بول کہ کس کا کس سے پیٹ نہیں بھرتا

 ”بول کہ کس کا کس سے پیٹ نہیں بھرتا؟“

”ہے راجہ! نو چیزوں کا نو چیزوں سے پیٹ نہیں بھرتا۔“

”کن نو چیزوں کا کن نو چیزوں سے پیٹ نہیں بھرتا ؟“

”ساگر کا ندیوں کے پانی سے، اگنی کا ایندھن سے، ناری کا بھوگ سے، راجہ کا پاٹ سے، دھنوان کا دھن دولت سے، ودوان کا ودیا سے، مورک کا موڑنا سے اور اتیاچاری کا اتیاچار سے۔“

یہ سن کر راجہ نے اس کے چرن چھوۓ ”دھنیہ ہو منی مہاراج، میں نے تمہیں سو گٸوٸیں دان دیں۔“

“سوٸیکار کیا۔ اور پوچھ”

”ہے منی مہاراج میں کیسے چلوں؟“

”سوریہ کے اجالے میں چل۔“

”سوریہ جب ڈوب جاۓ پھر؟“

”پھر چندرماں کے اجالے میں چل۔“

”چندرماں ڈوب جاۓ، پھر؟“

”پھر تو دیا جلا اس کے اجالے میں چل۔“

”دیا بجھ جاۓ پھر؟“

”پھر آتما کا دیا جلا، اور اس کے اجالے میں چل۔“


راجہ نے پھر چرن چھوۓ ”دھنیہ ہو منی مہاراج، میں نے تمہیں سو گٸوٸیں اور دان دیں۔“

راجہ نے پھر دھنش سیدھی کی۔ بان جوڑنے لگا تھا کہ منی بولا

”راجہ بس کر“

”کس کارن بس کروں؟“

”اس کارن کہ سنسار میں گٸوٸیں بہت تھوڑی ہیں، اور پوچھنے کی باتیں بہت ہیں۔“


ناول بستی۔ انتظار حسين 

ٹاٸپنگ: کش کمار

Comments

Popular posts from this blog

چیخوف افسانہ

عشق کے چالیس اصول

DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ