نامکمل اور مکمل رات
نامکمل اور مکمل رات
..............................
شام ہوئی
اور ہاتھ لکیروں نے لب کھولے
دن بھر اٹا رہا تھا دھول میں جو ڈر جاگا
دیواروں پر سوچ کے نیزے ابھرے
اور آنگن میں درد کھلا
چاند پرانا دکھی مسافر
شہروں شہروں پھرتا رہے گا
وقت اک المیہ گیت کی صورت
دشتِ شب میں بہتا رہے گا
بانجھ ہواوں کی دہلیز پہ
بیٹھے رہنا
کتنی چیزیں ہیں جن کو ہم جان سکیں گے
کتنی سوچیں جن کے پیکر دیکھ سکیں گے
رستے، سپنے اور دکھ
تمہیں یقیں ہے جس رستے پر چلتے چلتے تم نے عمر بتائی ہے
وہی تمہارا رستہ تھا؟
نہ بھی ہو
تو اس میں دوش بھی کس کا ہے
مشکل یہ ہے ہم لاعلم ہیں
کس کے ہاتھ میں سمت نما ہے
اور جس کے ہاتھ میں سمت نما ہو اس کی سمت؟
اور اندھیرا
ڈر لگتا ہے جو بولیں گے
کھو جائے گا
اک بے چاپ اداسی
آنکھوں کی گلیوں میں پھرتی رہے گی
دل سہما حیران پرندہ
شاخِ بدن پر بیٹھا رہے گا
بیٹھا رہے گا
تکتا رہے گا
رات کا سایہ بڑھتا رہے گا
.......................................
حسین عابد " اُتری کونجیں" سے
Comments
Post a Comment