Posts

Showing posts from December, 2020

لبنان کاایک چرواہا خلیل جبران

 مصنف:خلیل جبران  بحوالہ کتاب:کلیات خلیل جبران  مرتب : حیدر جاوید سید                      (#لبنانکاایک_چرواہا)  موسم گرما اپنے آخری سانس لے رہا تھا کہ میں نے یسوع  کو شام کے وقت تین آدمیوں کے ہمراہ اس سڑک پر جاتےدیکھا۔وہ چراگاہ کے اس کونے پر جا کر ٹھر گیا۔ میری بانسری کے #نغمے فضا میں بکھر رہے تھے اور میرا گلہ میرے اردگرد چررہا تھا۔جب وہ ٹھر گیا تو میں اپنی   جگہ سے اُٹھا اور اس کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا "ایلیا"کی قبر کہاں ہے؟کیا یہ اُس جگہ کے نزدیک ہی کہیں پر ہے؟میں نے اسے جواب  دیا وہ دیکھئے وہاں پھتروں کے ڈھیر کے نیچے ہے،کیونکہ آج کے دن تک ہر ایک راہ گیر گزرتے ہوئے اس ڈھیر  پر ایک  پتھر رکھ دیتا ہے۔اُس نے میرا شکریہ ادا کیا اور اپنے  ساتھیوں کے ہمراہ چلا گیا۔تین دن کے بعد "گملی ایل" چرواہے نے مجھے بتایا کہ وہ شخص جو اس راہ سے گزرا تھا،یہودیہ میں نبی ہے لیکن میں نے اس کا یقین نہ۔ کیا تاہم کئی دنوں میں  اُس شخص کے متلعق سوچتا رہا۔ بہار کا موسم تھا کہ ی...

کہانی کا طلسم

 کہانی کا طلسم، ہر عمر اور ہر دور کو مسخر کرنے کی  صلاحیت رکھتا ہے ۔یہ طلسم، پتھر نہیں کرتا۔۔اثر رکھتا ہے ۔چلتے دور کی ہر خوبی کو گہنائے ہوئے دیکھنا اور گئے وقت کی کرنوں کو سورج کرنا ۔۔۔عمومی طور پر دل پسند انسانی مشغلہ ہے ۔مگر وائے قسمت ۔۔کہ یہ حال کی بدولت ہے ۔۔۔جو نظر ۔۔سماعت اور لمس کی حد میں ہے!  خود کو کائنات سمجھ لینا اور کائنات کا حصہ سمجھ کر زندگی گزارنے سے زندگی اور اس کے گزارنے والے ۔۔۔دونوں کو فرق پڑتا ہے ۔ اکیلا ہونا صرف خدا کو زیبا ہے اور اسی لئے کوئی کتنا بھی آدم بے زار ہونے کا دعوٰی کرے ۔۔اکیلا نہیں رہتا ۔۔۔! ہر لمحہ جو زندگی کے نام پر رواں دواں ہے ۔۔کہانی ہے!  ہر آنکھ ۔۔جو دیکھتی ہے ۔۔نکتے کی تصویر بنانے کی اہل ہے ۔۔مگر وہ نکتہ کہاں سے کیا اٹھاتا ہے اور تصویر کے رنگ کتنے دل پذیر ہیں ۔۔یہ بھی ایک منفرد صلاحیت ہے جو کہانی کاروں کو ودیعت کی جاتی ہے  ۔۔۔! آج کی جدید دنیا ۔۔حساس کیمروں اور تکنیکی مہارتوں کے سبب، ہماری منشا سے بے نیاز ۔۔کانوں کان خبر کئے بغیر ۔ ۔راز جاننے اور افشا کر دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہے ۔۔مگر ۔۔اس ذہن رسا کو کیا کہیے ۔۔کہ جس...

ميگھدوُت , ڪاليداس

 اَوائِلي سنسڪرت ادب جي شاھڪار تخليق ميگھدوُت    مُڪيش بارٿاڻي  ڪاليداس سنسڪرت ٻوليءَ جو عظيم شاعر ٿي گذريو آھي. جنھن پنھنجي دور جي شاعري ۽ ڊرامن جا ڪيترائي جُلد سنسڪرت ٻوليءَ کي ارپيا آھن. جنھن ۾ شڪونتلا، رُت سمارا،  وڪرموروسيا، اُروَسي. ڪمارا سمبوا ۽ رُڳووسا جھڙيون شاھڪار تخليقون شامل آھن. پر عظيم ليکڪ ڪاليداس جي لکڻين مان ميگھ دُوت ۽ ڊرامو “شڪونتلا” تمام گھڻو مشھور ٿيا. جنھن کي عالمي سطع تي پڻ بيحد پذيرائي ملي ھئي. شڪونتلا سڀ کان پھرين ڊارمو جديد يورپين ٻوليءَ ۾ ترجمو ڪيو ويو. وليم جانس جنھن ڪاليداس کي “ڀارت جو سيڪسپيئر” سڏيو آھي. ميگھ دُوتم ھڪ ننڍڙي ڪتاب گيت مالھا تي مشتمل ڊگھي خوبصورت شاعري جي لَڙِي  جيڪا اوائلي وقت جي سنسڪرت جي شاھڪار تخليق آھي. ميگھ دُوت ۾ شاعر ڪاليداس ڪڪر کي، پنھنجي زال کان وڇڙيل يُڪش ( ديوتا جو نالو) جو زال ڏانھن نياپو پھچائڻ وارو قاصد بڻايو آھي. وڇوڙو ڪيتريون ئي يادگيريون تازه ٿو ڪري ٿو، ۽ ڏک جي علامت آھي. شاعريءَ ۾ اھڙي منفرد نموني ۽ نھايت ئي موھيندڙ لفظن سان اظھار ڪيو ويو آھي. جنھن ميگھ دُوت جي تخليق ڪندڙ عظيم سنسڪرت جي شاعر ڪال...

بول کہ کس کا کس سے پیٹ نہیں بھرتا

 ”بول کہ کس کا کس سے پیٹ نہیں بھرتا؟“ ”ہے راجہ! نو چیزوں کا نو چیزوں سے پیٹ نہیں بھرتا۔“ ”کن نو چیزوں کا کن نو چیزوں سے پیٹ نہیں بھرتا ؟“ ”ساگر کا ندیوں کے پانی سے، اگنی کا ایندھن سے، ناری کا بھوگ سے، راجہ کا پاٹ سے، دھنوان کا دھن دولت سے، ودوان کا ودیا سے، مورک کا موڑنا سے اور اتیاچاری کا اتیاچار سے۔“ یہ سن کر راجہ نے اس کے چرن چھوۓ ”دھنیہ ہو منی مہاراج، میں نے تمہیں سو گٸوٸیں دان دیں۔“ “سوٸیکار کیا۔ اور پوچھ” ”ہے منی مہاراج میں کیسے چلوں؟“ ”سوریہ کے اجالے میں چل۔“ ”سوریہ جب ڈوب جاۓ پھر؟“ ”پھر چندرماں کے اجالے میں چل۔“ ”چندرماں ڈوب جاۓ، پھر؟“ ”پھر تو دیا جلا اس کے اجالے میں چل۔“ ”دیا بجھ جاۓ پھر؟“ ”پھر آتما کا دیا جلا، اور اس کے اجالے میں چل۔“ راجہ نے پھر چرن چھوۓ ”دھنیہ ہو منی مہاراج، میں نے تمہیں سو گٸوٸیں اور دان دیں۔“ راجہ نے پھر دھنش سیدھی کی۔ بان جوڑنے لگا تھا کہ منی بولا ”راجہ بس کر“ ”کس کارن بس کروں؟“ ”اس کارن کہ سنسار میں گٸوٸیں بہت تھوڑی ہیں، اور پوچھنے کی باتیں بہت ہیں۔“ ناول بستی۔ انتظار حسين  ٹاٸپنگ: کش کمار

DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ

 [10:44 AM, 8/12/2020] +92 344 1386040: HE DAFFODILS....اردو منظوم ترجمہ By William Wordsworth... I wandered lonely as a cloud That floats on high o'er vales and hills, When all at once I saw a crowd, A host, of golden daffodils; Beside the lake, beneath the trees, Fluttering and dancing in the breeze. Continuous as the stars that shine And twinkle on the milky way, They stretched in never-ending line Along the margin of a bay: Ten thousand saw I at a glance, Tossing their heads in sprightly dance. The waves beside them danced; but they Out-did the sparkling waves in glee: A poet could not but be gay, In such a jocund company: I gazed—and gazed—but little thought What wealth the show to me had brought: For oft, when on my couch I lie In vacant or in pensive mood, They flash upon that inward eye Which is the bliss of solitude; And then my heart with pleasure fills, And dances with the daffodils. سیرِکہسار میں تنہا صفتِ ابرِ رواں محوِ نظارہ میں اک روز چلا جاتا تھا ناگہاں جھیل کنارے ن...

راحت_اندوری

 Rahat_Indori تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے  دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے   آتے جاتے ہیں کئی رنگ مرے چہرے پر  لوگ لیتے ہیں مزا ذکر تمہارا کر کے  ایک چنگاری نظر آئی تھی بستی میں اسے  وہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اشارہ کر کے  آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہے میں نے  چند مٹی کے چراغوں کو ستارہ کر کے  میں وہ دریا ہوں کہ ہر بوند بھنور ہے جس کی  تم نے اچھا ہی کیا مجھ سے کنارہ کر کے   منتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا آنکھ لگے  چاند کو چھت پر بلا لوں گا اشارہ کر کے راحت_اندوری

شام کے دھندلکے میں ایک ناری نظم

 شاعر:ڈی ایچ لارنس (برطانیہ) مترجم : رومانیہ نور (ملتان) * شام کے دھندلکے میں ایک ناری  کوملتا سے میرے لئے نغمہ سرا ہے یہ لمحہ مجھے  برسوں پہلے کے منظروں میں لے جا رہا ہے یہاں تک کہ میں دیکھتا ہوں جھنجھناتے تاروں کے بلند آہنگ میں پیانو تلے بیٹھا ایک بچہ ماں کے چھوٹے چھوٹے متوازن پاؤں دابتا ہے۔ ماں گاتی ہے اور اسے دیکھ کر مسکراتی ہے۔ مدہوش کُن گیت با دلِ نخواستہ مجھے  ماضی کے فریب میں لئے جاتا ہے میرا دل اتوار کی شاموں کو یاد کر کے آنسو بہاتاہے  جب باہر پڑتی سردی میں گرم نشست گاہ میں  پیانو کے سروں کے سنگ مناجات گونجتی تھیں اب سیاہ پیانو کی پر جوش دھن کے ساتھ  مغنیہ کا راگ الاپنا محض شورِ بے کار ہے بچپن کے دنوں کا نشہ مجھ پر چھایا ہے  میری جوانی افسردگی اور یادوں کے سیلاب میں بہی جاتی ہے میں یادِ ماضی میں اک بچے کی طرح روتا ہوں

جنگی قیدی عراقی افسانہ

 جنگی قیدی مصنفہ : مونا فاضل (عراق) مترجم: خلیل الرحمان کتاب: فلیش فکشن انٹرنیشنل 2015 ساحرہ دروازے کے فریم میں کھڑی اپنے بابا کو واضح  ہوتا دیکھ رہی تھی ، جبکہ صبح کا سورج اس کے دودھیا سفید باورچی خانے کو روشن کر رہا تھا۔وہ سنگ مرمر کی میز پر بیٹھا ایک ریڈیو ٹرانزسٹر کی تاروں کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہا تھا۔سورج کی دھوپ براہ راست اس پر سے گزر رہی تھی۔ساحرہ  نے اس کی طرف  ہاتھ بڑھایا مگر صالح شانے جھٹک کر اس سے ایسے غائب ہوا جیسے کہ سفید دیواروں پر سے سراب غائب ہوتا ہے۔ صالح اپنے سامنے پھیلے ہوئے برقی آلات کو حیرت سے تک رہا تھا۔وہ ایسے بالکل بھی نہیں لگ رہے تھے جیسے آج سے بیس برس قبل دکھتے تھے جب اسے پہلی بار ایرانیوں نے پکڑا تھا۔ اب وہ اپنا زیادہ تر وقت ان پر تحقیق میں گزارتا تھا۔قید میں، ہر شے یکسانیت کا شکار تھی۔قیدی ایک دوسرے کو ایک ہی کہانی بیسیوں بار سناتے تھے اور یوں ظاہر کرتے تھے جیسےکہ وہ اس کہانی کو پہلی بار سن رہے تھے۔ساحرہ اس کو دیکھ کر مسکرائی۔وہ اپنے کام میں مگن ایک چھوٹے بچے کے جیسے لگ رہا تھا۔ وہ سنک کی طرف ترکاری دھونے اور اسے خشک کرنے کیلیے بڑھی۔ ساحرہ...

یہ ساتھ کبھی نہ چھوٹے گ

 یہ ساتھ کبھی نہ چھوٹے گا تحریر: گوینتھ ہیوز ترجمہ : ایس. نقوی  قسط نمبر : 19 انڈیا میں تعینات ایک انگریز آفیسر کے بچے کی پر اسرار کہانی  یکایک بجلی کے تاروں میں گڑ بڑ شروع ہو گئی۔ بلب جلنے بجھنے لگے۔ خاتون سمیت، سارجنٹ اور Hannah بھی گھبرا گئے۔ باہر کھڑکی کے قریب کھڑا ٹام بھی ہراساں تھا۔ “ باہر کون ہے؟” Dorothea کی بہن Jasmine نے ڈری ہوئی آواز میں سارجنٹ سے پوچھا۔ اچانک وہ سارجنٹ کو تقریباً دھکا دیتے ہوۓ آگے بڑھی، دروازہ کھولا تو کھڑکی کی اوٹ میں ٹام کو کھڑے پایا۔ ٹام پر نظر پڑی تو چلائی، اور مارنے کے لیے دوڑی “ تم ، قاتل” اس کے پیچھے ہی سارجنٹ اور Hannah نکلے۔ سارجنٹ نے آگے بڑھ کے Jasmine کو پکڑا ۔ ٹام Jasmine سے بچنے کے لیے گاڑی کی طرف الٹے پاؤں بھاگا۔ ‏“Miss. Hutton ٹہرئیے” Hannah بھی Jasmine کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ “اس نے میری بہن Dorothea کو مار دیا۔” Jasmine روتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔ اس ساری افراتفری کے دوران سارجنٹ سہارا دے کر ٹام کو گاڑی میں بیٹھا رہا تھا۔ “ نہیں، نہیں ، اس نے آپ کی بہن کو نہیں مارا۔” Jasmine کو سنبھالتے ہوئے Hannah کہہ رہی تھی۔ “ یہ میری بہن...

ڈائری کا ایک ورق

 میں نے آج سارا دن اُس "اجنبی دوست" کے ساتھ القدس میں گزارا۔ وہ ایسے ایسے کوچوں میں اپنی موٹر لیے پھرا جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ ہم نے بہت باتیں کیں اور بہت کچھ خاموش بھی رہے ۔۔۔۔ اس نے میری زندگی اور لڑکپن کے زمانے کے حالات دریافت کیے تو میں نے اسے بتایا کہ کیسی کڑی پابندیاں تھیں جن میں مَیں نے اپنی زندگی کے وہ دن گزارے تھے اور کیسے میری نسوانیت قفس میں بند ایک زخمی پرندے کی طرح پھڑ پھڑاتی اور کراہتی تھی، اور نجات کی کوئی صورت اسے نظر نہ پڑتی تھی۔ گھر میں ہر چیز کی ممانعت تھی: ہنسنا، گانا اور عود بجانا، جو میرا پسندیدہ مشغلہ تھا اور میں نے چوری چھپے سیکھا تھا، یہ سب باتیں ممنوع تھیں۔ میں اُن دنوں ایک ایسے جوانِ رعنا کے خواب دیکھا کرتی تھی جس سے میں رشتۂ محبت استوار کرسکوں۔ مجھے اپنی اہم جنس لڑکیوں کی صحبت میں کبھی لطف نہ آتا اور نہ میں اس کی کبھی خواہش کرتی۔ میرا اجنبی دوست ہنسے بغیر نہ رہ سکا، جب میں نے اُسے یہ واقعہ سنایا کہ کیسے میرے والد، باوجود گھر میں اتنی بندشوں، تنگیوں اور پابندیوں کے، مجھے ترغیب دیتے کہ میں بھی اپنے مرحوم بھائی ابراہیم کی طرح سیاسی ...

بیگارِ محبت اُوہنری

 عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ  : بیگارِ محبت تحریر: اُوہنری (امریکا) مترجم: رومانیہ نور (ملتان، پاکستان) ''جب کوئی اپنے فن سے محبت کرتا ہے تو کوئی بھی کام مشکل نہیں لگتا۔''یہ ہماری تمہید ہے اور اسی سے ہی نتیجہ اخذ کریں گے۔ اور بیک وقت ظاہر کریں گے کہ ہماری تمہید غلط ہے۔ یہ منطق میں ایک نیا اضافہ اور قصہ گوئی میں جو کہ دیوارِ چین سے بھی پرانا فن ہے ایک کارِ نمایاں ہو گا۔ جو لارا بی وسطی مغرب میں رہتا تھا اور تصویر کشی کے فن میں ماہر تھا۔ چھ سال کی عمر میں اس نے قصبے سے گزرتے ہوئے ایک ممتاز شہری کی تصویر بنائی تھی۔ اس کاوش کو فریم کر کے ایک دواخانے میں غیر ہموار قطار میں لٹکا دیا گیا تھا۔ بیس سال کی عمر میں جب وہ نیو یارک روانہ ہوا تو اس کے گلے میں ایک جھولتی ہوئی نکٹائی اور جیب میں قلیل جمع پونجی تھی۔ ڈیلیا کارتھر بچپن سے ہی چھ درجے بلند آہنگ میں ہونہاری سے سرگم گا سکتی تھی۔ وہ جنوبی علاقے میں صنوبروں والے ایک خستہ حال گاؤں میں رہتی تھی۔ اس کے رشتہ داروں نے مل ملا کر اس کے لئے کچھ رقم اکٹھی کی تھی تاکہ وہ شمال میں جا کر اپنی موسیقی کی تعلیم مکمل کر سکے۔...

تُرکی افسانہ: تپتی دھوپ

 عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ:  تپتی دھوپ تحریر: یشار کمال (تُرکی) مترجم: کرنل (ر) مسعود اختر شیخ  (اسلام آباد ، پاکستان) بچہ: "اماں۔ ۔ اماں ! کل صبح سے پہلے مجھے  جگا دینا۔" "تم پھر نہیں جاگو گے۔" "ناجاگوں تو میرے جسم میں سوئی چبھونا، میرے بال کھینچنا، میری پٹائی کرنا۔" پیلے چہرے والی پتلی دبلی عورت کی سیاہ آنکھوں میں خوشی سےبھرپور چمک دوڑ گئی۔  "اور اگر تم پھر بھی نہیں جاگے تو؟" "مجھے مار ڈالنا۔" عورت نے اپنی پوری قوت سے بیٹے کو  گود میں لے کر سینے سے دباتے ہوئے کہا: "میری جان!" "اگر میں پھر بھی نہ جاگا تو۔۔۔۔۔" یہ کہہ کر بچہ سوچ میں ڈوب گیا۔ پھر اچانک بول اُٹھا؛ "تو پھر میرے منہ میں مرچیں ڈال دینا۔" ماں نے ایک بار پھر اسی مادری شفقت کے ساتھ بچے کو چھاتی سے لگا کربوسہ دیا۔ ماں کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔  بچے نے رُکے بغیر پھر کہا، "دیکھو اماں۔۔ اگر میں نہ جاگا تو میرے منہ میں مرچیں ڈال دینا۔۔ ٹھیک ہے ناں؟" ماں نے پھر کہا ۔ "میری جان!" "مرچیں خوب کڑوی ہونی چاہیں۔...

جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا

 ~ جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا ~ گئے وقتوں کی بات ہے اب تو میں  اپنا خواب بھول چکُا تھا ہاں مگر اُس وقت  وہ وہیں تھا آفتاب کی  تابناکی لئے  وہ وہیں پہ مرے سامنے ہی تھا پھر اک دیوار کھڑی ہونا شروع ہوئی آہستہ  آہستہ سے، میرے  اور میرے خواب کے درمیان دیوار اتنی بُلند ہوتی گئی  کہ آسماں چھونے لگی اُس دیوار نے ایک اندھیرا سا کردیا ایک اداس سی تاریکی ہر سُو چھا گئی اور میں اُس تاریکی میں لپٹ گیا میرے خواب کی روشنی بند ہوچکی تھی میرے سامنے بس یہ موٹی دیوار اور  اسکا اُداس اندھیرا تھا میرے ہاتھو ،  میرے سیاہ ہاتھو ! اس دیوار میں سوراخ کر ڈالو میرے خواب کو ڈھونڈھ نکالو تاریکی ختم کرنے میں  مدد کرو اس رات کو بھسم کر ڈالو اس سائے کو بھی جلا ڈالو اسے ہمیشہ کیلئے بدل ڈالو  ہزار آفتابوں کی تابناکی  اور ہزار خوابوں کی روشنی میں۔۔ شاعر    :    لینگسٹن ہیوجز ترجمہ    :    نودخان

نامکمل اور مکمل رات

  نامکمل اور مکمل رات      .............................. شام ہوئی اور ہاتھ لکیروں نے لب کھولے دن بھر اٹا رہا تھا دھول میں جو ڈر جاگا دیواروں پر سوچ کے نیزے ابھرے اور آنگن میں درد کھلا چاند پرانا دکھی مسافر شہروں شہروں پھرتا رہے گا وقت اک المیہ گیت کی صورت دشتِ شب میں بہتا رہے گا بانجھ ہواوں کی دہلیز پہ بیٹھے رہنا کتنی چیزیں ہیں جن کو ہم جان سکیں گے کتنی سوچیں جن کے پیکر دیکھ سکیں گے رستے، سپنے اور دکھ تمہیں یقیں ہے جس رستے پر چلتے چلتے تم نے عمر بتائی ہے وہی تمہارا رستہ تھا؟ نہ بھی ہو تو اس میں دوش بھی کس کا ہے مشکل یہ ہے ہم لاعلم ہیں کس کے ہاتھ میں سمت نما ہے اور جس کے ہاتھ میں سمت نما ہو اس کی سمت؟ اور اندھیرا ڈر لگتا ہے جو بولیں گے کھو جائے گا اک بے چاپ اداسی آنکھوں کی گلیوں میں پھرتی رہے گی دل سہما حیران پرندہ شاخِ بدن پر بیٹھا رہے گا بیٹھا رہے گا تکتا رہے گا رات کا سایہ بڑھتا رہے گا      ....................................... حسین عابد " اُتری کونجیں" سے

فوزيه سومرو.

 فوزيه سومرو.  ورسي 4 سيپٽمبر  ٿر جي مشهور عوامي فنڪاره فوزيه سومرو جو اصل نالو حڪيمان هو. هن ويراواهه لڳ تعلقي ننگرپارڪر جي ڳوٺ کارسر ۾، 1969ع ۾ ناٿـي خـان جـي گهـر ۾ جنم ورتو. سندس والد ٽنڊي محمد خان جي شگر مل ۾ ملازم هو ۽ اتي حمد ۽ نعتون ڳائيندو هو. اڳتي هلي، لڏي پلاڻي ٽنڊي محمد خان ۾ اچي ويٺو، جتي فوزيه سومرو مئٽرڪ پاس ڪئي ۽ سورهن سترهن ورهين جي ڄمار ۾ ڳائڻ شروع ڪيائين. سندس تعلق بنيادي طرح مذهبي گهراڻي سان هو، جنهنڪري کيس فن جي دنيا ۾ اچڻ وقت ڪافي ڏکيائيون پيش آيون، پر پنهنجي شوق جي تڪميل خاطر مائٽن کان چوريءَ ننڍن ننڍن فنڪشنن ۽ پروگرامن ۾ ڳائيندي رهندي هئي. 1987ع ڌاري ريڊيو پاڪستان حيدرآباد تي نامور براڊڪاسٽر نصير مرزا کيس متعارف ڪرايو ۽ سندس آواز ۾ ٻه ڪلام ’بي قدرا قدر نه ڪيئي ڪو‘ ۽ ’ڇڏي ويا ساٿي سکن جا‘ رڪارڊ ڪيا، جن ٻڌندڙن ۾ ڪافي مقبوليت حاصل ڪئي. فوزيه سومرو راڳ جي باقاعدي سکيا استاد مجيد خان ۽ غلام حسين ڪليريءَ کان ورتي. سندس آواز ۾ ڪافي درد هو. فوزيه سومرو سنڌي عورت فنڪارائن ۾ واحد فنڪاره هئي، جنهن کي وڌ ۾ وڌ ٻُڌو ۽ پسند ڪيو ويو آهي. سندس ڪلامن سنڌ جي جهرجهنگ ...

رومانوي ۽ انقلابي شاعر پئبلو نئرودا

 رومانوي ۽ انقلابي شاعر پئبلو نئرودا منيش جئپال "اھا اسان جي ذميواري آھي ته اسين انھن خوابن کي جاڳائي ساڀيان ڏيون جيڪي دنيا جي قديم تھذيبن جي آثارن ۽ پٿرن ۾ دفن ٿيل آھن اھي خواب جيڪي مٽي اندر يا گھاٽي جھنگ ۾ ٻوساٽيل آھن" ھي اھي لفظ آھن جيڪي چلي جي عظيم شاعر پئبلو نرودا نوبل ايوارڊ ماڻڻ وقت پنھنجي تقرير ۾ اچاريا ھئا اھو پئبلو نرودا جنھن لکيو ھو تہ "اوھان سمورن گلن جا سر ڪٽي سگهو ٿا، پر بهار جي مند کي اچڻ کان روڪي نٿا سگهو." اھو پئبلو نرودا جنھن لئہ نوبل انعام جو اعزاز رکندڙ گارشيا مارڪيز لکيو ھو ته “20 هين صدي جي ڪنهن به ٻولي جو عظيم شاعر آهي". اھو پئبلو نرودا جنھن جي شاعري ۾ پئبلو پڪاسو جي تصويرن جيان ڌرتي جي سڳنڌ ۽ ڪائنات جا رنگ سمايل آھن اھو پئبلو نئرودا جنھن پنهنجي زندگي ۽ شاعري چليءَ جي ماڻهن کي ارپي ڇڏي. چلي جي ان عظيم شاعر جو جسماني وڇوڙو 1973 ۾ ٿيو پر سندس شاعري اڄ بہ نوجوان توڙي ھر فرد جي دلين تي راج ڪري ٿي پئبلو نيروُدا جيڪو 12 جولاءِ 1904ع تي ڏکڻ چليءَ ۾ ڄائو (چلي، لاطيني آمريڪا جو اهو بدنصيب ملڪ جيڪو هميشه آمريڪا جي، سي- آءِ- اي جي سازشن جو شڪار رهيو...