اسکاٹ لینڈ نظم

 جم کروتھ اسکاٹ لینڈ کے موجودہ زمانے کے مشہور شاعر ہیں جن سے دو ہزار پندرہ میں لاہور میں اور بعد ازاں گلاسگو میں “گلاسگو لاہور پوئٹری ٹرانسلیشن پراجیکٹ” کے سلسلے میں ملاقات رہی۔ لاہور سے اس پراجیکٹ میں کشور ناہید اور خالد جاوید جان کی ہمراہی میرے لیے اعزاز کا باعث تھی۔

ہم نے اسکاٹش شعرا کی نظموں کے تراجم کیے اور اُنھوں نے ہماری نظموں کو ترجمے کے لیے چُنا۔

جم کی نظمیں تخیل اور ہیئت کے اعتبار سے مجھے اپنے انداز سے بہت زیادہ مختلف نظر نہیں آئیں۔اُن کی یہ نظم “ڈانسر” اُنھوں نے انڈیا میں ایک لڑکی کے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کے تناظر میں لکھی ہے۔ اس میں چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کے غول کو علامت بنا کر بڑی خوبصورتی سے اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ درندگی ازل سے حُسن و توازن کی دشمن رہی ہے۔ میں نے اس کا ترجُمہ “رقاص” کے عُنوان سے کیا ہے۔


•رقاص•


پرندوں کو نہیں درکار باہر کا کوئی ساتھی

بہت دلکش ہے ان کا 

مل کے بل کھانا، اُڑانیں بھرنا

مل کر جھومنا اور نت نئی شکلیں بنا لینا

بڑے ہی بانکپن سے یہ کبھی کچھ دیر

تھوڑے سے بکھرتے ہیں

بکھر کر پھر سمٹتے ہیں

سمٹ کر پھر نئی اک شکل میں ڈھل کر

چمکتے ہیں اندھیری رات میں

جیسے رُوپہلا سا کوئی بادل

یہ چھوٹی چھوٹی نیلی مچھلیاں بھی 

مل کے جب غوطہ لگاتی ہیں

تو چکر کاٹتی اور گھومتی اور رقص کرتی

ایک جا ہو کر، نئے پیکر میں ڈھلتی ہیں، ہیولا سا بناتی ہیں

مگر پھر کچھ شکاری ماہی بر اور کچھ بڑی سی مچھلیاں مل کر

ہر اک جانب سے ان کو گھیر لیتے ہیں

یہ ان کے گھومتے وارفتہ چکر کو

تیز دانتوں سے کتر کر کاٹ دیتے ہیں

یہ ان پر وار کر کر کے انھیں یوں چھانٹ دیتے ہیں

کہ پردہ ہٹتا جاتا ہے، ہیولا کٹتا جاتا ہے

خوشی کے دُشمنوں اور ان درندوں کی بدولت

ایک ایسا پل بھی آتا ہے

یہ دلکش رقص کیا

رقاص بھی باقی نہیں رہتا


The Dancer

(i.m. Nirbhaya died Delhi 16th December 2012)


The bank of starlings needs no partner

to move like this, a graceful twist

and sway creates a new form         

a smooth flow into another   

briefly split then back as one                    

lifts itself in late light shimmer

sparkling like the mackerel cloud

nature frames the same shapes with;

elegant twirls draw looks from blue fin tuna                            

who lacerate the pirouette, strip away each veil  

a frenzied reel with dolphin and shearwater

shrinking the shoal till the dancer is lost.

Comments

Popular posts from this blog

چیخوف افسانہ

عشق کے چالیس اصول

DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ