ڈائری کا ایک ورق
میں نے آج سارا دن اُس "اجنبی دوست" کے ساتھ القدس میں گزارا۔ وہ ایسے ایسے کوچوں میں اپنی موٹر لیے پھرا جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ ہم نے بہت باتیں کیں اور بہت کچھ خاموش بھی رہے ۔۔۔۔ اس نے میری زندگی اور لڑکپن کے زمانے کے حالات دریافت کیے تو میں نے اسے بتایا کہ کیسی کڑی پابندیاں تھیں جن میں مَیں نے اپنی زندگی کے وہ دن گزارے تھے اور کیسے میری نسوانیت قفس میں بند ایک زخمی پرندے کی طرح پھڑ پھڑاتی اور کراہتی تھی، اور نجات کی کوئی صورت اسے نظر نہ پڑتی تھی۔ گھر میں ہر چیز کی ممانعت تھی: ہنسنا، گانا اور عود بجانا، جو میرا پسندیدہ مشغلہ تھا اور میں نے چوری چھپے سیکھا تھا، یہ سب باتیں ممنوع تھیں۔ میں اُن دنوں ایک ایسے جوانِ رعنا کے خواب دیکھا کرتی تھی جس سے میں رشتۂ محبت استوار کرسکوں۔ مجھے اپنی اہم جنس لڑکیوں کی صحبت میں کبھی لطف نہ آتا اور نہ میں اس کی کبھی خواہش کرتی۔ میرا اجنبی دوست ہنسے بغیر نہ رہ سکا، جب میں نے اُسے یہ واقعہ سنایا کہ کیسے میرے والد، باوجود گھر میں اتنی بندشوں، تنگیوں اور پابندیوں کے، مجھے ترغیب دیتے کہ میں بھی اپنے مرحوم بھائی ابراہیم کی طرح سیاسی اور قومی موضوعات پر شعر کہا کروں۔ چنانچہ جب بھی کوئی قومی یا سیاسی واقعہ رونما ہوتا، میرے والد مجھ سے نظم لکھنے کی فرمائش کرتے اور میں اپنے نفس کی گہرائیوں سے ان کے اس مطالبے پر احتجاج کرتی اور اس کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہوجاتی۔ وہ کیسے مجھ سے یہ اُمید رکھتے ہیں، میں اپنے آپ سے کہتی، کہ میں سیاسی شاعری کروں جبکہ میں چار دیواری میں مقید ہوں۔ میں ایسی شاعری کا مواد کہاں سے لاؤں؟ کیا محض اخباروں اور رسالوں کے مطالعے سے؟ اخباروں اور رسالوں کا مطالعہ اپنی جگہ اہم سہی لیکن اس سے شعر کی چنگاری تو نہیں بھڑک سکتی۔ ایک شاعر اپنے اردگرد کی زندگی اور دنیا کے بارے میں لکھ ہی کیا سکتا ہے، جب تک اسے ان چیزوں کا براہِ راست علم نہ ہو؟ ۔۔۔ میں اس کے برعکس دیواروں اور روایتوں کی قید میں بند ہوں۔ نہ میں مردانہ مجلسوں میں جاسکتی ہوں، نہ سنجیدہ قسم کی بحثیں سن سکتی ہوں اور زندگی کی تک و تاز میں حصہ لے سکتی ہوں، پھر کیسے میرے ابو مجھ سے یہ امید رکھتے ہیں کہ میں ایک ایسے موضوع کے بارے میں لکھوں گی جسے میں اپنی اس عمر میں پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتی اور جسے میرے اندر برپا ہونے والی نفسیاتی ہلچل سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ میری نفسیاتی زندگی کا دھارا اس دھارے سے بالکل مختلف تھا جس کے ساتھ بہنے کے لیے میرے والد مجھ سے کہتے تھے ۔۔۔۔۔ اس طرح مجھے سیاست سے متنفر ہونے کا عارضہ لاحق ہوگیا اور کئی برس تک میری سیاسی حس ماؤف رہی۔
میرے والد سنہ ۱۹۴۸ء کی جنگِ فلسطین کے دوران وفات پاگئے ۔۔۔۔ اس کے بعد فلسطین کا المیہ واقع ہوا ۔۔۔۔۔ اور میں اپنے آپ قومی شاعری کرنے لگی جس کا مواد تمام تر اسی المیے سے ماخوذ تھا۔ اس طرح کی شاعری کرنے پر نہ کسی نے مجھے مجبور کیا تھا، نہ اس کی تلقین کی تھی، لیکن آگے چل کر جب حالات میں جمود آگیا اور فلسطین کا مسئلہ کھٹائی میں پڑگیا تو میرا احساس بھی کند ہونا شروع ہوا۔ اس مرحلے پر میں نے زندگی میں قدم رکھا اور اس کی فضا میں سانس لینے اور اس کے بہتے ہوئے دھارے سے چلّو بھرنے لگی۔ محبت اور زندگی! اُن دنوں یہی میری شاعری کا موضوع تھے۔ پھر زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ میں اپنے بھائی نمر کی موت کے صدمے سے دوچار ہوئی۔ نمر سے مجھ کو بے حد پیار تھا، اور وہ بھائی کیا تھا، میرا ایک طرح سے دوست تھا۔ میں نے شاعری کے سب دوسرے موضوع ترک کردیئے اور صرف موت کی بابت لکھنے لگی۔ اُس زمانے میں مجھ پر ایک خود فراموشی کی سی کیفیت غالب تھی اور میری طبیعت گری گری رہتی تھی۔ میں نے لوگوں سے ملنا ملانا موقوف کیا اور زندگی سے بیزار ہوگئی۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ قدرت نے ہمیں ایک دوسرے سے ملا دیا اور مجھے اپنی زندگی ایک دفعہ پھر عزیز لگنے لگی۔
عرب شاعرہ 'فدویٰ طوقان' کی ڈائری کا ایک ورق، مترجم: محمد کاظم،
کتاب: عربی ادب کے مطالعے، ناشر: سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور
Comments
Post a Comment