Invisible Cities نادیدہ شہر

 ناول: نادیدہ شہر  (Invisible Cities)

مصنف: اٹالو کالیوینو (Italo Calvino)

مترجم : شہلا نقوی

(ناول سے اقتباس)


حصہ اول

یہ  نہیں تھا کہ قبلائی خان ہر اس بات پر یقین کر لیتا تھا جو مارکوپولو اسے اپنے سفر میں دیکھی بستیوں کے بارے میں بتاتا تھا لیکن یہ تاتاری شہنشاہ، وینس کے اس جوان کی باتیں  اپنے ایلچیوں اور دوسرے کھوجیوں کی گزارشات کے مقابلے میں زیادہ توجہ اور انہماک سے سنتا تھا ۔ فرمانرواوئوں کی زندگی میں وسیع و عریض علاقوں کی فتح کے بعد ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب فخر کے بعد تاسف اور ایک گونا سکون سا چھا جاتا ہے کہ جلد ہم ان علاقوں کو  سمجھنے کی جستجو اور تحقیق ختم کر دیں گے۔ دل پر شام کے وقت ایک  ویرانی چھا جاتی ہے، بارش میں بھیگے ہاتھیوں کی بواور انگیٹھیوں میں سرد ہوتی صندل کی راکھ ، یکے بعد دیگرلپیٹے جانے والےنقشوں پربنے ڈانواڈ ول ہوتے دریا اورپہاڑ، مفتوح علاقوں سے آتی خبریں ہمیں دشمن کے آخری رسالوں کی مات،شکست در شکست سے مطلع کرتی ہیں،اور ہماری فوجوں کے تحفظ کی درخواستوں پر چور چور ہوتی غیرمعروف حکمرانوں کی مہر کی لاکھ ، بدلے میں سالانہ خراج میں قیمتی دھاتوں، چمڑے اور کچھوے کےخول ۔ یہی وہ گمبھیر لمحہ ہوتا ہے جب ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سلطنت جو ایک وقت ہمیں ساری دنیا کے عجائب کا مجموعہ لگتی تھی اب لا متناہی بے ہیئت کھنڈرات ہیں، کہ بدعنوانی کی بیماری اس مملکت میں اس حد تک پھیل گئی ہے کہ اب ہمارا شاہی عصا اس کو شفا یاب نہیں کر سکتا، دشمن بادشاہوں کی سلطنتوں کو فتح کرنے سے ہم ان کی طویل بربادی کے وارث بن گئے ہیں۔ صرف مارکوپولو کے قصوں سے قبلائی خان ان فصیلوں اور میناروں سے جن کی تقدیر خاک ہونا تھا ایک ایسا دقیق نقشہ دیکھتا تھا جو دیمک سے محفوظ تھا۔

شہر اور یاد

۱یہاں سے چلیں اور تین دن مشرق کی جانب سفر کریں، تو آپ ڈآئیومارا پہنچیں گے،ایک  شہر جس میں ساٹھ چاندی کے گنبد تھے،دیوتائوں کےکانسی سے بنے بت، سیسے سے پاٹی سڑکیں، ایک بلوری تھیٹر، ایک سنہرہ مرغا جوہر صبح ایک مینار پر سے اذان دیتا ہے۔ یہ سب حسین مناظرتو باہر سے آنے والے کے لیے مانوس ہوں گے، یہ اس نے دوسرے شہروں میں بھی دیکھے ہوں گے ۔ لیکن  اس شہر کی خصوصیت  کا اندازہ اس شخص کو  ہو گا جو یہاں ستمبر کی شام پہنچے گا ، جب دن مختصر ہونے لگتے ہیں اور ساری کھانوں کی دکانوں پر رنگ برنگے قمقمے یک دم روشن ہوجاتے ہیں اور  بام پر ایک عورت حیرت زدہ "اوہ" کہتی ہے۔ اسے ان لوگوں پر رشک آئے گا جن کو یقین ہے کہ انھوں نے ایسی ایک شام پہلے کبھی گزاری ہے اور جن کا خیال ہے کہ وہ خوش تھے،اس وقت۔


نوٹ:

 پبلیشر سے رابطہ کریں۔ 

سٹی بک پوائنٹ، نوید اسکوائر، اردو بازار، کراچی


Comments

Popular posts from this blog

چیخوف افسانہ

عشق کے چالیس اصول

DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ