خوشونت سنگھ کی خودنوشت:
"سچ، محبت اور ذراساکینہ"
ایک ڈسکورس(Discourse)
از: قاسم بن ظہیر
======================
سچ،محبت اور ذرا ساکینہ"
دراصل خوشونت سنگھ کی انگریزی زبان میں تحریر کی گئی خودنوشت
Truth,love & A Little Malice
کا اردو ترجمہ ہے.
خودنوشت لکھنا ساری عمر کی شعور یا لاشعورِ ذات کی داخلی کیفیات کو ایمان داری سے صفحۂ قرطاس پر بکھیرنے کا نام ہے.انسان کے اندرونِ ذات کے معاملات خارجی کیفیات سے یکسر مختلف ہوتے ہیں.خود نوشت میں انسان وہ نہیں ہوتا جو مجسم نظر آتا ہے.خودنوشت میں عموماًایسے واقعات، تصورات،نظریات وشخصیات کا انتخاب کرناپڑتاہےجن سے صاحبِ خودنوشت اپنی زندگی میں کسی بھی طور متأثر ہواہو اوراس کی زندگی پر ان کا اثر پڑاہو.
صاحبِ خودنوشت خوشونت سنگھ (1915تا2014)کانام محتاجِ تعارف نہیں،وہ انگریزی کےمشہورادیب،صحافی ومؤرخ اور انڈین پارلیمنٹرین تھے. پاکستان میں ضلع خوشاب کے ہڈالی گاؤں میں پیداہوئے،تقسیم کے بعد دہلی آ گئے.
کچھ عرصے سفارتی عہدے پر لندن میں تعینات رہے بعد ازاں مستعفی ہوگئے اورانگریزی صحافت وادب کو اپنا پروفیشن (Profession) بنایااور ہندوستان کےمشہور اخبار"ہندوستان ٹائمز" اورمعروف جریدے "السٹریٹڈویکلی"(illustrated)
کی ادارت انجام دی.
ٹرین ٹو پاکستان" ان کا مشہور ومعروف ناول ہے جس کا اردو میں بھی ترجمہ ہوا نیز اس پر فلم بھی بن چکی ہے.انھوں نے تقریبا اسی 80 کتابیں تصنیف کیں.خوشونت سنگھ کے بقول محد علی جناح انھیں قیامِ پاکستان کے بعد لاہور میں روکنا چاہ رہے تھے تاکہ انھیں لاہور ہائی کورٹ کا جج بناسکیں.
زیرِ گفتگو خودنوشت پر؛شائع ہونے سے پہلے ہندوستان کے سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے بیٹے، سنجے گاندھی کی بیوہ مینکا گاندھی کی طرف سے مقدمہ دائر کیا گیا تھا،جس کی وجہ سےچھے سال تک اس کا مسودہ پبلشر کے پاس پڑا رہا بعد ازاں عدالت نے اپنا امتناعی حکم واپس لیا اور مینکا گاندھی پر دس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا.
دراصل خشونت سنگھ نےاس خود نوشت میں گاندھی فیملی کے خاندانی تنازعات کےبارے میں کچھ انکشافات کیے؛جیسے سنجے گاندھی کے انتقال کے بعد ساس بہو کی لڑائی اور اندرا گاندھی کے ذریعے مینکا گاندھی کو گھر سے نکالنے کے احوال.
مینکا گاندھی کو ان باتوں پر کچھ تحفظات تھے جس کی بنا پر یہ مقدمہ چلا.
جس بے خوفی اور بلند حوصلگی سے یہ خودنوشت تحریر کی گئی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خوشونت سنگھ ایک بہادر، حق پرست،اور جنسیات کے علاوہ شفاف شبیہ رکھنے والے انسان تھے انھوں نے ساہتیہ اکیڈمی کی چئیرمین شپ سے صرف اس لئے منھ موڑلیا تھا کہ وہاں ادبی اوارڈ محض تعلقات کی بنا پر دئیے جارہے تھے.( آج کی صورت ِحال بھی ادیبوں کے لئےحوصلہ بخش نہیں ہے.) انہوں نے اپنی خودنوشت میں ساقی فاروقی مرحوم کی"پاپ بیتی"سے بھی زیادہ بلاتکلف اپنےاور غیروں کے جنسی واقعات درج کیے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے پنڈت جواہر لعل نہرو کے کئی برس سیکریٹری رہنے والے ایم او مٹھئی کے حوالے سے کہا ہے کہ اندرا گاندھی اورپنڈت نہرو بہت بعد تک بھی جنسی طور پر سرگرم تھے.
جب نہرو آزادی کے بعد لندن گئے توخوشونت سنگھ وہاں سفارتی آفس میں تعینات تھے انھوں نے اس میں وہ واقعہ بھی درج کیا ہے جب لندن میں پنڈت نہرو ہوٹل جانے کے بجائے پروگرام کے برعکس،سفارت خانے کو مطلع کئے بغیر لیڈی لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے گھرپہنچ گئے تھے شومئی قسمت کہ جس وقت لیڈی ایڈوینا نہرو کے لئےشب خوابی کے لباس میں دروازہ کھولنے آئیں تو کسی اخباری فوٹوگرافر نے ان دونوں کی تصویر کھینچ لی اور صبح اخبار میں اس ہیڈنگ کے ساتھ شائع کی:
"لیڈی ماؤنٹ بیٹن کاآدھی رات کاملاقاتی"
اس پر بہت شور شرابہ ہوا اور نہرو کی جو حالت ہونی چاہئے تھی وہ ہوئی.
امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی شراب نوشی کی بارے میں ابھی تک صرف سنا تھالیکن خوشونت سنگھ نے ان کی شراب نوشی کے بارے میں اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے.
کچھ اس کتاب کے ترجمے کے بارے میں :
ترجمہ نگاری سخت مشکل کام ہے محض دو زبانوں کی واقفیت سےقرارواقعی ترجمہ نہیں کیا جاسکتاترجمہ نگاری کافن مترجم کےلیےایک خاص استعداوصلاحیت کا متقاضی ہوتا ہے.ادبی،تخلیقی اور محاوری ترجمہ وہی کر سکتا ہے جس کو اس فن پر مکمل عبور حاصل ہو.
اس خودنوشت کا ترجمہ محمد احسن بٹ نے کیا ہے ہر چند کہ ترجمہ عمدہ ہے تاہم کہیں کہیں درج ذَیل غیرادبی اورعامیانہ جملے موصوف کی ترجمہ نگاری کو داغدار کرتے ہیں.
1. ماڈل اسکول کے لڑکوں کو خوشحال خاندانوں سے آئے ہونے اوردوسروں کی نسبت انگریزی پر بہتردسترس کی وجہ سے داخلہ دے دیا جاتا تھا.(صفحہ 36)
2. جب مجھے زندہ رکھنے کی جنگ ہاری جاتی ہوئی دکھائی پڑنے لگی تو میری دادی کو بلا بھیجا گیا.(صفحہ37)
3. میں نے کچھ بھی خرید نہیں کیا.(صفحہ70)
4. انہوں نےاپنی بیٹیوں کوبھی خوب سکھادیاہواتھا.(صفحہ180)
5. میرا نام اس میں شامل کرنے کا کہتے ہوئے فہرست واپس بھجوا دی.(صفحہ373)
6. ذیل سنگھ نے دوسری مرتبہ میرا نام شامل کرنے کا کہا.(صفحہ373)
7. ہم نے میرے اپارٹمنٹ کے لیے ٹیکسی لی.(صفحہ221)
اس طرح کے غیر ادبی جملے مطالعہ کے دوران قاری کی طبع پر سخت گراں گزرتے ہیں اور مطالعاتی ذوق کو زخمی کرتے ہیں، ترجمہ کرتے وقت ایسی باریک غلطیوں کا پر توجہ دینا ایک اچھے مترجم کے لئے بہت ضروری ہے.
مجموعی طور پر زیرِ گفتگو خودنوشت اس معنی کر،اہم اور قابلِ مطالعہ ہے کہ اس میں درج دستاویزی واقعات صرف اسی کا حصہ ہیں.
انسان کا خمیر خیروشر سے مرکب ہے.خودنوشت میں کسی بھی مصنف کی شرافت و رذالت، ایمان داری، حق گوئی و بیباکی یا اس کے علی الرغم نادانستہ طور پر قاری کے سامنے آجاتی ہے. خوشونت سنگھ بحیثیت انسان کیسے تھے اس کا علم آپ کو اس خودنوشت کی قرأت کے بعد ہی ہوگا.
مرقومہ بالا سطور میں کتاب کے موادو مشمولات کے حوالےسے صرف چند اہم امور پر گفتگو کی گئی ہے حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب میں پڑھنے،سیکھنےاور یاد رکھنے کے لئے بہت کچھ ہے،جس کی اہمیت کا اندازہ مطالعے کے بعد ہی ہوسکے گا.
======================
Comments
Post a Comment