الیگزینڈر پوپ کی شُہرہِ آفاق نظم

 الیگزینڈر پوپ کی شُہرہِ آفاق نظم  :  " دا ریپ آو دا لاک " کا منظُوم اُردُو ترجُمہ۔ اِسکی تحریک قُدرتُ اللّہ شہاب کے شیلے کی نظم " اوڈ ٹُو دا ویسٹ وِنڈ " کے منظُوم اُردُو ترجُمے سے مِلی ۔ اِس ترجُمے میں شہاب صاحب نے شیلے کی نظم میں بیان کردہ مضمُون کو بُہت عُمدگی سے زبانِ اُردُو میں پیش کِیا ہے ۔ تاہم ہمارے مُحترِم مُشتاق احمد یُوسُفی نے اپنی تازہ ترین تصنیف ، " شامِ شعرِ یاراں " کے صفحہ نمبر  137 تا  143 میں ترجُمے کے بارے عالِمانہ بحث کی ہے۔ اِس تمام بحث کا محل ہے ہمارے نِہایت قابِلِ احترام ماہِرِ لِسانِیات ، لُغَت نویس ، اور مُتَرجم ، جناب شانُ الحق حقّی کا کِیا. ہُوا شیکسپیئر کے ناٹَک انٹونی اور کلوپطرہ کا منظُوم اُردُو ترجُمہ۔ 

ترجُمے کی بابت کِسی صاحب کا قول نقل کرتے ہُوئے یُوسُفی صاحب فرماتے ہیں :

" When it's good, it's not faithful. And when it's faithful, it's not good."

ا

پہلے ذرا شیلے کی نظم اور اُسکا ترجُمہ مُلاحظہ کیجئے : 

O wild west wind , thou breath of autum's being,

Thou, from whose unseen presence the leaves dead

Are driven, like ghosts from an enchanter fleeing,

Yellow and black, and pale and hectic red,

Pestilence-stricken multitudes : O Thou,

Who chariotest to their dark wintry bed

The winged seeds, where they lie cold and low,

Each like a corpse within its grave, until

Thine azure sister of spring shall blow

Her clarion o'er the earth, and fill

Driving sweet buds like flocks to feed in air

With living hues and odours plain and hill :

Wild spirit, which are moving everywhere ;

Destroyer and preserver ; hear, O hear !

لائی ہے مغرِبی گھٹا فصلِ خِزاں کا قافلہ.

رنج بھی غم بھی خار بھی بادہءِ بے خُمار بھی .

تیرے شرارِ سوز سے پُھول چَمَن میں جَل اُٹھے .

تیرے ہی نیشِ خار سے سینہءِ گُل فِگار بھی .

تیری حیات میں نِہاں،مانا کہ ہے خِزاں کی جاں .

تیری ہی گود میں جواں، پَل کے ہُوئی بہار بھی.

Thou on whose steam, 'mid the steep sky's commotion,

Loose clouds like Earth's decaying leaves are shed,

Shook from the tangled boughs of Heaven and Ocean

Angels of rain lightning: there are spread

On the blue surface of thine airy surge,

Like the bright hair uplifted from the head 

Of some fierce maenad, even from the dim verge

Of the horizon to zenith's height,

The locks of the approaching storm

Thou Dirge

Of the dying year, to which this closing night

Will be the dome of a vast sepulchre,

Vaulted with all thy congregated might

Of vapours, from whose solid atmosphere

Black rain and fire and hail will burst : O hear !


میرا چَمَن اُجَڑ گیا ، بادِ صبا تو کِیا ہُوا .

تُو اور میں تو ایک ہیں ، درد بھری صِفات میں .

گیت ہیں ہار جیت کے ، بُھولی ہُوئی پرِیت کے .

دونوں کی راگنی ہے غم ، کارگہِ حیات میں .

میری صداۓ ہا و ہُو ، لے جا صبا مِثالِ بُو .

جا کے سُنا دے کُو بہ کُو ، عرصہ ءِ کائنات میں .

رنگ خِزاں نے لے لِئے ، باغ میں برگ و بار کے .

بُلبُلِ نیم جاں نہ رو آتے ہیں دِن بہار کے . 


اب ذرا قُدرتُ اللّہ شہاب صاحب کے ہی رنگ میں الیگزینڈر پوپ کی نظم دا ریپ آو دا لاک کا منظُوم ترجُمہ مُلاحظہ کریں۔ ۔ ۔ ۔ 


What dire offence from amorous causes spring۔

What mighty contests ensue from trivial things۔

کِیا کِئے ہنگامے برپا وارداتِ عِشق نے۔

چھوٹی چھوٹی باتوں پہ خُوں ریز جنگیں چِھڑ گئیں۔


I sing this verse to John Caryll muse is due۔

Even Belinda may vouchsafe to view۔

المَدَد ، یزدانِ مَن ، جاں کیرئیل ، بر نظمِ ما۔

خُود بیلِنڈا بھی کرے مُطالِعہ اِس نظم کا۔


Slight is the subject ، not so the praise۔

If he approves and she ۔ ۔ ۔ my lays۔

ہیچ گو مضمُوں ہے اِسکا ، پر پذیرائی بڑی۔

گیت کی وُہ ( بیلِنڈا ) راہبَر ہو ، وُہ ( جاں کیرِل ) سراہے یہ لڑی۔


O, say what strange cause, yet unexplored,

Could make a gentle belle reject a lord ?

ہاں کہو وُہ کِیا وجہ ہے جِسکو نہ کھوجا کِسو ؟

کیوُں بھلا اِک گُلبَدَن ٹُھکرادے اِک گُلفام کو ؟


In tasks so bold, can little men engage ,

And in soft bosoms dwell such mighty rage ?

کیا کبھی نِیچوں نے جُوۓِ شِیر لانا ٹھانی ہے ؟

اور دِلِ نِسواں میں بستا کِیا غَضَب طُوفانی ہے ؟


Sol through white curtains ، shot a timorous ray۔ 

And opened those eyes that must eclipse the day۔

ڈرتے ڈرتے اوٹ سے چِلمَن کے جھانکا شَمس نے۔

کھول ڈالے دَر اُن خِیرہ کارِ دِن چشمان کے۔


Now lap dogs give themselves the rousing shake۔

And sleepless lovers just at twelve awake۔

اِس گھڑی گودی کے کُتّے جاگ کر انگڑائی لیں۔

جبکہ شب بیدار عاشِق دوپہر بیدار ہوں۔


Thrice ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

And ۔ ۔ ۔ 

سہ دفع گھنٹی دی ، تو جُوتی بجائی فرش پہ۔

جو دبائی تھی گھڑی ، نقرئی صدا سے بج اُٹھی۔


And ۔ ۔ ۔ ۔ 

And ۔ ۔ ۔ ۔ 

اب بھی بیلِنڈا دھرے تکیئے پہ سر تھی محوِ خواب۔

جو مُحافِظ مَلک نے تھپکا تھا اُسکو بے حِساب۔


And ۔ ۔ ۔ ۔ 

And ۔ ۔ ۔ ۔ 

ھاں یہی وُہ مَلک جِس نے اُس صُبحُ گُلناز کو۔

تھا دِکھایا خواب اُن چشمانِ خُود انداز کو۔


And ۔ ۔ ۔ ۔ 

And ۔ ۔ ۔ ۔

کیا نِرالی چِھب تھی اُس بانکے کی جو سپنے میں تھا۔

نیند میں بھی لاج آئی اُس سے جو سپنے میں تھا ۔


And ۔ ۔ ۔ ۔ 

And ۔ ۔ ۔ ۔ 

یُوں لگے تھا جیسے وُہ گُلناز کے پاس آگیا۔

اور اُسکے کانوں میں کُچھ خاص ہی فرما گیا۔


Fairest of Mortals, thou distinguished Care

Of thousand bright Inhabitants of Air !

اے غزالہِ چَمَن ، اے اِنتخابِ اِک جہاں۔

ان گِنَت تیرے مُحافِظ ، ساکِنانِ آسماں۔


If e'er one Vision touch'd thy infant Thought,

Of all the Nurse and all the Priest have Taught,

گر تُجھے بچپن میں آیاء نے سُنائی ہو کبھی۔

یا کہ کِسی مولوی نے ہی بتائی ہو کبھی۔


Of airy Elves by Moonlight Shadows seen,

The silver Token and the circled Green,

چاندنی میں کھیلے ہیں پریاں ، پری زادوں کے سنگ۔

اور صُبحُ ہمکو مِلیں سِکّے یا حلقے سبز رنگ۔


  Or Virgins visited by Angel-Pow'rs,

With Golden Crowns and Wreaths of heav'nly Flowers,

باکراؤں کی زیارت کو فرِشتے آتے تھے۔

تاج سُنہری ، بَہِشتی ہار بھی وُہ لاتے تھے۔


Hear and believe ! thy own Importance Know,

Nor bound thy narrow views to things below.

جان بھی لو ، مان بھی لو ، یہ کہ تُم کیا چیز ہو۔

سوچنا بارے میں بھی نا اُسکے، جو نا چیز ہو۔


Some secret Truths from Learned Pride conceal'd,

To Maids alone and Children are reveal'd :

ہیں فلاطُونوں سے کُچھ سچّائیاں بِالکُل نِہاں.

نّنھے معصُوموں ، کنوارئیوں پہ لیکِن ہیں عیاں.


What tho' no Credit doubting Wits may give ?

The Fair and Innocent shall still believe.

کج بحث مانیں نا مانیں ، کیا فَرَق ، کیا عار ہے ؟

خُوبرُؤں ، اور بچّوں کو تو اعتبار ہے ۔


Know then, unnumbered Spirits round thee fly,

The light Militia of the lower Sky ;


These, tho' unseen, are ever on the Wing,

Hang o'er the Box, and hover round the Ring.

ہر گھڑی یہ ہیں کَمَر بستہ حِفاظَت کو تِری.

گردِشِ سِنگھارداں، بُندے کی پُرسِش ہر گھڑی.


Think what an Equipage thou hast in Air,

And view with scorn Two pages and a Chair

فوجِ خدّامِ ہَوا تیری مطیعِ ذات ہے.

اِس مُقابِل دو غُلاموں کی بھی کُچھ اوقات ہے ۔ 


As now your own, our being were of old,

And once inclos'd in Woman's beauteous Mold ;

جِس طرح تُم ہو کبھی ہم بھی اِسی پیکر میں تھے.

اور مُجَسّم ہم بُتِ نِسواں کے بال و پر میں تھے.


Thence, by a soft Transition, we repair

From earthly Vehicles to these of Air.

پِھر کہ اِک لطیف تبدیلی ہُوئی ہم میں کہ یُوں.

ساکِنانِ ارض سے ہم ہوۓ مَکینِ گردُوں.


Think not, when Woman's transient breath is fled,

That all her Vanities at once are dead :

جانِیو نا نار کے جب دَم ختَم ہوجاوے ہیں.

اُسکے عِشوے ،  نِرت بھاؤ خاک میں مِل جاوے ہیں.


Succeeding Vanities she still regards

And tho' she plays no more, o'erlooks the Cards.

کُچھ ادائیں پِھر بھی رہ جاوے ہیں اُسکی ذات میں.

کھیل سے باہِر ہو ، دِلچَسپی لے پِھر بھی پات میں.


Her joy in gilded Chariot, when alive,

And Love of Ombre, after death survive.

زِندگی میں رَتھ سواری ، اُسکا لُطفِ عین تھا.

اور اب بھی کوڑیوں میں اُسکا سارا چین تھا.


For when the Fair in all their Pride expire,

To their first Elements the Souls retire :


The Sprights of fiery Termagants in Flame

Mount up, and take a Salamander's name.

جانِ نارِ تُند خُو ، شُعلوں سی اُٹھتی جاوے ہے.

اور ہَوا کے مُلک وہ ، سلامِنڈَر کہلاوے ہے.


Soft yeilding Minds to Water glide away,

And sip with Nymphs, their Elemental tea.

نرم خُو ناری کی پِھر ساگر میں اگلی گیتی ہے.

نِمفوں سنگ ، مَٹّی کی اپنی ، وُہ تو چاۓ پیتی ہے.


The graver Prude sinks downward to a Gnome,

In search of Mischief still on Earth to roam.

اُن میں جو شاطِر ہیں ، زیرِ ارض بستی جا کے ہیں.

رہ کے دھرتی پے نئے فِتنوں کے رستے تاکے ہیں.


The light Coquettes in Sylphs aloft repair,

And sport and flutter in the Fields of Air.

تِتلیاں جو اُن میں ہیں ، سِلفوں کا دھارے رُوپ ہیں.

اور … … … …


Sir Plume of amber snuff box ، justly Vain۔

And the nice conduct of the clouded cain۔

نسوار کی عنبرین ڈِبیا پر اُچھلتے لاٹ صاحب۔

اِک مُرَصّع بَید کو پِھرتے ہیں گُھوماتے ہُوئے۔.


What guards the purity of melting maids ,

In courtly Balls , and Midnight Masquerades ,

جو سنبھالے ہے پِگھلتی نارِیوں کی آبرُو ۔

بینِ رقصِ نیم شب ، درباری جشنوں کے درُوں ۔


 Safe from the treach'rous Friend , and daring Spark , 

The glance by day , the whisper in the Dark :

دَستِ یار مار ، اور جوبَن کی اگنی سے پرے۔

بانِ نَیَن سے دِن چڑھے ، اور رات کی سریر سے ۔


When kind Occasion prompts their warm desires ,

When Musik softens , and when Dancing fires ?

شوق کی آتِش ، گھڑی نازُک لگے جب بھڑکنے ۔

ساز ہوویں کومَلِیں ، اعضاء لگیں جب پَھڑکنے ۔


So heaven decrees , with Heaven who can contest ?      ( 776 )

پس یہ تھی تقدیر ، اب تقدیر سے کِسکو مُفَر ؟


                  مُتَرجُم : - مَولوی تَمیزُالدّین شِبلی ( مُنتَظِمِ اُردُستان )

Comments

Popular posts from this blog

چیخوف افسانہ

عشق کے چالیس اصول

DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ