Emile Zola

 "کیتھرین اور ایتیان تیزی سے اپنی ٹرالیاں بھرنے لگے اور اکڑی ہوئی کمروں کے ساتھ سرنگ کی نیچی چھت کے نیچے جھکتے ہوئے انہیں اوپر کی جانب دھکیلنے لگے۔ دوسرے ہی چکر میں سردی کے باوجود ان کا پسینہ بہنے لگا اور ان کے جوڑ چٹخنے لگے۔ اوپر کٹائی میں ہتھوڑا بردار دوبارہ اپنے کام میں جت گئے تھے۔ کان کن سورج کی حدّت سے دور سردی سے بچنے کے لئے ناشتے کا وقفہ مختصر کر دیتے تھے اور ان کی خشک روٹیاں جو تیزی سے نگلی جاتیں تھیں، ان کے پیٹوں میں سیسے کی مانند بیٹھ جاتیں۔ وہ اپنی دونوں جانب بلند آواز کے ساتھ دیواروں پر اپنے ہتھوڑوں کے ساتھ حملہ آور ہوتے اور ان کے ذہنوں میں محض زیادہ سے زیادہ تعداد میں ٹرالیاں بھرنے کا ہی خیال ہوتا۔ مالی منفعت کی اس کمر توڑ جدّوجہد میں ہر دوسری سوچ ان کے دماغوں سے اوجھل ہو جاتی۔ انہیں اپنے اوپر بہنے والے پانی کی کوئی پرواہ نہ ہوتی جو ان کی ہڈیوں کو منجمد کر دیتا، سردی جو ان کے پٹھوں کو اکڑا دیتی، تاریکی جو ان کے چہروں کو پیلا کر دیتی جیسے کسی تہ خانے میں رکھے پودے ہوں۔ پھر بھی جیسے جیسے دن بڑھتا گیا، ہوا مزید زھریلی ہوتی گئی، لمپوں کے حدّت سے مزید گرم ہوتی گئی، ان کی اپنی بھاری سانسیں وبا کی مانند بیماریاں پھیلاتی گئی اور میتھین کی اگن گیس ان کی سانسوں کو مزید مشکل کرتی گئی۔ پسینے سے ان کی آنکھوں میں مکڑیوں کے جالے بندھتے گئے۔ ان کی یہ حالت صرف رات ڈھلے باہر نکلنے کے بعد ہی قدرے بہتر ہوتی۔ زمین کے بھاری بوجھ تلے اپنی تاریک سرنگوں میں دھونکنی کی مانند چلتی سانسوں کے ساتھ وہ دیواروں پر اپنے ہتھوڑے چلاتے گئے۔"

فرانسیسی مصنف ایمیل زولا Emile Zola کے شہرہ آفاق ناول “Germinal” کے زیر تکمیل براہِ راست اردو ترجمے سے ایک اقتباس

Comments

Popular posts from this blog

چیخوف افسانہ

عشق کے چالیس اصول

DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ