہ نام آگے جاری نہیں رہا۔
ماوری تاریخ ابتدا میں گیتوں اور کہانیوں کے ذریعہ آگے بڑھی کیونکہ اس وقت ماوری تحریری زبان کا وجود نہیں تھا۔۱۶۴۲ میں ایبل تسمان نے جنوبی جزیرے میں ماوری قبائلیوں سے لڑائی کے بعد اس نے مزید کھوج کا ارادہ منسوخ کردیا۔ البتہ اسی وقت سے یوروپینس (Europeans) کو بھی نیوزیلینڈ کا پتہ چلا اور وہ یہاں پہنچے۔ان کے آنے سے اس قبیلہ کی زندگی میں کئی تبدیلیاں آئیں۔سب سے پہلے تو سارے قبیلوں کو ملا کر انھیں “ ماوری “ کہا گیا ، جس کے معنی “ عام” ( ordinary) ہے۔
ماوری قبیلوں میں سب سے زیادہ پر اثر ہاپو (hapuu) قبیلہ تھا جو بنیادی طور پر زمینات کے مالک تھے اور شادی کو بڑی اہمیت ، اور وسیع خاندان کو ترجیح دیتے تھے ۔
۱۷۶۹ سے ۱۷۷۰ میں کیپٹن جیمس کوک سمندر کے راستہ نیوزیلینڈ پہنچا اور دونوں جزیروں، جنوبی جزیرہ اور شمالی جزیرہ ، کے بارے میں دریافت کیا ، ماوری قوم کو بے ھد ذہین پایا ، اور سمجھ گیا کہ نیوزیلینڈ نوآبادکاری (Colonization) کے لیے نہایت موزوں ہے۔ابتدا میں تو ماوری قبیلوں نے یوروپی قوموں کا پرتپاک خیرمقدم کیا ، لیکن بندوقوں ، بیماریوں ، مغربی زراعتی طریقے ، اور مذہبی جماعتوں نے ماوری تمدن ، اور سماجی ڈھانچہ کو بکھیر کر رکھ دیا۔اور ۱۸۳۰ کے آتے آتے نیوزیلینڈ کی شمولیت یوروپ میں ہو گئی ، اور یوروپی آبادکار لا تعداد آنے لگے۔
نیوزیلینڈ میں ماؤری ثقافت اور عقائد کی ابتدا مشرقی پولینیشین تہذیب سے ہوتی ہے۔ تاریخی طور پر ماؤری ثقافت کو چار ادوار میں بانٹا جاتا ہے۔
۱- ابتدائی دور جب ماؤری تہذیب پولینیشین سے علٰحیدہ نہیں ہوئی تھی —- قدیم یا دقیانوسی دور (Archaic period)۔
۲- یوروپین تہذیب سے رابطہ میں آکر لیکن پوری طرح پھیلنے سے پہلے —- کلاسیکی دور(Classic period)۔
۳۔ انیسویں صدی جہاں ماؤری اور یوروپین قومیں شدید طور پر باہمی تعامل بڑھانے لگیں —
۴۔ جدید دور جو بیسویں صدی کی ابتدا سے شروع ہوتا ہے۔
آثار قدیمہ کی شہادتیں بتاتی ہیں کہ پولینیشیا سے نیوزیلینڈ آنے والے باشندوں نے اپنے ساتھ کاشت کاری کا جو سامان لاے تھے ، وہ نیوزیلینڈ کی سرد آب و ہوا میں نشو نما نہیں پاسکے۔آبائی پرندوں اور سمندری جانوروں کا شکار کرتے ہوے ، ان کی نسلیں بھی ناپید ہونے لگیں۔آبادی میں اضافہ ، وسائل کے لیے مسابقت ، اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے ماوری تاریخ کے کلاسیکی دور میں بہت ساری سماجی اور تہذیبی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔ جنگجو تہذیب اور قلعہ بند گاؤوں کا نظام ، اور ان کے ساتھ ہی کئی قسم کے فنون لطیفہ ابھر کر سامنے آے۔ نیو زیلینڈ میں انگریزوں کی آمد نے ماؤریوں کی زندگیوں میں غیر معمولی تبدیلیاں لائیں۔ مغربی کھانے ‘ نئی ٹکنیکس (technology) ‘ نئے ہتھیار اور نئی تہذیب سے متعارف کروایا۔ اور پھر ۱۸۴۰ کا وہ دور آیا جب برطانوی تاج (British Crown) اور ماوری سرداروں کے درمیان ایک معاہدہ ( Treaty of Waitangi)طۓ پایا کہ نیوزیلینڈ برطانیہ مملکت کا حصہ اور اس کا ماتحت ہو گیا۔ ابتدا میں تو ماوری اور یوروپینس ( جنھیں ماوری پاکیھا (Pakeha) کہا کرتے تھے) کے درمیان تعلقات خوشگوار تھے۔ لیکن ۱۸۶۰ کے آس پاس متنازعہ زمینات کی فروخت ، بڑے پیمانہ پر زمینات پر قبضہ نے ماؤری اور یوروپینس کے درمیان کشیدگی پیدا کردی۔سماجی بحران اور کئی وبائی مرائض کے پھیلاؤ ماؤری قوم کی ہلاکت کے سبب بن گیے ، جس سے ان کی آبادی غیر معمولی طور پر کم ہوتی چلی گئی۔
البتہ بیسویں صدی کی ابتدا سے ہی ماؤری قوم کی آبادی بحال ہونے لگی۔اور سماجی ، سیاسی ، تہذیبی ، اور معاشی سطح پر نیوزیلینڈ سماج میں ان کی ترقی اور پہچان ہونے لگی۔ ۱۹۶۰ میں انکی رنجشوں کو ختم کرنے کے لیے جو احتجاجی تحریک چلائی گئی تھی ، اسے بھی کافی حمایت اور تائید حاصل ہوئی۔اس وقت نیوزیلینڈ کی پندرہ فیصد سے زیادہ آبادی ماؤری قوم ہے۔
آج ماؤری لوگ سارے نیوزیلینڈ میں پھیلے ہیں۔اور بڑی مستعدی سے اپنی ثقافت اور زبان کی حفاظت کرنے میں مصروف ہیں۔ ماؤری سماج کی مختلف سرگرمیوں ، جیسے سماجی ، ثقافتی ، اور روحانی معاملات پر توجہ دینے کے لیے مارے (marae) (plaza) مرکز ہے ۔ ایک عمارت جہاں پر میٹنگ ہال اور ڈائینگ روم ہوتا ہے۔بزرگ یہاں قبائلی کہانیاں ، اخلاق ، اور شجرہ نسب نئی نسل کو سکھاتے ہیں۔تاریخ کو زبانی ، قدیم کہانیوں ، افسانوں اور عظیم شخصیات کے بارے میں بیان کرنے کی روائیت آج بھی موجود ہے۔ کوپے کی سمندری مہموں کا تذکرہ ، ٹی فیکے(Te Wheke) کا واقعہ ، ہے ایکا اے مایوی (He Ika A Maui) کی داستان ، یا مایوی اور ٹیک (Maui and Tieke) کا قصہ __کہانیوں ، اور گیتوں کے ذریعہ ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتی رہتی ہیں۔
ان کی پہچان ان کے قبیلہ(iwi) ، ذیلی قبیلہ(hapu) ، پہاڑوں (maunga) ، اور ندیوں(awa) سے ہے۔ خاندان (whanau-فاناو) ، قریبی خاندان ، پھیلے ہوے خاندان جن میں خون کارشتہ موجود ہو ، بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔
ماؤری قبیلوں کی سماجی زندگیوں میں ان کے روائیتی فنون اہم مقام رکھتے ہیں۔نقاشی اور سنگ تراشی (carving)ان کے لیے ان کی تہذیب اور ماضی کے احترام کا ذریعہ ہے۔ نقاشی اور سنگتراشی کا ہر ایک نمونہ اپنی کہانی پیش کرتا ہے۔سر کی بناوٹ ، جسم کی وضع ، اور روائیتی سطحی پیش کش ناظرین کو اس واقعہ کی یاد دلوادیتی ہیں۔ (Weaving) بافندگی۔گروپ ڈانس۔فن تقریر (oratory )۔ گودنا(tattoo)۔ایسے نقوش گودوانا جو تاریخی کرداروں اور عقائد کو یا کسی خیال یا تصور کو ظاہر کرتے ہوں۔پیشہ ور فنکار عموماً اپنے آبا و اجداد کے طریقہ کار پر عمل کیا کرتے تھے ، لیکن موجودہ دور میں ماؤری ثقافت (Maoritanga) نے جدید طریقہ فن کو بھی شامل کرلیا ہے۔جیسے ، فلم ، ٹیلیویژن ، شاعری اور تھیٹر۔
ماؤری ثقافت جدید دور میں شہریت کی طرف منتقل ہونے لگی ۔اس کی وجہ تھی ماؤری باشندوں کا نیوزیلینڈ کے یوروپینس کے ساتھ بڑھتے ہوے اچھے تعلقات ، اور ساتھ ہی اپنی قدیم روائیتوں کو حیات نو بخشنا۔ ماؤری زبان (te reo Maori) بیسویں صدی کی شروعات میں ختم ہوتی دکھائی دے رہی تھی ، لیکن ۱۹۸۰ کے آتے آتے حکومت نے اسکولوں میں پرائمری سطح پر ماؤری زبان کا پڑھنا لازمی قرار دے دیا۔
نیوزیلینڈ آنے والا کوئی بھی شخص ، چاہے وہ سیاح ہو ، مہاجر ہو ، طالب علم ہو ، یا صرف ملاقاتی ہو ، سب سے پہلے ماؤری زبان سے واقف ہوتا ہے کیونکہ اکثر جگھوں کے نام بنیادی طور پر ماؤری زبان سے ماخوذ ہیں۔ نیا شخص ان ناموں کو دیکھ کر تذبذب کا شکار ہوجاتا ہے جنکا تلفظ ظاہری طور پر ناممکن سا لگتا ہے۔ویسے صوتیات کے مطابق ماؤری زبان انگریزی سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے ، سواے چند آوازوں کے ___ ‘wh’ جو ماؤری زبان میں ‘f’ ہے - اور ‘ng’ انگریزی میں لفظ کے اختتام پر (spring)یا لفظ کے درمیان ( finger)استعمال ہوتا ہے۔جبکہ ماؤری زبان میں لفظ کی ابتدا میں بھی استعمال ہوتا ہے ( Ngaroto)۔
اکثر جگھوں کے نام کچھ اس طرح سے ہیں۔
Akaroa : آکاروآ (طویل بندرگاہ)
Papatoetoe : پاپا ٹوے ٹوے(گھاس سے ڈھکی زمین)
Waiheke Island : وائی ہی کی آئی لینڈ(اترتا ہوا پانی)
Whangarei : فنگارے ای (بندرگاہ)
Ngaroto : انگاروٹو ( جھیلیں)
Onehunga : اونے ہنگا ( مدفن)
ویسے جب کوئی نیا شخص نیوزیلینڈ آتا ہے اور ماؤری ضابط اخلاق کو اپنالے تو یہاں کے یوروپین ( پاکیھا) اور ماؤری کے لیے مسرت کا باعث ہوتا ہے۔
Kia ora : Hello ( سلام)
Haere mai : Welcome ( خوش آمدید)
Haere ra : Farewell ( خداحافظ)
Hei konei ra : see you later ( پھر ملتے ہیں)
ہاکا (The Haka) ماؤری تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے جو ماؤری ورثہ کی عکاسی کرتا ہے۔نیوزیلینڈ میں ہاکا کی ابتدا ماؤریوں کی سب سے پہلے آنے والے یوروپینس سے مدبھڑ سے شروع ہوتی ہے۔یہ ایک قسم کا جنگی ڈانس ہے ، جب اپنے مخالف کو قبل از جنگ للکارا جاتا ہے۔ویسے اس کی کئی قسمیں ہیں لیکن سبھی میں ہتھیاروں کے ساتھ ہی مظاہرہ ہوتا ہے۔آج نیوزیلینڈ میں لوگ اس بات کے عادی ہو چکے ہیں کہ آل بلیک ٹیم (All Black Team) کے کھلاڑی ہاکا کا استعمال رگبی (Rugby ) کا کھیل شروع ہونے سے پہلے اپنے جوش اور فخر کے اظہار کے لیے کرتے ہیں۔ نیوزیلینڈ آرمی نے اپنا ایک انوکھا اور منفرد قسم کا ہاکا ہے جس میں صرف خواتین فوجی ہاکا کرتی ہیں۔اور اب ہاکا کسی بھی اہم تقریبات میں کیا جانے والا قومی مظاہرہ بن چکا ہے ، نیوزیلینڈ میں بھی اور نیوزیلینڈ سے باہر بھی۔
جہاں تک ماؤری ادب کا تعلق ہے ، تقریباً ۱۹۷۰ تک نیوزیلینڈ کے مابعد نوآبادیاتی انگریزی ادب سے کوئی رشتہ قائم نہ ہوسکا۔ البتہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ماؤری ادیب ابھر نے لگے جو ماؤری زبان سے بہت کم واقفیت رکھتے تھے ، لہذٰہ انھوں نے انگریزی میں ہی لکھا۔ جیکلین سٹرم (Jacqueline Sturm) اپنی کہانیوں کے ساتھ پہلی ماؤری ادیب ہیں۔ ہون ٹوور( Hone Tuwhare) پہلا ماؤری شاعر جس نے اپنی نظموں کے پہلے مجموعہ ، ‘کوئی عام سورج نہیں ‘( No Ordinary Sun , 1964) کے ساتھ بے حد مضبوط تاثر قائم کیا۔
ویٹی ای ہیمیرا (Witi Ihimaera) نے اپنی کہانیوں کے مجموعہ ، “ زمرد ، زمرد “ (Pounamu, Pounamu 1972) اور ناول “ ٹانگی “(Tangi, 1972) کے ساتھ جدید نیوزیلینڈ کے ادب میں ماؤری ادب کی ایک معیاری حیثیت کو قائم کر دیا۔ای ہیمیرا نے “ دی وھیل رائیڈر (The Whale Rider, 1987 ; film 2002) کے ساتھ بین الاقوامی شہرت حاصل کر لی۔
پیٹریشیا گریس (Patricia Grace) نے اپنی کہانیوں کے ذریعہ ماؤری قبیلوں کی زندگیوں کو بیان کیا جو مقبول عام ہوئیں ، خاص طور پر اسکولوں میں ماؤری ادب کی حوصلہ افزائی کے لیے بڑی اہمیت کی حامل رہیں ——— موٹوفینوا : چاند سو رہا ہے(۱۹۷۸) (Mutuwhenua : The Moon Sleeps(1978)) , خوابوں میں سونے والے ،اور دیگر کہانیاں (۱۹۸۰) (The Dream Sleepers, and Other Stories(1980)) ، پاٹیکی (۱۹۸۶) (Potiki , 1986) ۔
کیری ہیوم (Keri Hulme) کی ۱۹۸۳ میں لکھی ، “ہڈیوں کے لوگ” (The Bone People) ، ۱۹۸۵ میں بکر پرائیز کی حقدار بنی۔
ان ادیبوں نے اپنی کہانیاں اور ناول گو کہ انگریزی زبان میں لکھا، لیکن موضوع ماؤریت ، کچھ حساسیت ، اور کچھ ان کے تئیں ایک ہمدردانہ شناخت رہے۔ لیکن ۱۹۸۰ کے ساتھ ادب کا یہ انداز بدلنے لگا اور اب ماؤری مسائل کو سیاست سے جوڑ کر پیش کیا جانے لگا ،جیسے ویٹی ای ہیمیرا کی ۱۹۸۶ میں شائع ، “ شاہ مادر “( The Matriarch) اس نئے انداز کی مثال ہے۔ جبکہ پیٹریشیا گریس نے ماؤری قبائل کی بدقسمتیوں اور تباہیوں کا ذکر پاکیھا ( Europeans ) تک پہنچایا۔البتہ ایلن ڈف (Alan Duff) نے اپنی کتاب “ جو کبھی جنگی سپاہی تھے” (Once Were Warriors) کے ذریعہ استدلال پیش کیا کہ ماؤری اپنی ناکامیوں اور محرومیوں کے خود ذمہ دار ہیں اور انھیں خود ہی اپنے حالات کو درست کرنا ہوگا۔
ماؤری شعرا نے دوبارہ ماؤری کلاسیکی شاعری کو ماؤری زبان میں پیش کیا۔ جو کچھ لوگوں کی نظر میں خود کو محدود کرنا تھا ، جب کہ دوسروں کے لیے یہ جرات مندانہ قدم تھا اپنی شناخت کو پیش کرنے کا۔جدید زمانہ میں رابرٹ سولوین (Robert Sullivan) سب کی توجہ کا مرکز ہے۔
Comments
Post a Comment